سوموار 15 ذو القعدہ 1441 - 6 جولائی 2020
اردو

کیا حیوانات کو مرنے کے بعد دفنانا شرعی عمل ہے؟

212022

تاریخ اشاعت : 09-10-2015

مشاہدات : 4249

سوال

سوال: "میت کی تکریم میں اسکی تدفین بھی شامل ہے"؛ تو کیا اس میں مرنے والے جانور بھی شامل ہیں؟ کیونکہ جب میں نےیہ حدیث سنی تو اپنے ایک جانور کو میں نے دفن کیا تھا۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

"میت کی تکریم  میں اسکی تدفین بھی شامل ہے" کوئی حدیث نہیں ہے، بلکہ یہ کسی فقیہ کا قول ہے، دیکھیں: " شرح مختصر خلیل" از: خرشی (2/91)

جبکہ امام سخاوی رحمہ اللہ "المقاصد الحسنۃ" (ص 141) میں کہتے ہیں:
"میت کی تکریم  میں اسکی تدفین بھی شامل ہے" مجھے یہ  حدیث مرفوعا نہیں ملی، بلکہ اسے ابن ابی دنیا نے اپنی کتاب: "كتاب الموت" میں ایوب سختیانی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:"اہل میت  کی طرف سے میت کی تکریم میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے جلد از جلد قبر میں اتارا جائے"انتہی
لیکن اس کا معنی صحیح اور مفہوم سنت کے مطابق ہے۔
آپ سوال نمبر: (8852) اور سوال نمبر: (143425) کی طرف رجوع کریں۔

دوم:

کسی جانور کے مرنے پر انسانوں کیلئے کہا جانے والا جملہ   نہیں کہا جائے گا کہ: "جانور کی تکریم میں اسکی تدفین بھی شامل ہے" لیکن اگر جانور کو زمین میں دبانے سے مسلمانوں کو اسکے مضر اثرات سے بچایا جا سکتا ہے تو پھر اسکو زمین میں دفن کرنا جائز ہے؛ کیونکہ اس وقت مردہ جانور کو زمین میں دبانا مسلمانوں کے راستے سے رکاوٹ اور تکلیف دور کرنے کے زمرے میں شامل ہوگا۔

اور اگر مسلمانوں کو اسکی بد بو سے تکلیف ہو، اور گِھن  کھائیں تو مردہ جانور کو لوگوں کے راستے سے دور کہیں پھینکنا، یا زمین میں دبانا لازمی ہوگا، چنانچہ مردہ جانور کی تدفین مسلمانوں کو مضر اثرات سے بچانے کیلئے ہوگی ، صرف اسکے مرنے کی وجہ سے نہیں ۔

بخاری: (1492) اور مسلم: (363)نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت  کی ہے کہ: "میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو ایک بکری کا تحفہ دیا گیا، جو کہ بعد میں مر گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اسکے پاس سے گزرے تو فرمایا: (اچھا ہوگا کہ تم اسکا چمڑا اتار کر رنگ لو، اور اسے استعمال میں لاؤ) تو انہوں نے کہا: یہ تو مردہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (اسے [صرف ]کھانا حرام ہے) "
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں اسکے چمڑے کو قابل استعمال بنانے کی  ترغیب دی، اسے دفن کرنے کا حکم نہیں دیا۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے جنگلی جانوروں اور چوپاؤں کے متعلق پوچھا گیا کہ انہیں دفن کیا جائے، یا زمین پر کھلے عام پڑے رہیں؟
تو انہوں نے جواب دیا:
"اس بارے میں وسعت ہے؛ کیونکہ شریعت میں ایسی کوئی نص موجود نہیں ہےجو انکے دفن کرنے کے متعلق دلالت کرتی ہو، اور نہ ہی دفن کرنے سے ممانعت موجود ہے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ اسے دفن کر دیا جائے، تا کہ کسی کو ان سے تکلیف نہ ہو"انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (8/ 444-445)

مزید کیلئے سوال نمبر: (105365) کا جواب ملاحظہ کریں

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں