کسی کے کہنے پر وضو میں بازو نہیں دھوتا تھا، پھر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو غلط ہے، تو کیا پچھلی نمازیں دہرانا لازم ہوں گی؟

سوال 198415

مجھے کافی عرصہ پہلے کسی شخص نے بتایا کہ وضو میں بازوؤں کو دھونا فرض نہیں ہے، بلکہ فرض صرف کلی کرنا ہے، چنانچہ میں وضو میں اپنے بازو نہیں دھوتا تھا۔ اب کل کسی نے مجھے بتایا کہ بازوؤں دھونا فرض ہے اور کلی کرنا وضو میں فرض نہیں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر لازم ہے کہ میں اپنی پچھلی نمازیں دوبارہ ادا کروں، کیونکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بازوؤں کا دھونا فرض ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

بازوؤں کو دھونا وضو کے ان فرائض میں سے ہے جن کے بغیر وضو مکمل نہیں ہوتا۔ یہ بات قرآن، سنت اور اہلِ علم کے اجماع سے ثابت ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ہاتھوں (بازوؤں) کو دھونا قرآن، سنت اور اجماع کے مطابق فرض ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المجموع (1/418)

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا واجب ہے، لہذا کہنیاں بھی دھونے میں شامل ہیں۔ اس بات پر امت کے علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ طہارت میں بازوؤں کو دھونا واجب ہے، اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس پر اپنے اس فرمان میں صراحت فرمائی ہے: وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ ’’اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ‘‘ (سورۃ المائدہ: 6)۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المغنی (1/85)

جس شخص نے آپ کو پہلے یہ بات کہی تھی، وہ یا تو جاہل ہے اور دین کے بالکل بنیادی مسائل سے بھی ناواقف ہے، یا پھر آپ اس کی بات کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکے۔

لہٰذا آپ پر ضروری ہے کہ اس واقعے سے اپنی زندگی کے لیے ایک اہم سبق حاصل کریں کہ: دین کے معاملے میں صرف اسی شخص سے سوال کریں جو علم رکھتا ہو۔ ہر ملنے والے سے پوچھنا، یا ہر بولنے والے سے دین سیکھ لینا درست نہیں، خصوصاً ایسی صورت حال میں جب وہ لا علمی کے باوجود دینی امور پر گفتگو کرتا ہو۔

اسی طرح آپ کو یہ بھی چاہیے کہ جو بات آپ کو بتائی جائے، اسے اچھی طرح سمجھو، تاکہ تم بصیرت کے ساتھ عمل کر سکو۔

دوم:

جو شخص عبادت کی کسی شرط، رکن یا واجب کو اس کے حکم سے لاعلمی کی بنا پر چھوڑ دے، تو وہ اپنے اس جاہلانہ فعل میں معذور سمجھا جائے گا؛ چنانچہ اس پر گناہ نہیں ہو گا، اور نہ ہی اسے ایسی نمازوں وغیرہ کو دوبارہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے گا جن میں اس سے شرعی حدود میں کوتاہی ہوئی ہو۔

اس بنا پر: جس شخص نے وضو کیا لیکن اپنے بازو یا وضو کے کسی اور عضو کو نہیں دھویا، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی پڑھی ہوئی نمازیں دوبارہ ادا کرے؛ کیونکہ اس نے اللہ کے حکم کے مطابق وضو نہیں کیا۔ البتہ اگر وہ اس حکم سے جاہل تھا تو اس پر اعادہ لازم نہیں ہو گا، خصوصاً ایسی صورت میں جب نمازیں بہت زیادہ ہوں۔ تاہم آئندہ کے لیے مسلمان پر لازم ہے کہ جب اسے دینی امور کے متعلق علم نہ ہو تو ایسے شخص سے سوال کرے جس کے دین اور علم پر اسے اعتماد ہو، تاکہ وہ اللہ کے حکم کو علم اور بصیرت کے ساتھ ادا کر سکے۔

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر (21806) اور (45648) کے جوابات ملاحظہ کریں۔

سوم:

جہاں تک وضو میں کلی اور ناک میں پانی ڈالنے (استنشاق) کا تعلق ہے، تو اس بارے میں اہلِ علم کے درمیان مضبوط اور معتبر اختلاف پایا جاتا ہے، اور جمہور علماء کے نزدیک وضو میں کلی اور استنشاق واجب نہیں ہیں۔

البتہ ہماری ویب سائٹ پر فتویٰ کے لیے جس قول کو اختیار کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ دونوں وضو میں فرض ہیں، اور اس کی تفصیل سوال نمبر (153791) کے جواب میں گزر چکی ہے۔

لیکن اگر کسی شخص نے بعض اہلِ علم سے مسئلہ پوچھا اور اسے یہ فتویٰ دیا گیا کہ کلی اور استنشاق واجب نہیں ہیں، تو اس پر کوئی حرج نہیں، اور اس بنا پر اسے ان نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا جائے گا جو اس نے کلی اور استنشاق کے بغیر ادا کی ہوں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

وضو

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android