جمعہ 6 شوال 1441 - 29 مئی 2020
اردو

اپنی زکاۃ اپنی بیوی کی پہلے خاوند سے اولاد کو دینے کا حکم

229098

تاریخ اشاعت : 12-11-2015

مشاہدات : 1254

سوال

سوال: کیا عورت کا خاوند اپنی بیوی کی اولاد کو اپنے سونے کی زکاۃ دے سکتا ہے؟ یعنی سوتیلی اولاد کو ، یہ بات ٹھیک ہے کہ ان ماں ہی اس سونے کو پہنتی ہے، لیکن اس سونے کا مالک ان کا سوتیلا باپ ہی ہے، واضح رہے کہ وہ پورے گھر کا خرچہ برداشت کرتا ہے، اور حیلہ کرتے ہوئے اپنی زکاۃ سوتیلی اولاد کو دیکر اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتا ، سوتیلی اولاد کے پاس کچھ نہیں ہے، اور وہ شام کے پڑوسی ملک میں پناہ گزین ہیں، نیز انہیں اپنی شناختی دستاویزات بنوانے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے لیکن ان کے پاس کچھ نہیں ہے جس سے یہ کام کر سکیں ۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

کسی بھی فقیر یا مسکین کو زکاۃ دیتے ہوئے یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ اس فقیر یا مسکین کا خرچ زکاۃ دینے والے کے ذمہ نہ ہو، اس لیے اپنے آباؤ اجداد [ماں ، باپ، دادا، دادی] یا اپنی اولاد  اور پوتے  انہیں زکاۃ نہیں دی جا سکتی۔

اس بارے میں سوال نمبر: (145092) اور سوال نمبر: (107594) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اس بنا پر ایسا شخص اپنی بیوی کی دوسرے خاوند سے اولاد  کو زکاۃ دے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ زکاۃ کے مستحق ہوں؛ کیونکہ سوتیلی اولاد کا خرچہ  اس پر لازم نہیں ہے۔

نیز ان کی رہائش الگ الگ ہے اس سے بھی یہ بات مزید پختہ ہو جاتی ہے۔

مزید فائدے کیلئے آپ سوال نمبر: (104805) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں