ہفتہ 14 محرم 1446 - 20 جولائی 2024
اردو

مسلمان کے مسلمان پر حقوق کچھ واجب ہیں اور کچھ مستحب ہیں۔

سوال

مسلمان کے مسلمان پر حقوق کے حوالے سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث کا علم ہے، میرا سوال یہ ہے کہ: اگر ہم ان حقوق میں سے کسی حق کو ادا نہیں کر پاتے تو کیا ان کا ہم پر گناہ بھی ہو گا؟

آپ کا ویب سائٹ کی شکل میں یہ کام بہت بڑا عظیم کارنامہ ہے اور ہم آپ کے اس کام پر شکر گزار ہیں۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

مسلمان کے مسلمان پر حقوق بہت زیادہ ہیں، ان میں سے کچھ عینی طور پر واجب ہیں کہ ہر شخص انہیں ادا کرے گا، اگر کوئی چھوڑ دے گا تو گناہ گار ہو گا۔ اور کچھ حقوق واجب کفائی ہیں، یعنی اگر کچھ لوگ اس حق کو ادا کر دیں تو بقیہ سب پر ادا کرنا لازم نہیں ہو گا، کچھ حقوق مستحب ہیں واجب نہیں ہیں اگر ان میں سے کوئی حق رہ جائے تو مسلمان کو گناہ نہیں ہو گا۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: (مسلمان کے مسلمان پر 5 حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، تدفین کے لیے جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک لینے والے کو الحمد للہ کہنے پر یرحمک اللہ کہنا۔) اس حدیث کو امام بخاری: (1240) اور مسلم : (2162) نے روایت کیا ہے۔

مسلم: (2162) میں ہی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں) کہا گیا: وہ کون سے ہیں؟ اللہ کے رسول ! تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب آپ مسلمان سے ملیں تو اسے سلام کہیں، جب وہ آپ کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کریں، اور جب وہ آپ سے مشورہ طلب کرے تو اسے اچھا مشورہ دیں، اور جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو یرحمک اللہ کے ساتھ جواب دے، اور جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے اور جب فوت ہو جائے تو تدفین کے لیے ساتھ جائے۔)

علامہ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہاں مسلمان کے مسلمان پر حق سے مراد یہ ہے کہ ان کاموں کو بلا وجہ ترک نہ کریں، ان کاموں میں سے کچھ واجب ہیں، تو کچھ ایسے واجب جیسے مؤکد مندوب ہیں کہ جنہیں ترک کرنا اچھا عمل نہیں ہے۔ اس صورت میں لفظ حق کا استعمال دو معانی کے لیے مشترک الفاظ کے طور پر ہو گا ؛ کیونکہ حق کا لفظ واجب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یہ ابن الاعرابی نے ذکر کیا ہے۔ اسی طرح حق کا لفظ ثابت، لازم، اور سچ سمیت دیگر معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہاں حق سے مراد حرمت اور صحبت ہے۔" ختم شد
"نيل الأوطار" (4/21)

1- اگر سلام ایک فرد کو کیا جائے تو سلام کا جواب دینا فرض ہے، اور اگر پوری جماعت کو سلام کہا جائے تو یہ فرض کفایہ ہے۔ جبکہ سلام میں پہل کرنے کے حوالے سے اصل یہ ہے کہ یہ سنت ہے۔
جیسے کہ "الموسوعة الفقهية" (11/314) میں ہے کہ:
"پہل کرتے ہوئے سلام کرنا سنت مؤکدہ ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (آپس میں سلام عام کرو) اگر سلام ایک شخص کو کیا جائے تو سلام کا جواب دینا واجب ہے، اور اگر سلام پورے گروپ کو کیا جائے تو سلام کا جواب دینا فرض کفایہ ہے، چنانچہ اگر کوئی ایک شخص سلام کا جواب دے دے تو بقیہ پر جواب نہ دینے کی وجہ سے کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر سب کے سب جواب دیں تو سب ہی فرض ادا کر دیں گے چاہے اکٹھے جواب دیں یا آگے پیچھے جواب دیں، اور اگر کوئی بھی جواب نہ دے تو سب کو گناہ ہو گا؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا ۔۔۔)" ختم شد

