تعزیت کا مقصد مصیبت زدہ کو صبر کی تلقین کرنا ہے، اور اس کے لیے شریعت میں کوئی خاص الفاظ مقرر نہیں کیے گئے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ الفاظ کہے جائیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعزیت کے موقع پر ارشاد فرمائے، جیسے: { إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ}’’بیشک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کی اس کے ہاں ایک مقرر مدت ہے، لہٰذا تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو‘‘۔
عام طور پر کہے جانے والے تعزیتی الفاظ یہ ہیں: {عَظَّمَ اللهُ أَجْرَكَ، وَأَحْسَنَ اللهُ عَزَاءَكَ، وَغَفَرَ لِمَيِّتِكَ، أَلْهَمَكَ اللهُ صَبْرًا، وَأَجْزَلَ لَنَا وَلَكَ بِالصَّبْرِ أَجْرًا } ’’اللہ تعالیٰ آپ کا اجر عظیم فرمائے، آپ کے غم میں آسانی فرمائے، آپ کے مُردے کو بخش دے، اور آپ کو صبر عطا فرمائے، اور ہمیں اور آپ کو اس صبر پر اجر جزیل عطا فرمائے۔
تعزیت کے موقع پر کہے جانے والے بہترین کلمات
سوال 157213
کیا کسی کی تعزیت کرتے ہوئے صرف مخصوص الفاظ ہی کہے جا سکتے ہیں؟
جواب کا خلاصہ
جواب کا متن
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
تعزیت کا مطلب یہ ہے کہ مصیبت زدہ شخص کو صبر کی طرف مائل کیا جائے۔ تعزیت کے لیے شرعاً کوئی مخصوص یا مقرر شدہ الفاظ نہیں ہیں۔ افضل یہ ہے کہ وہ الفاظ کہے جائیں جن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تعزیت فرمائی، جیسے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ’’بیشک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کی اس کے ہاں ایک مقرر مدت ہے ، لہٰذا تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو۔‘‘
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تعزیت میں کوئی مقرر (یعنی متعین) الفاظ نہیں۔‘‘ (الأم 1/317)
ابن قدامہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ہمیں تعزیت کے بارے میں کوئی متعین الفاظ منقول نہیں ملے۔‘‘ (المغنی 2/212)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تعزیت کے لیے کوئی خاص الفاظ نہیں، بلکہ مسلمان اپنے بھائی کے ساتھ ایسے مناسب کلمات کے ذریعے تعزیت کر سکتا ہے، جیسے: (أَحْسَنَ اللهُ عَزَاءَكَ وَجَبَرَ مُصِيْبَتَكَ وَغَفَرَ لِمَيِّتِكَ)یعنی: اللہ تعالیٰ تمہیں صبرِ جمیل عطا فرمائے، تمہارے غم پر تمہیں تسلی اور دل جوئی نصیب کرے، تمہاری مصیبت کی تلافی فرمائے، اور تمہارے مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ یہ الفاظ تب کہے جائیں جب میت مسلمان ہو۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ 13/380)
شیخ الألبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تعزیت ان الفاظ سے کی جائے جو مصیبت زدہ کے غم کو کم کریں، اسے تسلی دیں، اس کو رضا اور صبر کی طرف مائل کریں؛ اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول الفاظ معلوم ہوں تو انہی کو استعمال کرنا بہتر ہے، ورنہ کوئی بھی اچھے الفاظ کہہ دیے جائیں جو مقصد پورا کریں اور شرع کے خلاف نہ ہوں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ أحکام الجنائز ‘‘(1/163)
چنانچہ بہتر یہ ہے کہ مصیبت زدہ کو وہی الفاظ کہے جائیں جن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کو تعزیت دی تھی: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ’’بیشک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کی اس کے ہاں ایک مقررہ مدت ہے؛ لہٰذا تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو۔‘‘ اسے بخاری (1284) اور مسلم (923) نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح ’’الجوهرة النيرة‘‘ (1/110) میں ہے: ’’تعزیت کے الفاظ یہ ہیں: {عَظَّمَ اللهُ أَجْرَكَ، وَأَحْسَنَ اللهُ عَزَاءَكَ، وَغَفَرَ لِمَيِّتِكَ، أَلْهَمَكَ اللهُ صَبْرًا، وَأَجْزَلَ لَنَا وَلَكَ بِالصَّبْرِ أَجْرًا }’اللہ تعالیٰ تمہارا اجر عظیم فرمائے، اور تمہاری غم کی حالت میں بہترین انداز سے ڈھارس باندھے، تمہاری میت کو بخش دے، تمہیں صبر عطا فرمائے، اور ہم دونوں کو اس صبر پر بڑا اجر عطا فرمائے۔‘ اور اس سے بہتر وہ تعزیت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیٹی کو دی تھی جب ان کا بیٹا فوت ہو گیا تھا، آپ نے فرمایا: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ’’بیشک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کی اس کے ہاں ایک مقررہ مدت ہے؛ لہٰذا تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو۔‘‘ ‘‘
شیخ الألبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ تعزیتی الفاظ اگرچہ اس شخص کے بارے میں منقول ہیں جو قریب المرگ تھا، لیکن جس کی موت یقینی ہو چکی ہو اس کے لیے تعزیت میں ان الفاظ کو استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے، جیسا کہ حدیث کے سیاق سے واضح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام نووی نے ’الأذکار‘ میں کہا ہے: ’یہ حدیث تعزیت کے لیے سب سے بہتر الفاظ پر مشتمل ہے۔‘‘‘ (أحکام الجنائز 1/164)
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تعزیت کا سب سے بہتر اسلوب وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کو فرمایا تھا…‘‘ پھر انہوں نے مذکورہ حدیث بیان کی۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا: ’’اور جو الفاظ عام طور پر مشہور ہیں، جیسے: { عَظَّمَ اللهُ أَجْرَكَ، وَأَحْسَنَ اللهُ عَزَاءَكَ، وَغَفَرَ لِمَيِّتِكَ } ’اللہ تعالیٰ تمہارا اجر عظیم فرمائے، تمہیں بہترین انداز میں حوصلہ و ہمت دے، اور تمہاری میت کو بخش دے‘—یہ الفاظ اگرچہ بعض علما نے منتخب کیے ہیں، لیکن سنت میں وارد الفاظ زیادہ بہتر اور زیادہ کامل ہیں۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ 17/339)
واللہ اعلم
ماخذ:
الاسلام سوال و جواب