اول:
مسجد میں داخل ہونے والے کو چاہیے کہ داخل ہوتے ہی کم از کم دو رکعتیں پڑھے، اگر چاہے تو زیادہ بھی پڑھ سکتا ہے۔ یہی دو رکعتیں تحیۃ المسجد کے نام سے معروف ہیں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔) اسے بخاری، حدیث نمبر: (1167)، اور مسلم، حدیث نمبر: (714)، نے روایت کیا ہے۔
مزید فائدے کے لیے سوال نمبر: (181099)کا جواب دیکھیں۔
دوم:
مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے اور تحیۃ المسجد پڑھنے میں کوئی تعارض نہیں۔ داخل ہونے والا شخص ان لوگوں کو سلام کر سکتا ہے جو اسے داخل ہوتے وقت ملیں، پھر تحیۃ المسجد پڑھ سکتا ہے۔
یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ تحیۃ المسجد کا تعلق بیٹھنے سے ہے؛ اس لیے اگر کوئی شخص اپنی کسی ضرورت میں مشغول ہونے کی وجہ سے اسے پڑھنے میں کچھ تاخیر کر دے تو حرج نہیں، بشرطیکہ ابھی بیٹھا نہ ہو۔
جبکہ ’’ تحیۃ المسلم ‘‘ یعنی مسلمان کو سلام کرنے کا تعلق اس سے ملاقات ہونے سے ہے؛ لہٰذا جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور اس کے بعد دوبارہ ملاقات ہو تو اسے پھر سلام کرے۔) اسے ابو داود نے روایت کیا ہے، حدیث نمبر: (5200)، اور البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔
طفیل بن ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آتے اور ان کے ساتھ صبح بازار جاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’’جب ہم بازار جاتے تو عبداللہ بن عمر کسی معمولی سامان بیچنے والے، کسی دکان دار، کسی مسکین یا کسی بھی شخص کے پاس سے گزرتے تو اسے ضرور سلام کرتے۔‘‘ طفیل کہتے ہیں: ’’ایک دن میں عبداللہ بن عمر کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بازار چلنے کو کہا۔ میں نے ان سے کہا: آپ بازار جا کر کیا کریں گے؟ آپ نہ خرید و فروخت کے لیے رکتے ہیں، نہ سامان کے بارے میں پوچھتے ہیں، نہ اس کا بھاؤ لگاتے ہیں اور نہ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہیں ہمارے ساتھ بیٹھیں، ہم بات چیت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے پیٹ والے! ـ طفیل کا پیٹ نکلا ہوا تھا ـ ہم تو صرف سلام کرنے کے لیے بازار جاتے ہیں، چنانچہ جو بھی ہمیں ملتا ہے، اسے سلام کرتے ہیں۔‘‘
اسے مالک نے ’’الموطأ‘‘ میں روایت کیا ہے، روایت نمبر: (2763)، اور نووی نے ’’ریاض الصالحین‘‘ میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
اگر مسجد کے لوگ، یا وہ شخص جسے سلام کرنا مقصود ہو، مسجد کے کسی دوسرے حصے میں ہوں تو آنے والا چاہے تو پہلے نماز پڑھ لے، پھر ان کے پاس جا کر سلام کرے۔
چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نماز میں غلطی کرنے والے شخص کے واقعے میں مروی ہے: ’’وہ آیا اور نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سلام کیا۔ آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: (واپس جاؤ اور نماز پڑھو؛ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔) وہ واپس گیا اور نماز پڑھی، پھر آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ اس نے تین مرتبہ ایسا کیا۔‘‘ متفق علیہ
واللہ اعلم