جمعہ کے دن "جمعہ مبارک" کہہ کر مبارک باد دینا بظاہر غیر مشروع ہے، البتہ اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی کے لیے جمعہ کے دن دعا کرے، اس نیت سے کہ اس کی دلجوئی ہو، اسے خوشی پہنچائی جائے اور دعا کے لیے قبولیت کی گھڑی کی تلاش کی جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
"جمعہ مبارک" کہنے کا حکم
سوال 134741
جمعہ کے دن مبارک باد دینے کا کیا حکم ہے؟ آج کل ہمارے ہاں یہ معمول بن گیا ہے کہ جمعہ کے دن موبائل پر پیغامات بھیجے جاتے ہیں، اور لوگ ایک دوسرے کو "جمعہ مبارک" یا "جمعہ طیبہ" کہہ کر مبارک باد دیتے ہیں؟
جواب کا خلاصہ
جواب کا متن
جمعہ کے دن کی فضیلت
اس میں کوئی شک نہیں کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’یہ ایک عید کا دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے عید بنایا ہے، لہٰذا جو جمعہ کے لیے آئے تو وہ غسل کرے، اگر خوشبو میسر ہو تو اسے لگائے، اور جمعہ کے آپ مسواک لازمی کریں۔‘‘ اسے ابن ماجہ (1098) نے روایت کیا ہے، اور امام البانی نے "صحیح ابن ماجہ" میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ جمعہ کے دن کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’تیرہویں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایسا دن ہے جو ہر ہفتے آنے والی عید ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: "زاد المعاد" (1/369)
اس طرح مسلمانوں کے تین عیدیں ہیں: عید الفطر اور عید الاضحیٰ، جو ہر سال ایک بار آتی ہیں، اور جمعہ، جو ہر ہفتے ایک بار آتی ہے۔
"جمعہ مبارک" کہنے کا حکم
جہاں تک مسلمانوں کا عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینا ہے، تو یہ مشروع ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، جیسا کہ اس کی تفصیل سوال نمبر (49021) اور (36442) میں گزر چکی ہے۔
لیکن جمعہ کے دن مبارک باد دینے کے بارے میں بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشروع نہیں ہے؛ کیونکہ جمعہ کے عید ہونے کا علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی تھا، اور وہ اس کی فضیلت کو ہم سے زیادہ جاننے والے تھے، اور اس کی تعظیم میں ہم سے بڑھ کر تھے، لیکن ان سے یہ منقول نہیں کہ وہ جمعہ کے دن ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے تھے، اور یہ بات مسلمہ ہے کہ ہمہ قسم کی خیر انہی تابعداری کرنے میں پنہاں ہے۔
شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ہر جمعہ کو موبائل پیغامات بھیج کر آخر میں "جمعہ مبارک" لکھنے کا کیا حکم ہے؟
تو انہوں نے فرمایا:
’’سلف جمعہ کے دن ایک دوسرے کو مبارک باد نہیں دیتے تھے، لہٰذا ہم کوئی ایسی چیز ایجاد نہ کریں جو انہوں نے نہیں کی۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از جوابات: "مجلة الدعوة الإسلامية "
اسی طرح شیخ سلیمان الماجد حفظہ اللہ نے بھی یہی فتویٰ دیا، وہ کہتے ہیں:
’’ہم جمعہ کے دن مبارک باد دینے کو مشروع نہیں سمجھتے، جیسے کہ کچھ لوگ کہہ دیتے ہیں: "جمعہ مبارک" وغیرہ؛ کیونکہ یہ عمل دعا اور اذکار کے باب میں داخل ہے، اور اس میں وہی الفاظ معتبر ہوتے ہیں جو منقول ہوں، اور یہ خالص عبادت کا معاملہ ہے۔ اگر یہ خیر ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ہم سے پہلے اس پر عمل کرتے۔ اور اگر اس کو جائز کہا جائے تو پھر لازم آئے گا کہ پانچوں نمازوں کے بعد اور دیگر عبادات کے مواقع پر بھی اسی طرح کی مبارک باد اور دعائیں مشروع قرار دی جائیں، حالانکہ سلف نے ان مقامات پر ایسا نہیں کیا۔‘‘ ختم شد
شیخ کی ویب سائٹ سے ماخوذ۔
البتہ اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی کے لیے جمعہ کے دن دعا کرے، اس نیت سے کہ اس کی دلجوئی ہو، اسے خوشی پہنچائی جائے اور دعا کے لیے قبولیت کی گھڑی کی تلاش کی جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ اعلم
ماخذ:
الاسلام سوال و جواب