عبادت میں ضروری ہے کہ وہ خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ البینة: 5
ترجمہ:’’حالانکہ انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے، یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں، اور یہی سیدھا دین ہے۔‘‘
فرمانِ باری تعالی ہے:
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَى * إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى اللیل: 19-20
ترجمہ:’’اس کے پاس کسی کا کوئی احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، بلکہ وہ تو صرف اپنے ربِ اعلیٰ کی رضا چاہتا ہے۔‘‘
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: )اللہ تعالیٰ کسی عمل کو قبول نہیں فرماتا مگر وہ عمل جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس کے ذریعے اس کی رضا مطلوب ہو۔) اسے امام نسائی(3140) نے روایت کیا ہے۔، اور البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ: (52) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
آپ ذرا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کریں:
وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ التوبہ: 59
ترجمہ:’’اور کاش وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا، اور کہتے: ہمارے لیے اللہ کافی ہے، عنقریب اللہ ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائے گا اور اس کا رسول بھی۔ ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں۔‘‘
دیکھیں، اللہ تعالیٰ نے عطا کرنے کے عمل کا فاعل اپنے آپ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دونوں کو بنایا ہے ، مگر جب کفايت کرنے کی بات آئی تو اس چیز کو صرف اللہ کی طرف حَسْبُنَا اللَّهُ کہتے ہوئے منسوب کیا، اور مزید فرمایا إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ یعنی ’’ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں‘‘، یہ نہیں فرمایا کہ رسول کی طرف بھی۔
اسی اسلوب کی ایک اور نظیر قرآن کریم میں مزید بھی ملتی ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ * وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ الانشراح: 7-8
’’پس جب فارغ ہو جاؤ تو محنت کر، اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کر۔‘‘
مزید کے لیے دیکھیں: زاد المعاد: (1/36)
لہٰذا ضروری ہے کہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کو ہی منفرد رکھا جائے، اور کسی مخلوق کے قرب کی نیت سے عبادت کرنا جائز نہیں۔
رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق اور آپ کی محبت، تو وہ آپ کی پیروی کرنے اور آپ کی سنت کی تعظیم کرنے سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ عبادت آپ کی کرنے سے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبادت اسی وقت قبول ہوتی ہے جب اس میں دو شرطیں پائی جائیں:
- اخلاص — یعنی عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔
- موافقتِ سنت — یعنی وہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت کے مطابق ہو۔
ان دونوں شرطوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے:
فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا الکہف: 110
ترجمہ:’’جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔‘‘
ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا یعنی ایسا عمل جو اللہ کے شرع کے موافق ہو، اور وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا یعنی عمل خالص اللہ کے لیے ہو، اس میں اس کا کوئی شریک نہ ہو۔ یہی دو بنیادیں ہیں جن پر عمل کی قبولیت قائم ہے: اخلاص اور درستگی (یعنی سنت کے مطابق ہونا)۔‘‘
لہٰذا آپ جب بھی عبادت کریں تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
واللہ اعلم