کھیتی اور زرعی پیداوار کی زکاۃ کب واجب ہوتی ہے؟

سوال 243326

لوبیا اور مٹر کی زکاۃ کس طرح ادا کی جائے؟ کیا کٹائی کے فوراً بعد زکاۃ نکال دی جائے، یا اس وقت تک انتظار کیا جائے جب وہ خشک ہو جائیں؟

جواب کا خلاصہ

اناج اور زرعی پیداوار کی زکاۃ ان کے تیار ہونے کے آغاز سے واجب ہو جاتی ہے، جبکہ زکاۃ نکالنے کا وقت اناج کو گاہ لینے کے بعد صاف کرنے پر ہوتا ہے، اور پھلوں میں خشک ہونے کے بعد ہوتا ہے۔

متعلقہ جوابات

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
اناج کی زکاۃ — جن میں لوبیا اور مٹر بھی شامل ہیں — اس وقت ادا کی جائے گی جب انہیں چھلکوں، بھوسے اور تنکوں سے صاف کر لیا جائے، اور کنکریوں اور دیگر آلائشوں سے اچھی طرح صاف کر لیا جائے۔ اس سے پہلے زکاۃ ادا کرنا کافی نہیں ہو گا۔
اسی پر مختلف فقہی مذاہب کے تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے۔

چنانچہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں، اور ان کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ کھیتی کی زکاۃ گہائی، صفائی اور چھان پھٹک کے بعد ہی لی جاتی ہے، اور کھجور کی زکاۃ خشک ہونے کے بعد ہی لی جاتی ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: جامع البیان (9/611)

اور ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’امت کے کسی فرد کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ زکاۃ کٹائی کے دن ادا کرنا جائز نہیں؛ بلکہ کھیتی میں زکاۃ کٹائی، گہائی، چھان پھٹک اور ناپ تول کے بعد ادا کی جاتی ہے، اور پھلوں میں خشک ہونے، صفائی اور ناپ تول کے بعد‘‘۔
المحلی بالآثار (4/20)۔

اور بہوتی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اناج کی زکاۃ اس حالت میں ادا کرنا واجب ہے کہ اسے چھلکے اور بھوسے سے صاف کیا ہوا ہو، اور پھل اس حالت میں ہوں کہ خشک ہو چکے ہوں۔۔۔ کیونکہ یہی ان کی کامل ترین حالت ہے، اور ذخیرہ کرنے کے لیے یہی کچھ کرنا پڑتا ہے، اور اسی وقت اس کی زکاۃ نکالنا لازم ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی اس کے الٹ چلتے ہوئے بالیوں، تازہ کھجوروں یا انگوروں ہی کی حالت میں زکاۃ نکال دے تو یہ کافی نہ ہو گی۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: کشاف القناع (2/212)

اور دائمی کمیٹی کے فتاویٰ میں ہے:
’’اناج کی زکاۃ انہیں صاف کر کے پھر ادا کی جائے گی، اور پھلوں کی زکاۃ خشک ہونے کے بعد۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ (9/176 )

رہا زکاۃ کے واجب ہونے کا وقت، تو وہ زرعی پیداوار کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کی علامات ظاہر ہونے کے وقت ہوتا ہے، یعنی جب دانہ سخت ہو جائے اور پھل میں پختگی آ جائے۔ اس حالت میں کسان کے ذمے زکاۃ واجب ہو جاتی ہے، کیونکہ اب یہ مکمل پیداوار شمار ہوتی ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اناج میں زکاۃ کے واجب ہونے کا وقت وہ ہے جب دانہ سخت ہو جائے، اور پھلوں میں جب ان کی پختگی ظاہر ہو جائے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المغنی (4/169)

زکاۃ کے واجب ہونے کے وقت کو جاننے سے چند احکام مترتب ہوتے ہیں:
- اگر واجب ہونے کے وقت سے پہلے فصل تلف ہو جائے تو زکاۃ بالکل ساقط ہو جاتی ہے، اور اگر واجب ہونے کے بعد تلف ہو تو زکاۃ ساقط نہیں ہوتی، الا یہ کہ وہ تلفی کسی آسمانی آفت یا ایسے سبب سے ہو جس میں کسان کا کوئی دخل نہ ہو۔
- اگر پیداوار کو پختگی ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کر دیا جائے تو بیچنے والے پر زکاۃ نہیں ہو گی، بلکہ خریدار پر ہو گی، اور اگر پختگی ظاہر ہونے کے بعد فروخت کی جائے تو زکاۃ بیچنے والے پر ہو گی۔
- اگر کھیتی یا پھل پختگی ظاہر ہونے سے پہلے وراثت میں ملیں تو وارث پر زکاۃ لازم ہو گی، اور اگر صلاح ظاہر ہونے کے بعد وراثت میں ملیں تو وارث پر زکاۃ لازم نہیں ہو گی۔

جیسے کہ دائمی کمیٹی کے فتاویٰ میں ہے:
’’جب دانہ سخت ہو جائے اور پھل میں پختگی ظاہر ہو جائے تو زکاۃ واجب ہو جاتی ہے، اور اس کا وجوب اس وقت مستحکم ہوتا ہے جب اسے کھلیان میں جمع کر دیا جائے۔ اگر اس سے پہلے کسان کی کسی کوتاہی کے بغیر فصل تلف ہو جائے تو زکاۃ ساقط ہو جاتی ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ (9/176)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (99843) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:
مندرجہ بالا تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا:
وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
’’اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔‘‘ سورۃ الأنعام، آیت: 141۔

یہ آیت زکاۃ کی مقدار اور نصاب مقرر ہونے سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی۔
اس آیت میں جس ’’حق‘‘ کا ذکر ہے، اس سے مراد زکاۃ نہیں، بلکہ زکاۃ کے علاوہ ایک اور حق ہے، اور وہ مستحب حق ہے۔ چنانچہ پھلوں اور کھیتی کے مالک کو اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ کٹائی اور توڑائی کے دن فقراء اور مساکین کو اپنی پیداوار میں سے اتنا دے دے جتنا اس کا دل چاہے۔

چنانچہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’یہ زکاۃ کے علاوہ ایک حق ہے، اور وہ یہ ہے کہ کاٹنے والا کٹائی کے وقت اپنی خوش دلی سے کچھ دے دے، اور یہ لازم ہے، تاہم اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں؛ یہی آیت کا ظاہر ہے، اور سلف کے ایک گروہ کا یہی قول ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المحلی بالآثار (4/21)

اور امام طبری رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’وہ شخص عشر اور نصفِ عشر کے علاوہ بھی مانگنے والے فقیروں کو کھلاتا ہے۔‘‘

اسی طرح عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’وہ کٹائی کے دن اپنی پیداوار میں سے جتنا میسر ہو؛ دے دیتا ہے، اور یہ زکاۃ نہیں ہوتی۔‘‘

اور مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’جب مساکین تمہارے پاس آ جائیں تو تم ان کے لیے اس میں سے ڈال دو، اور جب تم اسے صاف کر لو اور ناپ تول شروع کرو تو ان کے لیے اس میں سے مٹھی بھر دے دو، اور جب مقدار معلوم ہو جائے تو اس کی زکاۃ یعنی عشر الگ کر لو۔ اور جب کھجوروں کی چنائی شروع کرو تو ٹوٹے ہوئے خوشے مساکین کو دے دو، اور جب ناپ تول شروع کرو تو ان کے لیے اس میں سے مٹھی بھر دے دو، اور جب مقدار معلوم ہو جائے تو اس کی زکاۃ الگ کر لو۔‘‘
ماخوذ از: دیکھیے: تفسیر الطبری (9/600-604)

اور امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ جو شخص کھیتی کاٹے یا پھل توڑے، اس پر لازم ہے کہ جو لوگ وہاں موجود ہوں انہیں زرعی محصول میں سے کچھ نہ کچھ دے ان کی دلجوئی کرے، اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ کا مفہوم ہے؛ اور یہ حق زکاۃ کے علاوہ ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: تفسیر القرطبی (18/239)

اسی طرح ابن جزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’کہا گیا ہے کہ یہاں ’’حق‘‘ سے مراد زکاۃ ہے، لیکن یہ موقف دو وجہوں سے کمزور ہے:
اول: یہ کہ یہ آیت مکی ہے، جبکہ زکاۃ مدینہ میں فرض کی گئی۔
دوم : یہ کہ زکاۃ کٹائی کے دن ادا نہیں کی جاتی، بلکہ اناج اور پھلوں کو جمع کرنے کے دن ادا کی جاتی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں حق سے مراد وہ صدقہ ہے جو کٹائی کے دن مساکین کو دیا جاتا تھا، یہ پہلے واجب تھا، پھر عشر کے ذریعے منسوخ ہو گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ دانے ہیں جو بالیوں سے خود بخود گر جاتے ہیں۔ اس قول کے مطابق یہ حکم استحباب پر محمول ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: التسهيل لعلوم التنزيل (ص: 474)

خلاصہ یہ ہے:
اناج اور پھلوں کی زکاۃ کے واجب ہونے کا وقت ان کے پکنے کا آغاز ہے، جبکہ زکاۃ نکالنے کا وقت اناج میں صفائی اور تنقیہ کے بعد، اور پھلوں میں خشک ہونے کے بعد ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

فصل اور پھلوں کی زکاۃ

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android