اللہ تعالی نے عیسیٰ علیہ السلام کی ان کی والدہ سے پیدائش کی ذمہ داری ایک فرشتے کی لگائی تھی جو کہ ان کے سامنے ایک انسان کی شکل میں آیا تھا، اللہ تعالی نے اسی چیز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
ترجمہ: اور وہ پاک دامن خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا [الانبیاء: 91]
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا
ترجمہ: اور مریم بنت عمران جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی پس ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی۔[التحریم: 12]
اور جس فرشتے کے ذریعے روح پھونکی گئی وہ جبریل علیہ السلام تھے، جیسے کہ آیات کا سیاق اس بات کا شاہد ہے، پھر اسی طرح اس فرشتے کی بیان کی جانے والی خوبیاں "روح" اور "رسول" بھی بتلاتی ہیں کہ اس فرشتے سے مراد سیدنا جبریل علیہ السلام ہیں، پھر ان کی اللہ تعالی کی طرف نسبت اور اضافت اس بات میں مزید تاکید پیدا کر دیتی ہیں۔
فرمانِ باری تعالی ہے:
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا * فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا * قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا * قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا * قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا * قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا
ترجمہ: اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔ جبکہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی جانب آئیں [16] اور ان لوگوں سے پردہ کر لیا پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا [17] وہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ [18] اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔ [19] کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہ لگا اور نہ میں بد کار ہوں۔ [20] اس نے کہا بات تو یہی ہے، لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ یہ میرے لیے بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی اور اپنی خاص رحمت بنا دیں گے ،یہ تو ایک طے شدہ بات ہے ۔[مریم: 16 - 21]
ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فرمانِ باری تعالی ہے: فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا یعنی: عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جب مریم لوگوں سے دور گئیں اور لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا ، اور وہ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا یعنی: پوری انسانی شکل میں سیدہ مریم کے سامنے ظاہر ہوا ۔
مجاہد، ضحاک، قتادہ، ابن جریج، وہب بن منبہ اور سدی کہتے ہیں کہ فرمانِ باری تعالی: فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا اس آیت میں مذکور روح سے مراد سیدنا جبریل علیہ السلام ہیں ۔
ان کا موقف قرآن کریم کے مطابق بالکل واضح ہے کہ قرآن کریم میں روح الامین کا لقب سیدنا جبریل علیہ السلام کے لیے ہی استعمال ہوا ہے، مثلاً: فرمانِ باری تعالی ہے: نزلَ بِهِ الرُّوحُ الأمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ ترجمہ: اس قرآن کو روح الامین نے اتارا ہے آپ کے دل پر تا کہ آپ ڈرانے والوں میں شامل ہو جائیں۔ الشعراء: ( 193،194) ۔۔۔" ختم شد
تفسیر ابن کثیر: (5/219-220)
اللہ عزوجل نے اپنے نبی عیسیٰ علیہ السلام کو اسی انداز سے پیدا فرمایا تھا، یہ ایسا طریقہ تھا کہ دیگر سب انسان اس انداز سے پیدا نہیں ہوئے، چنانچہ اللہ تعالی کا اس انداز سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرنا اللہ تعالی کی قدرت کا اظہار ہے، اس میں اللہ تعالی کی مشیئت اور حسن انتخاب کا مظہر بھی ہے کہ اللہ تعالی جو چاہے اور جیسے چاہے اور جس کو چاہے پیدا فرمائے اور اسے چنیدہ بنا لے، اللہ کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں، نہ ہی اس کے احکامات کو کوئی مسترد کرنے والا ہے، اور وہ اس طرح کے کسی بھی منفی رد عمل سے بلند و بالا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالی نے ایک جگہ پر یہ بھی فرمایا:
