جمعرات 12 محرم 1446 - 18 جولائی 2024
اردو

تعلیم کے لیے جاری کیے جانے والے قرض کا حکم

سوال

میں مسلمان طالب علم ہوں اور ناروے میں رہائش پذیر ہوں، میں وہاں کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں، میرا سوال یونیورسٹی کی جانب سے دئیے جانے والے تعلیمی قرض کے متعلق ہے، اس قرض میں کسی قسم کا سود نہیں ہے، اور اگر طالب علم ششماہی امتحانات پاس کر جائے تو یہ قرض یونیورسٹی کی جانب سے اسکالر شپ یا تحفے میں بدل جاتا ہے، لیکن اگر کوئی ان امتحانات میں کامیاب نہ ہو تو یہ سالانہ امتحان تک قرض ہی رہتا ہے اس پر کسی قسم کا سود نہیں لگتا، تاہم اگر کوئی شخص تعلیم چھوڑ دے، یا ڈگری حاصل کر لے یا یہ قرض یونیورسٹی کی جانب سے اسکالر شپ یا تحفے میں نہ بدلے تو پھر یہ قرض سودی بن جاتا ہے اور ان تینوں صورتوں میں آپ یونیورسٹی کو سود بھی ادا کریں گے۔ تو کیا میں یونیورسٹی کی جانب سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں؟ کیا یہ حلال ہے؟ کیونکہ میری اسی سال ڈگری مکمل ہو جائے گی اور میں کسی بھی سال کے امتحانات میں فیل نہیں ہوا، اور آئندہ بھی ان شاء اللہ فیل نہیں ہوں گا۔ اس لیے اگر میں نے یہ قرض لے لیا تو ان شاء اللہ یہ میرے لیے اسکالر شپ میں تبدیل ہو جائے گا، اور اگر کسی امتحان میں میں کامیاب نہ ہو سکا، یا میں نے پڑھائی چھوڑ دی تو میرے پاس الحمدللہ اتنی رقم ہے کہ میں فوری اس قرض کو چکا سکتا ہوں، مجھے اس قرض کی ویسے ضرورت نہیں ہے لیکن چونکہ یہ امتحان کے بعد اسکالر شپ میں تبدیل ہو جائے گا اس لیے میں یہ قرض لینا چاہتا ہوں، تو اس حوالے سے شرعی حکم کیا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

تعلیم کے لیے جاری کیے جانے والے قرض کی تین میں سے ایک حالت ہوتی ہے:

پہلی حالت: قرض سودی نہ ہو، یعنی طالب علم کسی اضافے کے بغیر یہ قرض واپس کرے گا، تو اس حالت میں قرض لینا جائز ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی اشکال نہیں ہے۔

دوسری حالت: قرض سودی ہو، مطلب کہ وصول کرنے والا طالب علم اضافے کے ساتھ یہ قرض واپس کرے گا، تو اس حالت میں قرض لینا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ سود ہے۔

تیسری حالت: قرض بنیادی طور پر تو سودی نہ ہو، لیکن اس کی بعض صورتوں میں کوئی سودی شرط پائی جاتی ہو، مثلاً: طالب علم سے کہا جائے کہ: اگر آپ اپنی تعلیم مکمل کر لیتے ہیں تو یہ اسکالر شپ ہے یا اتنی ہی مقدار میں واپس کرو گے جتنی مقدار میں وصول کر رہے ہو لیکن اگر آپ پڑھائی چھوڑ دیں، یا پڑھائی میں ناکام ہو جائیں، یا مقررہ مدت میں رقم واپس نہ کر پائیں تو پھر معین اضافے کے ساتھ واپس کریں گے، تو ایسی صورت میں یہ قرض لینا جائز نہیں ہے، چاہے قرض لینے والا طالب علم کامیاب ہونے کے لیے پر عزم ہو، یا اسے اطمینان ہو کہ اضافی رقم اسے نہیں دینی پڑے گی؛ کیونکہ اس معاملے میں انسان سودی شرط کو تسلیم کر رہا ہے، اور واقعی سودی معاملے میں ملوث ہونے کا خدشہ بھی ہے کہ اگر وہ کامیاب نہ ہو سکا یا پڑھائی مکمل نہ کر سکا تو وہ سودی اضافے کے ساتھ رقم واپس کرے گا۔

اس بنا پر: آپ یہ قرض نہیں لے سکتے؛ کیونکہ اس میں سودی شرط پائی جاتی ہے، اور آپ نے خود ہی یہ بتلایا ہے کہ آپ کو اس قرض کی ضرورت بھی نہیں ہے، تو اس لیے آپ پر لازم ہو جاتا ہے کہ آپ سودی قرض نہ لیں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب