کافر والدین کی اطاعت اور ولدِ زنا کی نسبت کے بارے میں

سوال 220070

میں نے نکاح کے بغیر ایک عورت سے تعلق قائم کیا، جس سے ایک بچہ پیدا ہوا جو اب نو سال کا ہے۔ میں نے تین سال قبل اس عورت سے تعلق ختم کر دیا، پھر ایک سال بعد اسلام قبول کیا، اور—الحمد لله—ایک دیندار مسلمان عورت سے نکاح کر لیا۔ میرا بیٹا اب بھی زیادہ تر اپنی ماں کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ حال ہی میں میری مسلمان اہلیہ نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ہم کسی دوسرے شہر منتقل ہو جائیں، جہاں مسجد بھی ہے اور مسلمان بھی کثرت سے ہیں۔ یہ شہر زیادہ دور بھی نہیں، لیکن میری ماں اور اس کے شوہر (جو مسلمان نہیں ہیں) نے اس خیال کی مخالفت کی اور اسے قبول نہیں کیا۔ غالباً اس مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ وہ میری اہلیہ کو ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ مسلمان ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ والدین کی اطاعت لازم ہے، چاہے وہ مسلمان نہ بھی ہوں، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی حد کہاں تک ہے؟ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی کو منظم انداز میں گزاروں اور اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی صورت میں رہوں جسے ہم درست سمجھتے ہیں۔ میرا ہرگز یہ ارادہ نہیں کہ میں اپنے والدین، اپنے بیٹے یا خاندان کے کسی فرد سے تعلق توڑوں۔

ایسی صورتِ حال میں آپ مجھے کیا نصیحت کریں گے؟ کیونکہ میرے والدین ناراض ہیں، انہوں نے مجھ سے تعلق توڑ لیا ہے اور بات چیت سے بھی انکار کر دیا ہے۔ اور شرعی اعتبار سے میرے بیٹے کی حیثیت کیا ہے؟ اس کی نسبت کس کی طرف ہو گی؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
محترم سائل! آپ کو سچے دین؛ دینِ اسلام میں داخل ہونے پر مبارک ہو، یہی وہ دین ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو فطرتاً پیدا فرمایا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو دین اسلام پر ثابت قدم رکھے، اور آپ کو انسانی اور جنّاتی  شیاطین کے شر سے محفوظ رکھے۔

آپ کے کافر والدین  کے حوالے سے یہ ہے کہ آپ پر لازم ہے کہ آپ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، ان سے تعلق قائم رکھیں، اور دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ معروف طریقے سے پیش آئیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
ترجمہ:’’اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکید کی ہے—اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری کے ساتھ اٹھائے رکھا، اور اس کا دودھ چھڑانا دو برس میں ہوا—کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تم پر زور دیں کہ تم میرے ساتھ اس کو شریک ٹھہراؤ جس کا تمہیں علم نہیں، تو ان کی اطاعت نہ کرو، مگر دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، اور اس شخص کے راستے پر چلو جو میری طرف رجوع کرے، پھر تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے، تو میں تمہیں بتا دوں گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘ سورۃ لقمان، آیات: 14، 15۔

کتاب ’’الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني‘‘ (2/290) میں آیا ہے:
’’اور ہر مکلف پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک فرضِ عین ہے، یعنی ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگرچہ وہ فاسق ہوں—شرک کے علاوہ—بلکہ اگر وہ مشرک بھی ہوں تب بھی دنیاوی امور میں ان کے ساتھ حسن سلوک ضروری ہے؛ کیونکہ آیات اس عموم پر دلالت کرتی ہیں، اور والدین کے حقوق نہ فسق کی وجہ سے ساقط ہوتے ہیں اور نہ ہی دین میں اختلاف کی بنا پر۔‘‘ ختم شد

رہا کافر والدین کی اطاعت کا مسئلہ—وہ بھی معروف امور میں—تو اہلِ علم کے درمیان اس کے وجوب میں اختلاف ہے۔ اہلِ علم کے ایک گروہ نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل نہ ہونے والے امور میں ان کی اطاعت بھی واجب ہے۔

چنانچہ کتاب ’’الآداب الشرعية والمنح المرعية‘‘ (1/437) میں آیا ہے:
’’گزشتہ کلام کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ والد کی اطاعت واجب ہے، اگرچہ وہ کافر ہو، اور صاحبِ نظم نے اسی پر جزم کیا ہے۔ جبکہ المستوعب میں ان کے سابقہ کلام کا ظاہر—ان کے اس قول کی بنا پر کہ (اگرچہ وہ فاسق ہوں)—یہ ہے کہ کافروں کی اطاعت واجب نہیں۔ اور ہمارے فقہائے کرام کا یہ قول بھی اسی کی تائید کرتا ہے کہ جہاد کے بارے میں والدین کی اجازت معتبر نہیں، خواہ جہاد اس پر فرضِ عین ہو یا نہ ہو۔‘‘ ختم شد

لیکن اگر کافر والدین کی جانب سے یہ بات ظاہر ہو جائے کہ وہ اپنے بیٹے کو اسلام سے، یا اس کے احکام و فرائض سے، یا ان امور سے روکنا چاہتے ہیں جو اس کے دین کے لیے زیادہ نافع ہوں، اور دین کے علم و فہم کے حصول میں زیادہ مدد گار ہوں، تو ایسی صورت میں ان کی اطاعت کسی بھی حال میں جائز نہیں۔

اس بنا پر آپ پر لازم نہیں کہ آپ اپنے والدین کی اس بات میں اطاعت کریں کہ آپ اس جگہ منتقل نہ ہوں جہاں آپ اور آپ کی اہلیہ کے لیے دینی اعتبار سے واضح مصلحت موجود ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے ایک ایسے والد کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنے بیٹے کو وعظ و نصیحت کی مجالس اور علمی دروس میں شرکت سے منع کرتا تھا، جس کے نتیجے میں وہ بیٹا دینداری چھوڑ بیٹھا اور فلموں اور اسی طرح کے حرام امور کی طرف مائل ہو گیا۔ کیا ایسے باپ کا یہ عمل ’’صدّ عن سبیل اللہ‘‘ [یعنی اللہ کے راستے سے روکنے] میں شمار ہو گا؟ اور کیا اس صورت میں والد کی اطاعت کی جائے گی؟

تو انہوں نے جواب دیا:
’’اگر تمہارا باپ یا ماں تمہیں ذکر کی مجالس میں جانے سے منع کریں تو ان کی اطاعت نہ کرو؛ کیونکہ وعظ و نصیحت  کی مجالس میں حاضری خیر ہے، اور اس سے والدین کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ان کی اطاعت نہ کرو، البتہ کوشش کرو کہ ان کے ساتھ مدارات سے کام لو۔ مدارات کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ ظاہر نہ کرو کہ تم وعظ و نصیحت کی مجالس میں جا رہے ہو، بلکہ یوں ظاہر کرو جیسے تم اپنے دوستوں کے پاس جا رہے ہو یا اس جیسا کوئی اور بہانہ ہو۔

رہا وہ باپ اور ماں جو اپنے بیٹے کو وعظ و نصیحت کی مجالس سے روکتے ہیں، تو ان کا یہ روکنا ذکرِ الٰہی سے روکنے کے زمرے میں آتا ہے، اور وہ اس پر گناہگار ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ جب وہ اپنے بیٹے کو علم کی طرف مائل دیکھیں تو خوش ہوں اور حتی المقدور اس کی مدد کریں؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اس پر بھی اور ان پر بھی۔ آخر اولاد میں سے کون انسان کے مرنے کے بعد نفع دیتا ہے؟ نیک اولاد، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے)‘‘ ختم شد
یہ اقتباس ’’لقاءات الباب المفتوح‘‘، نمبر (99)، صفحہ (9) سے لیا گیا ہے۔

لہٰذا اس موقع پر آپ کے لیے نصیحت یہ ہے کہ آپ اس جگہ منتقل ہو جائیں جہاں مسجد موجود ہو اور مسلمان بھائیوں کی کثرت ہو، تاکہ آپ ان کے ساتھ نیکی، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر تعاون کر سکیں۔

اور آخر میں ہم آپ کو یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ آپ اپنے والدین کو حق کی طرف دعوت دینے کی محنت کے ساتھ بھر پور کوشش کریں؛ کیونکہ وہ اس کے سب سے زیادہ محتاج ہیں—انہیں کفر اور گناہ سے بچانے کے لیے اس دعوت کے لیے حکمت بھرے طریقے اختیار کریں، اور جہاں تک ممکن ہو ان کے ساتھ احسان اور حسنِ سلوک کو لازم پکڑیں۔

دوم:
رہا وہ بچہ جو آپ سے ناجائز تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، تو وہ کسی بھی صورت میں آپ کی طرف منسوب نہیں ہو گا، بلکہ اسی عورت کی طرف منسوب ہو گا جس نے اسے جنم دیا ہے۔ اس کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے: (بچہ بستر والے کا ہوتا ہے، اور زنا کرنے والے کے لیے محرومی ہے۔) اسے امام بخاری (2053) اور امام مسلم (1457) نے روایت کیا ہے۔

البتہ اگر وہ عورت جس کے ساتھ مرد نے حرام تعلق قائم کیا تھا، شادی شدہ نہ ہو، تو اہلِ علم کے ایک گروہ نے یہ راجح قرار دیا ہے کہ ایسی صورت میں زانی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس عورت سے پیدا ہونے والے بچے کو اپنا قرار دے، یعنی اس کی نسبت اپنی طرف کر لے۔

اس مسئلے کی تفصیل پہلے سوال  نمبر (85043) میں بیان کی جا چکی ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

زنا اور لواطت
سماجی پریشانیاں
غیر مسلموں کو دعوت

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android