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
ترجمہ: یقیناً عیسیٰ علیہ السلام کی اللہ کے ہاں مثال آدم جیسی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور پھر اسے کہا: "کن" یعنی ہو جا، تو وہ ہو گیا۔[آل عمران: 59]
اس آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فرمانِ باری تعالی : إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ یعنی اللہ تعالی کے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرنے کی مثال كَمَثَلِ آدَمَ آدم کو پیدا کرنے جیسی ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی کی بات ہے ؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا تو باپ بھی نہ تھا اور ماں بھی نہ تھی ، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم ہو جا تو وہ اسی وقت ہو گیا ، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا ۔" ختم شد
تفسیر ابن کثیر: (2/ 49)
ایک اور مقام پر امام ابن کثیر رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
"فرمانِ باری تعالی: قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَم أَكُ بَغِيًّا یعنی مطلب یہ ہے کہ: سیدہ مریم علیہا السلام کو اس بات سے بہت زیادہ تعجب ہوا اور کہنے لگیں: میرے ہاں بچے کی پیدائش کیسے ہو سکتی ہے؟ یعنی یہ بچہ مجھ سے کس طرح پیدا ہو گا اور مجھے میں تو بچہ پیدا کرنے والی خوبیاں ہی موجود نہیں ہیں، کہ نہ تو میں شادی شدہ ہوں ، اور نہ ہی میں غلط کاری میں ملوث ہوں؛ اسی لیے کہا کہ: وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَم أَكُ بَغِيًّا یعنی: مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں ہے اور نہ ہی میں زانیہ ہوں۔ ۔۔
اللہ تعالی نے مزید فرمایا: قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ یعنی: مریم علیہا السلام نے جو سوال فرشتے کے سامنے رکھا تو فرشتے نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: یہ فیصلہ تو تیرے رب کی طرف سے ہو چکا ہے اور اب آپ کے ہاں بچہ پیدا ہو کر رہے گا چاہے آپ شادی شدہ نہ ہوں، اور چاہے آپ غلط کار بھی نہیں ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالی تو جو چاہے پیدا کر سکتا ہے، اسی لیے واضح فرمایا کہ: وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ یعنی: اس عمل کو ہم نشانی بنائیں گے کہ اس سے لوگوں کو رہنمائی ملے گی، اور لوگوں کو عملی طور پر پتہ چلے گا کہ ان کا خالق اور عدم سے وجود بخشنے والا رب کتنی قدرت اور طاقت والا ہے کہ وہ لوگوں کی پیدائش بھی مختلف انداز سے کرنے پر قادر ہے کہ سب سے پہلے ساری انسانیت کے جد امجد کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا، پھر حوا علیہا السلام کو بغیر ماں کے صرف باپ کے ذریعے پیدا فرمایا، پھر بقیہ مخلوقات ماں اور باپ کے ذریعے پیدا کیں، جبکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے صرف ماں سے پیدا کیا ، تو اس طرح تخلیقِ انسان کی ممکنہ چاروں صورتیں مکمل ہو گئیں جو کہ اللہ تعالی کی کمال قدرت اور طاقت کی دلیل ہیں اور اس بات کی نشانی ہیں کہ اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی پروردگار ہے۔
پھر فرمانِ باری تعالی : وَرَحْمَةً مِنَّا کا مطلب ہے کہ: ہم بغیر باپ کے پیدا ہونے والے بچے کو اللہ تعالی طرف سے رحمت بنائیں گے جو کہ انبیائے کرام میں شامل ہو گا اور نبی بن کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دے گا اور وحدانیت الہی کا پرچار کرے گا۔۔۔" مختصراً ختم شد
"تفسير ابن كثير" (5/220)
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (6333) کا جواب ملاحظہ کریں:
جس کا حاصل کلام یہ ہے کہ:
