اول:
اگر پہلی کمپنی نے معاہدے کے آغاز میں یہ شرط رکھی تھی کہ آپ ایک مقررہ مدت تک کسی مد مقابل کمپنی یا اسی نوعیت کی کمپنی میں کام نہیں کریں گے، اور آپ نے اس شرط کو قبول بھی کیا تھا، تو اس صورت میں مقررہ مدت پوری ہونے سے پہلے آپ کے لیے کسی دوسری کمپنی میں کام کرنا جائز نہیں ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ ایسی تمام شرائط درست اور نافذ ہوتی ہیں جو شرع کے خلاف نہ ہوں، اور وہ تمام معاہدوں میں معتبر ہیں۔ ‘‘
’’الفتاویٰ الکبریٰ‘‘ (5/389) سے اقتباس ختم ہوا۔
لیکن اگر پہلی کمپنی نے آپ پر اس قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی تھی، تو پھر آپ کے لیے کسی بھی دوسری کمپنی میں کام کرنا جائز ہے، چاہے وہ پہلی کمپنی کی مقابل ہی کیوں نہ ہو۔
دوم:
ملازم کو اپنے سابقہ کام کے دوران تین طرح کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں:
- مہارتیں، تجربات اور صلاحیتوں میں اضافہ۔
- وہ معلومات اور راز جو سابقہ کمپنی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہوں—جیسے مالی حیثیت کی تفصیلات، بینک اکاؤنٹس، بیلنس، خفیہ تعلقات وغیرہ۔
- وہ روابط اور معلومات جو ملازم نے کام کے دوران حاصل کیے ہوں، مثلاً افراد سے تعارف، روابط کی فہرستیں، ای میل لسٹیں، گاہکوں کے نمبر اور پتے وغیرہ۔
ان تینوں اقسام کے حکم کی تفصیل یہ ہے:
1- پہلی قسم:
یعنی مہارتیں، تجربات، صلاحیتوں میں اضافہ—تو اس سے فائدہ اٹھانا بالکل درست ہے، بلکہ عام طور پر نئے ادارے اسی تجربے کی بنیاد پر ملازم کو رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس میں شرعاً کوئی اشکال نہیں۔
2- دوسری قسم:
یعنی سابقہ کمپنی کے راز اور خفیہ معلومات—تو ان کا افشا کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں کمپنی کی نجی معلومات کو ظاہر کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے کا واضح اندیشہ ہے۔
راز امانت ہوتے ہیں، اور یہ بھی عہد کی ایک قسم ہیں جن کی حفاظت لازم ہے۔
سوال نمبر (27190) کے جواب میں ’’راز فاش کرنے‘‘ کا حکم بیان ہو چکا ہے۔
3- تیسری قسم:
یعنی وہ معلومات اور ڈیٹا جو ملازم کے پاس اس کے کام کے دوران آیا—تو اس کا حکم تفصیل کا محتاج ہے:
الف- وہ معلومات اور فہرستیں جن کی تیاری پر کمپنی نے اپنا مال خرچ کیا ہو، جیسے گاہکوں کے باقاعدہ تیار شدہ ڈیٹا بیس، وہ مخصوص سسٹمز اور پروگرام جن پر وقت اور سرمایہ لگایا گیا ہو، اور وہ معلومات جن کی تدوین کے لیے کمپنی کے افراد کو لگایا گیا ہو تو ایسی معلومات کو نقل کرنا، اٹھانا یا نئی کمپنی میں استعمال کرنا جائز نہیں، الا یہ کہ پہلی کمپنی اس کی اجازت دے۔
ب- لیکن وہ معلومات، تعلقات، ای میل ایڈریسز، گاہکوں کے نمبر وغیرہ جو آپ نے ذاتی محنت، سفر، ملاقاتوں یا ذاتی روابط کے ذریعے حاصل کیے ہوں— تو ان سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، اور آپ اپنے نئے کام میں انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
واللہ اعلم