کیا معمولی نجاست قابل در گزر ہوتی ہے؟

سوال 221756

کیا معمولی نجاست در گزر کرنے کے قابل ہوتی ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ کی جائے اور اسے معاف کر دیا جاتا ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

جمہور علمائے کرام  کا کہنا ہے کہ کسی بھی نجاست میں معافی نہیں، سوائے تھوڑی مقدار کے خون اور پیپ کے۔ کیونکہ قرآن و سنت کے دلائل میں زیادہ اور کم نجاست کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’نجاست خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ چاہے وہ اتنی کم ہو کہ آنکھ سے دکھائی دے یا اتنی باریک ہو کہ نظر نہ آئے، سب نجاست ایک ہی حکم میں ہیں۔ البتہ امام شافعی سے یہ قول منقول ہے کہ جو نجاست آنکھ سے دکھائی نہ دے وہ معاف ہے، کیونکہ اس سے بچنا مشکل ہے۔‘‘      ختم شد
(المغنی 1/46)

یہی رائے دائمی کمیٹی برائے فتویٰ کے علمائے کرام  کی ہے، انہوں نے کہا:
’’خون، پیپ اور کچ لہو کے علاوہ دیگر نجاست میں معافی نہیں  ہے چاہے مقدار تھوڑی ہو یا زیادہ۔
البتہ خون، پیپ اور کچ لہو اگر تھوڑی مقدار میں ہو اور شرمگاہ سے نہ نکلا ہو تو وہ معاف ہے، کیونکہ تھوڑی مقدار سے بچنا مشکل ہے اور اس میں تنگی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ترجمہ: ’’اللہ تعالی نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘ اور يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ترجمہ:  ’’اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے سختی نہیں چاہتا‘‘۔‘‘ ختم شد
شیخ ابن باز کی سربراہی میں فتاویٰ اللجنة الدائمة : (5/396)

فقہائے احناف نے ہمہ قسم کی نجاست کی تھوڑی مقدار کو معاف قرار دیا ہے، جیسے خون، پیشاب وغیرہ۔ (الاختیار 1/31)
ان کے ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمہ قسم کی معمولی نجاست سے بچنا دشوار ہوتا ہے، اس لیے اسے معاف کیا گیا ہے۔ جیسے پیشاب کے چھینٹے اگر بہت معمولی ہوں اور نظر نہ آئیں تو وہ کپڑے یا جسم پر لگ جائیں تو معاف ہیں۔

چنانچہ ابن منذر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اس بارے میں اختلاف ہے کہ اگر پیشاب کی تھوڑی مقدار، مثلاً سوئی کے نوک جتنی کپڑے پر لگ جائے تو کیا دھونا ضروری ہے یا نہیں؟ ایک جماعت نے کہا: کم ہو یا زیادہ، دونوں کو دھونا ضروری ہے۔ لیکن امام ابو حنیفہ کے شاگرد محمد بن حسن نے کہا: اتنی کم مقدار پر دھونا واجب نہیں۔ اور مسعر رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ (ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے دوسرے شاگرد) کہتے تھے کہ : اگر مقدار ٹڈی کی آنکھ یا سوئی کے نوک کے برابر ہو تو اس میں حرج نہیں۔ تو مسعر رحمہ اللہ نے اسے اچھا موقف قرار دیا۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: الأوسط : (2/138)

چھینٹے جیسی تھوڑی مقدار کے معاف ہونے پر دلیل وہ واقعہ ہے جسے مسلم (403) نے روایت کیا ہے:
ابو وائل کہتے ہیں: ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پیشاب کے معاملے میں سختی کرتے تھے، پیشاب ایک بوتل میں کرتے  تھے (اس خوف سے کہ کہیں پیشاب کا چھینٹا نہ لگ جائے) اور کہتے: بنی اسرائیل میں جب کسی کے جسم پر پیشاب لگتا تو وہ اسے قینچی سے کاٹ ڈالتے۔
اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’کاش تمہارے ساتھی اتنی سختی نہ کرتے، میں نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و  سلم کو دیکھا کہ ہم دونوں چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و  سلم ایک دیوار کے پیچھے کوڑے پر کھڑے ہوئے اور اسی طرح کھڑے کھڑے پیشاب کیا جیسے تم میں سے کوئی کھڑے ہو کر کرتا ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے الگ ہٹ گیا تو آپ نے مجھے اشارہ فرمایا، میں قریب آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا رہا یہاں تک کہ آپ فارغ ہو گئے۔‘‘

امام نووی رحمہ اللہ اس پر لکھتے ہیں:
’’حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ بتلانا تھا کہ یہ سختی سنت کے خلاف ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں چھینٹے لگنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی پروا نہیں کی اور نہ ہی ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرح بوتل میں پیشاب کر کے احتیاط میں مبالغہ کیا۔‘‘ ختم شد
شرح صحیح مسلم (3/167)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’تھوڑی نجاست معاف ہے، حتی کہ اگر کھانے پینے میں چوہے کے فضلے کے کچھ ذرات وغیرہ گر جائیں تو بھی۔ یہ امام احمد کے فقہی مسلک کا ایک قول ہے۔ اسی طرح اگر راستے کی مٹی ناپاک ہو لیکن اس کا تھوڑا اثر لگ جائے تو بھی معاف ہے کیونکہ اس سے بچنا مشکل ہے۔ اسی طرح گوبر وغیرہ کی گرد اگر ہوا میں اڑ کر لگ جائے اور اس سے بچنا ممکن نہ ہو تو بھی معاف ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الفتاویٰ الکبریٰ (5/313)

حنفی امام کاسانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’تھوڑی نجاست سے بچنا ممکن نہیں، کیونکہ مکھی نجاست پر بیٹھتی ہے اور پھر نمازی کے کپڑوں پر بیٹھتی ہے، اور لازمی ہے کہ اس کے پروں یا پاؤں پر تھوڑی نجاست لگتی ہو، اگر اسے معاف نہ سمجھا جائے تو لوگ سختی اور تنگی میں مبتلا ہو جائیں گے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: بدائع الصنائع : (1/79)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’صحیح بات وہی ہے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ  نے کہی ہے کہ تھوڑی نجاست معاف ہے، خاص طور پر اس نجاست کے بارے میں جس سے بچنا مشکل ہے، جیسے کہ کسی مریض کو اگر بار بار پیشاب ٹپکنے کی بیماری ہو اور وہ بہت زیادہ احتیاط کرے تب بھی تھوڑا بہت لگ سکتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الشرح الممتع : (1/447)

یہی رائے شریعت کی آسانی کے اصول کے مطابق ہے۔ تاہم احتیاط اسی میں ہے کہ مسلمان زیادہ اور کم ہر طرح کی نجاست سے پاکی اختیار کرے تاکہ اختلاف سے نکل جائے ، حصولِ طہارت کے لیے اپنی کوشش کے نتیجے میں بری الذمہ ہو اور اس کی نماز مکمل پاکیزگی کے ساتھ ادا ہو۔

ابن عبد البر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’نماز کے لیے احتیاط واجب ہے، کیونکہ آدمی اس وقت تک اپنی نماز کے درست ہونے کا یقین نہیں کر  سکتا جب تک کہ اس کا لباس، بدن اور جگہ نجاست سے پاک نہ ہو۔ پس مؤمن کو چاہیے کہ اپنی حفاظت کرے اور پوری کوشش کرے۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: التمہيد: (22/241)

واللہ اعلم

حوالہ جات

نجاست دور کرنا

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android