اللہ تعالی نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے صرف ماں سے پیدا فرمایا، اور ان کی والدہ میں روح پھونکنے کی ذمہ داری معزز ، امانتدار اور قاصد فرشتے کی لگائی جو کہ سیدنا جبریل علیہ السلام تھے، جنہیں اللہ تعالی نے "روح القدس" کا لقب دیا ہے۔
لیکن ان کے علاوہ جتنے بھی بنی نوعِ آدم ہیں ان سب کو اللہ تعالی نے مرد اور عورت کے نطفے کے ملاپ سے پیدا کیا ہے، چنانچہ جب ان دونوں کے پانی کا آپس میں ملاپ ہو اور اللہ تعالی کی مشیئت بھی شامل حال ہو جائے تو حمل ٹھہر جاتا ہے، اور 120 دن کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، آپ کہتے ہیں کہ ہمیں صادق اور مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بتلایا : (تمہاری پیدائش کی تیاری تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک [نطفے کی شکل میں ]ہوتی ہے پھر اتنی ہی مدت خون کے لوتھڑے کی صورت اختیار کیے رہتا ہے اور پھر وہ اتنے ہی دنوں تک ایک چبائے ہوئے گوشت کی طرح رہتا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی ایک فرشتہ روح پھونکنے کے لیے بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں ( کے لکھنے ) کا حکم دیتا ہے ۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل ، اس کا رزق ، اس کی عمر اور یہ کہ بد ہے یا نیک ، لکھ دے۔) اس حدیث کو امام بخاری: (3208) اور مسلم : (2643) نے روایت کیا ہے۔
چنانچہ جنین کی شکل کی بناوٹ، اعضائے جسم کی تخلیق، اور جنین سے متعلقہ امور کی تحریر، اور روح پھونکنے کا عمل : اس جنین پر مقرر فرشتہ سر انجام دیتا ہے، اس فرشتے کی تقرری اللہ تعالی کے حکم سے ہوتی ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق کے معاملے میں یہ کام سیدنا جبریل علیہ السلام کے ذمہ تھا، انہوں نے ہی عیسیٰ علیہ السلام کی روح ان کی والدہ میں پھونکنے کی ذمہ داری نبھائی، ان کی یہ ڈیوٹی اللہ تعالی کی طرف سے لگائی گئی تھی، یہی صحیح ترین موقف ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"مسیح عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا جائے گا کہ انہیں ان کی والدہ نے جنم دیا، لہذا انہیں مسیح بن مریم کہا جائے گا، کیونکہ مسیح علیہ السلام مریم علیہا السلام کے جزو بدن تھے، آپ کی پیدائش مریم علیہا السلام کے شرمگاہ میں روح پھونکے جانے کے بعد ہوئی جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
ترجمہ: اور مریم بنت عمران جنہوں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی پس ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی۔ اور انہوں نے اپنے رب کے کلام اور کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھیں۔ [التحریم: 12]
ایک اور مقام پر فرمایا:
فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
ترجمہ: تو ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا [الانبیاء: 91]
جبکہ سیدہ حوا کی پیدائش آدم علیہ السلام کے بدن سے لیے گئے حصے سے ہوئی، بالکل ایسے ہی جیسے آدم علیہ السلام کی تخلیق زمین کے مختلف اجزا سے کی گئی جس میں پانی اور مٹی کے ساتھ ہوا بھی شامل تھی کہ ہوا نے گوندھی ہوئی مٹی کو خشک کیا اور وہ مٹی سخت ہو گئی۔ اسی لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آدم نے حواء کو جنم دیا، یا مٹی نے آدم کو جنم دیا۔ جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا جائے گا کہ مریم علیہا السلام نے عیسیٰ کو جنم دیا؛ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق دو بنیادی چیزوں کے ذریعے ہوئی، مریم اور جبریل علیہ السلام کے ان میں روح پھونکنے کی وجہ سے، جیسے کہ اللہ تعالی نے واضح فرمایا:
فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا * قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا * قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا * قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا * قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا* فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا
ترجمہ: تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا [17] یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں اگر تو ذرا بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ [18] اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔ [19] کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہ لگا اور نہ میں بد کار ہوں۔ [20] اس نے کہا بات تو یہی ہے، لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت یہ تو ایک طے شدہ بات ہے ۔ [21] تو مریم امید سے ہو گئیں اور حمل کے ساتھ دور کی جگہ پر چلی گئیں۔ [مریم: 17 - 22] تو ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مریم علیہا السلام عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ امید سے تب ہوئیں جب روح پھونکی گئی۔ ایسا نہیں تھا کہ کچھ عرصہ تک بغیر روح پھونکے امید سے رہیں اور پھر دیگر بچوں کی طرح بعد میں روح پھونکی گئی؛ چنانچہ واضح ہونا چاہیے کہ حمل کے لیے روح پھونکنے اور زندگی ڈالنے کے لیے روح پھونکنے میں فرق ہے۔" ختم شد
دیکھیں: “مجموع الفتاوى” (5/271) اور (5/266) کا مطالعہ کریں۔
علامہ سعدی رحمہ اللہ اپنی تفسیر سعدی: (530) میں کہتے ہیں:
"اور جس وقت جبریل علیہ السلام سیدہ مریم علیہا السلام سامنے نہایت خوبصورت اور مکمل انسان کی شکل میں آئے تو سیدہ مریم علیہا السلام نے فرمایا: قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا یعنی: یقیناً میں رحمن کی پناہ چاہتی ہوں تجھ سے اگر تو تقوی والا ہے۔ تو اللہ تعالی نے سیدہ مریم کی پاکدامنی اور عفت کا بدلہ پاکدامنی اور عفت کے ساتھ دیا اور انہیں بغیر باپ کے بیٹا عطا کر دیا، اور جبریل علیہ السلام نے ان میں روح پھونکی اور وہ اللہ کے حکم سے امید سے ہو گئیں۔" ختم شد
آپ رحمہ اللہ صفحہ: 874 میں مزید کہتے ہیں:
"فرمانِ باری تعالی: وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا یعنی: عمران کی بیٹی مریم نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی۔ مطلب اپنے آپ کو بے حیائی اور برائی سے دور رکھا یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ آپ علیہا السلام کامل دیندار، پاک باز اور پاکدامن تھیں۔ تو فرمایا: فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا ہم نے ان میں سیدنا جبریل علیہ السلام کے ذریعے روح پھونک دی، یہ پھونک گریبان میں پھونکی گئی تھی جو کہ مریم علیہا السلام تک پہنچ گئی، اور پھر آپ نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو جنم دیا، اور آپ اللہ کے معزز رسول اور عظمت والے فرمانروا تھے۔" ختم شد
مزید کے لیے دیکھیں: تفسیر قرطبی: (18/204) ، اور أضواء البيان (3/449)
علمائے کرام کا سیدہ مریم علیہا السلام کی مدت حمل کے بارے میں اختلاف ہے:
جمہور اہل علم یہ کہتے ہیں کہ: یہ نو ماہ کا دورانیہ ہی تھا جیسے کہ دیگر انسانوں کی تخلیق کا ہوتا ہے۔
جبکہ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: کہ یہ آٹھ ماہ کا دورانیہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹھ ماہ کا جنین باہر آ جائے تو وہ باقی نہیں رہتا، اس کی وجہ یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی خاصیت باقی رہے۔
جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ مریم امید سے ہوئی اور فوری جنم دے دیا۔
اور راجح موقف یہی ہے کہ وہ بھی اسی طرح امید سے رہیں جیسے دیگر خواتین رہتی ہیں۔
دیگر انسانوں کی روح پھونکنے کے لیے مقرر فرشتے کے حوالے سے ہمیں کہیں کوئی ایسی وضاحت نہیں ملی جس میں اس فرشتے کے نام کا ذکر ہو، چنانچہ یہ سوال کرنا اور اس سوال کا جواب تلاش کرنا دونوں ہی تکلف ہیں، نہ ہی اس کا جواب ملنے سے کوئی خاطر خواہ کا فائدہ ہونے والا ہے۔
واللہ اعلم