2-مریض کی عیادت کرنا فرض کفایہ ہے، الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مسلمان مریض کی عیادت کرنا فرض کفایہ ہے۔" ختم شد
"مجموع فتاوی و رسائل ابن عثیمین" (13 /1085)

3-جنازے کے ہمراہ چلنا بھی فرض کفایہ ہے، اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (67576 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

4-دعوت قبول کرنے کے حوالے سے یہ ہے کہ اگر ولیمے کی دعوت ہو تو جمہور اس دعوت کو قبول کرنا واجب کہتے ہیں، ہاں اگر کوئی شرعی عذر ہو تو ان کے ہاں بھی عدم شرکت کی گنجائش ہے۔ لیکن اگر دعوت ولیمے کی نہیں ہے تو جمہور ایسی دعوت قبول کرنے کو مستحب کہتے ہیں۔ تاہم دعوت قبول کرنے کی کچھ عمومی شرائط ہیں انہیں جاننے کے لیے آپ سوال نمبر: (22006) کا مطالعہ کریں۔

5-چھینک لے کر الحمد للہ کہنے والے کو یرحمک اللہ کہنے کے حکم میں اختلاف ہے۔

چنانچہ "الموسوعة الفقهية" (4/22) میں ہے کہ:
"شافعی علمائے کرام کے ہاں یہ سنت ہے، جبکہ حنبلی -ایک موقف کے مطابق -اور حنفی فقہائے کرام کے ہاں یہ واجب ہے۔
مالکی فقہا کا کہنا ہے کہ: حنابلہ کا معتمد - دوسرا - موقف فرض کفایہ ہے۔ اور البیان سے نقل کیا گیا ہے کہ مالکی فقہائے کرام کے ہاں مشہور موقف اس کے فرض ہونے کا ہے؛ کیونکہ حدیث مبارکہ ہے کہ: (ہر مسلمان پر لازم ہے کہ چھینک لینے پر الحمد للہ سننے والا چھینک لینے والے کو کہے: یرحمک اللہ)" ختم شد

ان تمام اقوال میں سے قوی ترین قول یہ ہے کہ چھینک لینے والا الحمدللہ کہے تو اسے جواب میں یرحمک اللہ کہنا واجب ہے، اس کی دلیل صحیح بخاری : (6223) میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یقیناً اللہ تعالی چھینک پسند فرماتا ہے اور جماہی پسند نہیں فرماتا، چنانچہ جب کوئی چھینک لے اور الحمدللہ کہے تو ہر الحمدللہ سننے والے مسلمان پر حق ہے کہ وہ اسے یرحمک اللہ کہے۔)

امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"پہلے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزر چکا ہے کہ: (جب تم میں سے کوئی چھینک لے، اور الحمدللہ کہے تو سننے والے ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ یرحمک اللہ کہے) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت پر امام ترمذی نے یہ باب قائم کیا ہے کہ: "باب ہے اس بیان میں کہ: چھینک لینے والا شخص الحمد للہ کہے تو اسے یرحمک اللہ کہنا واجب ہے۔" اس باب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام ترمذی کے ہاں یہ عمل واجب ہے۔ اور یہی موقف درست ہے؛ کیونکہ اس حوالے سے احادیث بالکل واضح ہیں اور اس وجوب کے مقابلے میں کوئی عدم وجوب کی دلیل بھی نہیں ہے۔ واللہ اعلم

