جمعرات 15 رجب 1440 - 21 مارچ 2019
اردو

فرانس میں مقیم خاتون نقاب اتارنے کے بارے میں سوال پوچھتی ہے۔

سوال

میں فرانس میں مقیم ہوں اور نقاب پہنتی ہوں، آپ وہاں پر مسلمانوں کے حالات سے واقف ہیں تو میں کیا کروں؟ مجھے نقاب بہت پسند ہے لیکن نقاب کے ساتھ زندگی بہت مشکل ہے، خصوصاً میرا خاوند بھی مجھے کہتا ہے کہ ان حالات میں نقاب نہ پہنوں، اور ان کا ماننا ہے کہ میں ایسے معاملے میں سختی کر رہی ہوں جس میں رخصت ہے، اس کی وجہ سے میرے خاوند پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں کہ وہ اب دینی طور پر پسپا ہو رہا ہے اور اس کی نفسیات چکنا چور ہو چکی ہے؛ کیونکہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ پر امن انداز سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کہ میں نقاب پہننے پر مصر رہوں یہ میرے لیے افضل ہے یا ایسے حالات میں میرا نقاب پہننا تشدد اور شدت پسندی میں آئے گا؟ یہ بات تو مسلمہ ہے کہ شرعی امور دائمی طور پر مکلف کی استطاعت کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، تو اب مجھے یہ کیسے معلوم ہو گا کہ میں اس عبادت کو کرنے کی استطاعت رکھتی ہوں یا نہیں؟ اس مسئلے کی وجہ سے میری زندگی پر بہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے، اور میں اپنے بارے میں کوئی مناسب فیصلہ نہیں کر پا رہی ۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

بالکل ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ ہماری مسلمان بہنوں کو کچھ مغربی ممالک میں نقاب پہننے کی وجہ سے خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔

اور علمائے کرام نے صراحت کے ساتھ بوقت ضرورت چہرہ یا بدن کا کچھ حصہ کھولنے کی اجازت دی ہے، مثال کے طور پر علاج معالجے کے وقت ایسا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

بیوقوف لوگوں کی جارحیت سے بچاؤ علاج معالجے سے کم ضروری نہیں ہے، بلکہ اکثر اوقات جارحیت سے بچاؤ علاج معالجے کی ضرورت سے کہیں زیادہ ضروری ہوتا ہے۔

چنانچہ اس بنا پر جب غالب گمان یہی ہو کہ آپ کو نقاب پہننے کی وجہ سے جارحیت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا تو اس وقت چہرہ کھول کر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس میں آپ پر کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ آپ مجبور ہو کر چہرہ کھول رہی ہیں نقاب کو آپ نے مسترد نہیں کیا۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں