وسوسے کا علاج: اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا اور ایسے خیالات سے توجہ ہٹانا

سوال 224718

میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے متعلق وسوسوں میں مبتلا ہوں، اور اس بات میں کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے؛ کیونکہ میرے ذہن میں عجیب اور غیر منطقی خیالات آتے ہیں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ان خیالات کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تابع سمجھوں، لیکن اسی کوشش کے دوران مجھے یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید اللہ ان چیزوں پر قادر نہیں، اور اسی وجہ سے مجھے وسوسہ آتا ہے کہ میں کفر میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ میں سمجھ نہیں پاتا کہ اس مسئلے سے کیسے نجات حاصل کروں، اس لیے میں آپ سے نصیحت اور رہنمائی کا طالب ہوں۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اگر آپ کے پاس ایک ایسی ٹینکی ہو جس سے ٹونٹی کے ذریعے پانی رس رہا ہو، تو اس کا حل یہ نہیں کہ آپ بہتے ہوئے پانی کو سُکھاتے رہیں، بلکہ اصل حل یہ ہے کہ آپ اس ٹوٹنی کو اچھی طرح بند کر دیں، تاکہ پانی رِسنا بند ہو جائے۔

اور اس وقت آپ سے بھی یہی مطلوب ہے؛ کیونکہ اگر آپ کے سوال میں مذکور دونوں اجزا کا جواب مل بھی جائے، تب بھی آپ کو کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہو گا، اس لیے کہ خیالات کی لڑی ٹوٹنے والی نہیں، شیطان کا وسوسوں والا ٹینک بھرا ہوا ہے اور وہ کبھی خالی نہیں ہوتا، اور آپ کا اس کی طرف کھلنے والا پائپ کھلا ہوا ہے، تو پھر ان اشکالات کا سلسلہ آخر کب ختم ہو گا؟

تو اس کا مجرب حل یہ ہے کہ آپ ایسے وسوسوں سے چھٹکارا حاصل کریں، جو کہ دو چیزوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے:

اوّل: آپ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں شیطان مردود سے، اور اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کریں، قرآن مجید کی تلاوت کریں، بالخصوص سورۃ الفاتحہ، سورۃ البقرہ، معوذات اور آیت الکرسی کی؛ چنانچہ جتنا زیادہ ہو سکے، ان کا اہتمام کریں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
ترجمہ:’’اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے آپ کو کوئی وسوسہ لاحق ہو جائے تو اللہ کی پناہ مانگ لیجیے، بے شک وہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے‘‘ سورۃ فصلت، آیت 36۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ * وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ
ترجمہ:’’اور کہہ دیجیے: اے میرے رب! میں شیطانوں کی وسوسہ اندازیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اے میرے رب! میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔‘‘ سورۃ المؤمنون، آیت 97-98۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اور میں تمہیں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے پیچھے دشمن تیزی سے لگا ہو، یہاں تک کہ وہ ایک مضبوط قلعے میں پہنچ جائے اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو دشمن سے محفوظ کر لے؛ اسی طرح بندہ بھی شیطان سے اپنی حفاظت اللہ کے ذکر کے ذریعے ہی کر سکتا ہے۔) سنن ترمذی، حدیث 2863، اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترمذی میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

دوم: آپ ان وسوسوں سے مکمل طور پر توجہ ہٹا لیں، ان کے بارے میں سوچ بچار نہ کریں اور نہ ہی ان میں الجھیں، نہ ان کا کوئی حل تلاش کریں اور نہ ہی ان کا جواب؛ کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو شیطان آپ سے چاہتا ہے: کہ آپ اس کے وسوسوں میں مشغول ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ آپ کی زندگی کو تلخ کر دے اور آپ کے دین اور دنیا دونوں کو خراب کر دے۔

سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں باتوں کو ایک ہی حدیث میں جمع فرما دیا ، چنانچہ جب آپ سے ایسے ہی بعض وسوسوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو انسان کے دل میں آتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (تو وہ اللہ کی پناہ مانگے، اور ایسے خیالات سے باز رہے۔) صحیح بخاری، حدیث 3276، صحیح مسلم، حدیث 134۔

امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں کہتے ہیں:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان: (تو وہ اللہ کی پناہ مانگے اور ایسے خیالات سے باز رہے۔) کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی شخص کو اس قسم کا وسوسہ لاحق ہو تو وہ اس کے شر کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرے ، اور اس بارے میں مت سوچے، اور یہ بات ذہن نشین کر لے کہ یہ خیال شیطان کے وسوسے ہیں، اور شیطان تو خرابی اور گمراہی ہی کی کوشش کرتا ہے، لہٰذا اس کی وسوسہ انگیزی کی طرف کان نہ دھرے، بلکہ کسی اور کام میں مشغول ہو کر فوراً ان وسوسوں کا سلسلہ ختم کر دے۔ واللہ اعلم۔‘‘ ختم شد
اسی طرح امام خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب شیطان اس طرح وسوسہ ڈالے، اور آدمی اس شیطانی خیال سے اللہ کی پناہ مانگ لے، اور اس معاملے میں اس کے ساتھ الجھنے اور اس کا پیچھا کرنے سے رک جائے، تو وہ وسوسہ خود ہی دور ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: یہ صورت حال اس کے برعکس ہے کہ اگر کوئی انسان اس طرح کا شبہ پیدا کرے؛ کیونکہ انسان کی بات کو دلیل اور برہان کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔
اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ انسان کے ساتھ سوال و جواب کی صورت میں گفتگو ہوتی ہے، اور معاملہ ایک حد کے اندر رہتا ہے، چنانچہ جب درست طریقہ اختیار کیا جائے اور صحیح دلیل پیش کر دی جائے تو بات ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن شیطان کے وسوسوں کا کوئی اختتام نہیں ہوتا، بلکہ جب اسے ایک دلیل کے ذریعے لا جواب کیا جاتا ہے تو وہ کسی اور پہلو کی طرف مڑ جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کو حیرت اور تذبذب میں ڈال دیتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں۔‘‘ختم شد

اور شافعی فقیہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے وسوسے کے علاج کے بارے میں اپنی کتاب ’’الفتاوى الفقهية الكبرى‘‘ (1/149) میں فرمایا، جب ان سے پوچھا گیا کہ وسوسے کی بیماری کا کوئی علاج ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا:
’’اس کا ایک نہایت مؤثر علاج ہے، اور وہ یہ کہ اس سے مکمل طور پر اعراض کیا جائے، چاہے دل میں کچھ تردد ہی کیوں نہ باقی ہو؛ کیونکہ جب تک آدمی ان وسوسوں کی طرف توجہ نہیں دیتا، وہ جم نہیں پاتے، بلکہ تھوڑے ہی عرصے میں ختم ہو جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ کے توفیق یافتہ بندوں نے اس کا تجربہ کیا ہے۔
لیکن جو شخص ان وسوسوں کی طرف کان دھرتا ہے اور ان کے تقاضے پر عمل کرتا ہے، تو یہ وسوسے اس کے ساتھ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اسے دیوانوں کے درجے تک، بلکہ ان سے بھی بدتر حالت تک پہنچا دیتے ہیں، جیسا کہ ہم نے بہت سے مبتلا لوگوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، جنہوں نے ان وسوسوں اور اپنے شیطان کی باتوں کو سنا اور مانا اور پھر پھنس کر رہ گئے۔
نیز صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ایسی حدیث وارد ہوئی ہے جو میری بات کی تائید کرتی ہے، اور وہ یہ کہ جس شخص کو وسوسہ لاحق ہو: ’’تو وہ اللہ کی پناہ مانگے اور وسوسوں سے دور ہو جائے۔‘‘ چنانچہ آپ اس نفع بخش علاج پر غور کیجیے، جو اس ہستی نے اپنی امت کو سکھایا ہے جو اپنی خواہش سے ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالتے تھے۔
اور یہ بات بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ جو شخص اس علاج سے محروم رہا، وہ ہر خیر سے محروم رہا؛ کیونکہ وسوسہ بالاتفاق شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، اور وہ مردود اس کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتا کہ مومن کو گمراہی، حیرت، تنگ زندگی، دل کی تاریکی اور بے چینی میں مبتلا کر دے، یہاں تک کہ اسے اسلام سے نکال دے، اور اسے اس کا شعور بھی نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا
ترجمہ:’’بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔‘‘ سورۃ فاطر، آیت 6۔‘‘ ختم شد

اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ شیطان کے وسوسے ان کے جوابات تلاش کرنے سے ختم نہیں ہوتے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور ان سے اعراض کرنے ہی سے ختم ہوتے ہیں۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو شیطان مردود سے محفوظ رکھے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

نفسیاتی پریشانیاں

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android