تو وجوب کی احادیث میں پہلے بیان شدہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے اور اسی طرح ان کی ایک اور حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ : (پانچ چیزیں ایسی ہیں جو مسلمان پر اس کے بھائی کے لیے واجب ہیں ۔۔۔) اسی طرح سالم بن عبید کی روایت بھی ہے اس میں ہے کہ: (چھینک لینے والے کے پاس موجود شخص اسے کہے: یرحمک اللہ) ایک روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے امام ترمذی نے بھی بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (مسلمان کے مسلمان پر چھ نیکیاں واجب ہیں: اسے ملے تو سلام کرے، اور دعوت دے تو اسے قبول کرے، چھینک لے کر الحمد للہ کہے تو یرحمک اللہ کہے، بیمار ہو جائے تو تیمار داری کرے، فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرے، اور اس کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور دیگر سندوں سے بھی یہ روایت نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ہے۔ بعض اہل علم نے حدیث کے راوی حارث اعور کے بارے میں نکتہ چینی کی ہے۔ اس مسئلے سے متعلق ابو ہریرہ، ابو ایوب، براء اور ابو مسعود رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔
انہی میں سے ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی چھینک لے تو الحمدللہ کہے، بلکہ اسے الحمدللہ علی کل حال کہے۔ الحمد للہ سن کر جواب دینے والا اسے يَرْحَمك اللَّه کہے، اور پھر چھینک لینے والا اسے:  يَهْدِيكُمْ اللَّه وَيُصْلِح بَالكُمْ  کہے۔)
تو چھینک لینے والے کو جواب دینا فرض ہے اس کے دلائل چار انداز سے ہیں:
پہلا: حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ چھینک لینے والے کے الحمدللہ کہنے پر يَرْحَمك اللَّه  کہتے ہوئے جواب دینا واجب ہے، اور اس میں کسی قسم کی تاویل کی بھی گنجائش نہیں ہے۔
دوسرا: لفظ "حق "بول کر اسے واجب قرار دیا گیا ہے۔
تیسرا: حرف جر "علیٰ" استعمال کیا گیا جو کہ وجوب کو ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
چوتھا: چھینک لے کر الحمد للہ کہنے والے کو جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ سارے طریقے کسی چیز کے وجوب کے لیے استعمال ہوتے ہیں ، اور ان کے علاوہ بھی طریقے ہیں جو وجوب کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ واللہ تعالی اعلم" ختم شد
"حاشية ابن القيم على سنن أبي داود" (13/259)

آپ رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ:
"جس انداز سے حدیث کے ابتدائی کلمات ہیں ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ: چھینک لینے والے کے الحمدللہ کہنے پر یرحمک اللہ کہنا فرض عین ہے، محض ایک شخص ہی جواب میں یرحمک اللہ کہہ دے تو یہ کافی نہیں ہو گا۔ یہ دو میں سے اہل علم کا ایک موقف ہے، اس موقف کو ابن ابو زید اور ابو بکر ابن العربی نے اختیار کیا ہے یہ دونوں فقہائے کرام مالکی فقیہ ہیں، اور ان کے اس موقف کا کوئی معتبر جواب نہیں ہے۔" ختم شد
"زاد المعاد" (2/437)

6- مشورہ طلب کرنے پر مشورہ دینا، تو اس حوالے سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے۔

چنانچہ ابن مفلح رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"امام احمد اور حنبلی فقہائے کرام کی گفتگو سے محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان کی خیر خواہی کرنا واجب ہے، اگرچہ مسلمان اس سے مشورہ نہ بھی کرے۔ احادیث سے یہ بات واضح ہے۔۔۔" ختم شد
"الآداب الشرعية" از: ابن مفلح (1/307)

علامہ ملا علی القاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"حدیث کے الفاظ: (جب آپ سے مشورہ طلب کرے) یعنی کسی بھی معاملے میں آپ سے مشورہ کرے تو آپ اس کو اچھا مشورہ دیں یہ آپ پر لازم ہے، بلکہ اگر وہ مشورہ نہیں بھی کرتا تو تب بھی اس کی خیر خواہی کرنا لازم ہے۔" ختم شد
"مرقاة المفاتيح" (5/213)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ بات واضح ہے کہ یہاں پر حق کا معنی وجوب ہے۔ لہذا ابن بطال وغیرہ کا حق کا معنی حرمت اور صحبت کرنا درست نہیں ہے، نیز یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہاں وجوب کفایہ ہے وجوب عین مراد نہیں ہے۔" ختم شد
"فتح الباری" (3/113)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب