ہفتہ 20 ذو القعدہ 1441 - 11 جولائی 2020
اردو

ملازم کو نفع کی شرح دیتے ہیں ، اور اس نفع کو جبراً سودی بینک میں سود کے عوض جمع کرواتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

سوال

میں کینیڈا میں ایک المونیم فیکٹری میں کام کرتا ہوں، کمپنی کی جانب سے تمام ملازمین میں سالانہ بنیاد پر نفع کی مخصوص شرح تقسیم کی جاتی ہے، کچھ نفع نقدی صورت میں دیا جاتا ہے اور بقیہ رقم جبری طور پر بینک میں جمع کروا دی جاتی ہے جو کہ صرف ریٹائرمنٹ کی صورت میں ہی وصول کی جا سکتی ہے، اب ان بینکوں میں جمع کردہ رقوم پر سودی نفع بھی دیا جاتا ہے، اس سے بچنے کا کوئی طریقہ بھی نہیں ہے، تو ان رقوم کا شرعی حکم کیا ہے؟ واضح رہے کہ مجھے اختیار ہے کہ میں اس رقم کو مسترد کر دوں اور وصول نہ کروں۔ ویسے سودی نفع سے بچنے کا ایک اور طریقہ بھی ہے کہ ہم اپنی رقوم کو ان کے ساتھ سرمایہ کاری میں لگا دیں، لیکن اس صورت میں حرام تجارت میں ملوث ہو جاتے ہیں، مثلاً: سودی بینکوں کے ساتھ لین دین، شراب اور سگریٹ کی خرید و فروخت وغیرہ، اسی طرح سودی بینکوں میں دیگر سودی لین دین بھی کرتے ہیں۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

ہر سال کے آخر میں کمپنی کی جانب سے دی جانے والی شرح منافع ملازم کی تنخواہ اور اجرت میں شامل ہوتی ہے؛ پھر چونکہ یہ ساری رقم الگ کر کے ملازم کے لیے مختص بینک اکاؤنٹ میں جمع کروا دی جاتی ہے اس لیے یہ ملازم کی ملکیت میں ہوتی ہے، تاہم چونکہ دوران ملازمت کوئی بھی اس رقم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تا آں کہ ریٹائرمنٹ ہو جائے اس لیے یہ ملکیت ناقص ہو جاتی ہے، لیکن رہتی پھر بھی اسی ملازم کی ملکیت ہے۔

کمپنی کی جانب سے اس رقم کو سودی اکاؤنٹ میں رکھوانا کھلا ظلم ہے؛ کیونکہ انہوں نے ملازم کے حق کو حرام کام میں لگا دیا ہے، اور اگر ہم یہ کہیں کہ ملازم پر اس رقم میں تصرف کرنے پر پابندی اس کی رضا مندی سے لگائی ہے کہ جب معاہدہ ہوا تھا تو ملازم نے اس پابندی کو تسلیم کیا تھا، تو تب بھی کمپنی کے لئے قطعاً یہ روا نہیں ہو سکتا کہ اس رقم کو سودی لین دین میں استعمال کرے۔

لہذا ایسے ملازم کو چاہیے کہ اگرچہ وہ سودی ملاوٹ پر راضی نہیں تھا تب بھی اس رقم کو وصول کرنے کے بعد اسے سود سے پاک کرے؛ کیونکہ یہ سود اسی کے مال سے پیدا ہوا ہے، اس لیے سودی اضافے کو رفاہ عامہ کے کاموں میں اس لیے خرچ کرے کہ حرام مال سے جان چھوٹ جائے، اور اس رقم کو بینک کے ہاں مت چھوڑے۔

اس بارے میں مزید کے لئے آپ سوال نمبر: (174697) کا مطالعہ کریں۔

اگر معاملہ یہ ہو کہ ایک طرف خالص سودی لین دین ہے اور دوسری طرف حرام کاموں کی آمیزش والی سرمایہ کاری ہے تو ایسی صورت میں بلا شک و شبہ دوسری صورت پہلی صورت سے قدرے ہلکی ہے، تاہم پھر بھی حرام کا جتنا بھی حصہ اس کے پیسوں میں شامل ہو گیا ہے ؛وصولی کے وقت اس سے لازمی طور پر جان چھڑائے اور حتی الامکان کوشش کرے کہ اس کا صحیح تخمینہ لگا کر اپنے حقیقی مال سے نکال دے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الشيخ محمد صالح المنجد