ہفتہ 22 ربیع الثانی 1443 - 27 نومبر 2021
اردو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان : (قرآن پڑھو یہ اپنوں کی شفاعت کے لیے آئے گا۔)کا کیا مطلب ہے؟

سوال

امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (قرآن پڑھو یہ اپنوں کی شفاعت کے لیے آئے گا۔ زاہراوین یعنی سورت بقرہ اور آل عمران پڑھو۔۔۔) الحدیث، تو یہاں پر عربی لفظ: { اقرؤوا } جس کا معنی پڑھنا کیا جاتا ہے، تو اس کی حقیقی معنی کیا ہے حفظ کرنا مراد ہے یا صرف تلاوت مراد ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان میں موجود عربی الفاظ:   اقرؤوا القرآن  کا مطلب ہر قسم کی تلاوت ہے، یعنی قرآن کی تلاوت کرو چاہے وہ قرآن مجید پر دیکھ کر ہو یا زبانی ہو۔

حدیث کے اگلے الفاظ: (اپنوں کی شفاعت کے لیے آئے گا) کا مطلب ہے کہ قرآن پڑھنے والوں کے لیے۔ ماخوذ از: "التيسير شرح الجامع الصغير" از مناوی (1/193)

مطلب یہ ہے کہ جو بھی قرآن کریم کی پابندی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے تو اسے یہ ثواب حاصل ہو گا، پابندی کا معنی حدیث کے عربی الفاظ: " لأصحابه " میں موجود ہے؛ کیونکہ صاحب عربی زبان میں ایسے شخص کو کہتے ہیں جو کسی کے ساتھ لمبا وقت گزارے۔

جیسے کہ دائمی فتوی کمیٹی کے فتوی کے دوسرے ایڈیشن (3/125) میں ہے کہ:
"یہ حتمی بات ہے کہ قرآن کریم پڑھ کر قرآن کریم کے تقاضوں کے مطابق ان پر عمل کرنے والا، قرآنی احکامات لاگو کرنے والا، اسے اچھی طرح یاد رکھنے والا، پابندی کے ساتھ تلاوت کرنے والا شخص رضائے الہی اور جنت پا کر کامیاب ہو جائے گا، اسے محرر فرشتوں کے ہمراہ جنت میں بلند درجات بھی نصیب ہوں گے، قرآن کریم اس کی شفاعت بھی کرے گا بلکہ قرآن پر عمل کرنے والوں کے حق میں جھگڑا بھی کرے گا چاہے اسے زبانی قرآن یاد ہو یا نہ یاد ہو ،اسے پڑھنے والا مصحف دیکھ کر تلاوت کرتا ہوں یا زبانی تلاوت کرتا ہو، اس کی دلیل صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (قرآن پڑھو یہ اپنوں کی شفاعت کے لیے آئے گا) " ختم شد

نیز یہ بھی ہے کہ قرآن مجید کی طرف سے شفاعت پانے کے لیے صرف قرآن مجید کی تلاوت ہی کافی نہیں ہے، بلکہ تلاوت کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے، اس کی دلیل صحیح مسلم: (805) کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (روزِ قیامت قرآن کریم اور اہل قرآن یعنی ان لوگوں کو لایا جائے گا جو قرآن کریم پر عمل کیا کرتے تھے، قرآن سے آگے سورۃ البقرۃ اور آل عمران ایسے ہوں گیں جیسے کوئی دو بادل ہیں، یا دو سیاہ سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی کا شگاف ہے، یا پھر پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو غول ہیں ، دونوں سورتیں اپنے تعلق دار کی طرف داری کر رہی ہوں گی۔)

اسی طرح : " مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح " (4/1461) میں ہے کہ:
"حدیث کے الفاظ: (جو قرآن کریم پر عمل کیا کرتے تھے) اس بات کی دلیل ہیں کہ عمل کے بغیر صرف تلاوت کرنے والا اہل قرآن میں سے نہیں ہے، نہ ہی قرآن ان کی شفاعت کرے گا، بلکہ قرآن ایسے بد عمل لوگوں کے خلاف حجت ہوگا۔" ختم شد

الشیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (قرآن پڑھو یہ اپنوں کی شفاعت کے لیے آئے گا۔) یہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے، یہاں پر "اپنوں" کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کریم پر عمل کرتے ہیں، جیسے کہ ایک اور حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (روزِ قیامت قرآن کریم اور اہل قرآن یعنی ان لوگوں کو لایا جائے گا جو قرآن کریم پر عمل کیا کرتے تھے۔۔۔ الخ)" ختم شد
مجموع فتاوى ابن باز (8/156)

مندرجہ بالا تفصیلات کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ انسان قرآن کریم یاد کرنے کی کوشش ہی نہ کرے؛ کیونکہ حافظ قرآن دوسروں سے زیادہ خوبی کا مالک ہے، اس کا مقام و مرتبہ الگ ہے جو کہ نصوص سے ثابت ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (14035) اور (20803) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب