جمعہ 17 ذو القعدہ 1440 - 19 جولائی 2019
اردو

ایک شخص نے سودی بینک سے قرضہ لیا تو کیا اس پر زکاۃ ہوگی؟

سوال

سوال: میں نے سودی بینک سے ایک ملین ریال اپنی انتہائی شدید ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا کہ میں اس قرضے کو پانچ سال کے عرصے میں واپس کر دونگا، اور جس مقصد کیلئے میں نے یہ قرضہ اٹھایا تھا اس میں سے ابھی تک کچھ بھی حاصل نہیں کر پایا اور مجھے قرضہ لیے ہوئے ایک سال گزر چکا ہے، تو کیا اس میں زکاۃ واجب ہوگی؟ اور کیا میں اس رقم کو استعمال بھی کر سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

بینک یا کسی اور جگہ سے قرض خواہ کو منافع دینے کے بدلے میں قرضہ لینا جائز نہیں ہے، چاہے ضرورت ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ قرض کا اصل مقصد ہمدردی، اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا ہوتا ہے، اور اگر قرض خواہ قرضے کی واپسی کیساتھ منافع بھی طلب کرے تو اس سے قرضے کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے، اور یہ اصول ہے کہ: "جو بھی قرضہ منافع سے مشروط ہو  تو وہ سود ہے"

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
"مسلمانوں کی سالمیت کو تحفظ دینے اور عیسائی مشنری  کا مقابلہ کرنے کیلئے سودی بینکوں سے قرضہ لینا جائز ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اگر یہ قرضہ سودی منافع کیساتھ ہے تو سلف صالحین کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ کتاب و سنت کی روشنی میں ایسا کرنا حرام ہے، اگرچہ اس عمل کا مقصد بہت اعلی اور بلند ہو؛ کیونکہ اعلی مقاصد کے حصول کیلئے حرام امور کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، ہاں اگر قرضہ بغیر کسی سودی منافع کے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لئے اگر ممکن ہو سکے تو صرف حلال روزی والے سرمایہ داروں سے قرضہ لیں  یہی محتاط، اور بہتر امر ہے" انتہی
"مجموع فتاوى" (19/284)

مزید کیلئے سوال نمبر: (9054)  اور (39829) کا مطالعہ کریں۔

دوم:

اس حرام کام سے توبہ کرنا آپ پر لازمی ہے، اس کیلئے آپ اپنے کیے پر ندامت  کا اظہار کریں، اور فوری طور پر اس رقم کو واپس کر دیں، اور یہ پختہ عزم کریں کہ آئندہ یہ عمل دوبارہ نہیں کرینگے، رقم واپس کرتے ہوئے آپ صرف اصلی رقم ہی واپس کریں، اضافی رقم مت دیں، اور اگر آپ کو اضافی رقم دینے پر مجبور کیا جائے تو اس کا گناہ ان پر ہوگا، کیونکہ آپ سودی لین دین سے توبہ کر چکے ہیں۔

نیز آپ  اس مال کو شرعی  ذرائع معاش میں لگا کر اس سے روزی کما سکتے ہیں۔

 مزید کیلئے سوال نمبر:  (9700) اور (2379) کا جواب ملاحظہ کریں۔

سوم:

علمائے کرام کے صحیح ترین قول کے مطابق بینک سے لی ہوئی رقم  پر زکاۃ دینا آپ پر لازمی ہے، بشرطیکہ  نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر چکا ہو۔

مزید کیلئے سوال نمبر: (22426) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں