بدھ 4 ربیع الثانی 1440 - 12 دسمبر 2018
اردو

جس کے ملک میں کوئی غریب مسلمان نہیں ہے تو وہ قربانی کا گوشت کیسے تقسیم کرے؟

سوال

سوال: میں بیرون ملک زیر تعلیم ہوں اور قربانی کرنا چاہتا ہوں، میں یہ جانتا ہوں کہ قربانی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک تہائی گھر کیلئے ، ایک تہائی بطور ہدیہ اور ایک تہائی غریبوں میں صدقہ کرنے کیلئے، یہ واضح رہے کہ جس شہر میں میں پڑھ رہا ہوں یہاں غریب مسلمان نہیں پائے جاتے ، چنانچہ میرے شہر میں مقیم مسلمان یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک تہائی قربانی کا گوشت اسلامی مرکز کو صدقہ کر دیتے ہیں، تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟ یا اس مسئلے کے دیگر ممکنہ حل کون کونسے ہیں، مجھے ان کے بارے میں آگاہ کریں، جزاکم اللہ خیراً

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے  کا ذکر بعض صحابہ کرام سے منقول ہے، اس لئے گوشت تقسیم کرنے کیلئے کوئی بھی انداز اپنایا جا سکتا ہے، ضروری امر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے کچھ نہ کچھ حصہ فقراء اور مساکین تک پہنچنا چاہیے۔

چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: "عید یا حج کی قربانی  میں سے ایک تہائی آپ کے رشتہ داروں کیلئے، ایک تہائی ذاتی استعمال کیلئے، اور ایک تہائی حصہ غریبوں کیلئے ہوتا ہے"

نیز ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کا موقف منقول ہے۔

دوم:

اگر قربانی کرنے والا شخص کسی ایک غریب مسلمان کو بھی  قربانی کا گوشت کھلا  دے  تو وہ اس کے بعد دیگر مسلمانوں میں بقیہ گوشت کو تقسیم کر سکتا ہے۔

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"قربانی کے گوشت میں سے کافر کو بھی کھلانا جائز ہے، اسی کے حسن بصری، ابو ثور اور اصحاب الرائے قائل ہیں ؛ کیونکہ یہ بھی ایک نفلی صدقہ ہے، اس لئے دیگر عام صدقات کی طرح قربانی کا گوشت ذمی اور قیدی کو  بھی دیا جا سکتا ہے، تاہم فرض صدقات  کافر کو دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ فرض صدقہ ہونے کی وجہ سے اس کی مشابہت زکاۃ اور قسم کے کفارے سے ہوگی"
"المغنی " ( 11 / 109 )

اس بنا پر جب آپ اپنی قربانی کریں تو  کسی بھی غریب مسلمان مسکین کو تلاش کر کے اسے کچھ نہ کچھ دے دیں، اور بقیہ گوشت  کے بارے میں آپکو مکمل اختیار حاصل  ہے، چاہے آپ اسے محفوظ کر لیں، یا تحفہ دے دیں، یا صدقہ کر دیں، نیز آپ غیر مسلموں کو بھی اس گوشت میں سے دے سکتے ہیں ، بلکہ عین ممکن ہے  کہ ایسے غیر مسلم افراد اسلام کے قریب  ہو جائیں۔

اور اگر کسی غریب مسلمان کے بارے میں آپ کو علم نہیں ہے تو پھر آپ اسلامی مراکز میں جمع کر وا سکتے ہیں کہ وہ خود ہی غریب لوگوں کو تلاش کر کے قربانی کا گوشت ان تک پہنچا دیں، لہذا اسلامی مرکز کو قربانی کا گوشت دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں