اجنبی عورت سے مرد کا مصافحہ کرنا

سوال 2459

کیا مرد کے لیے کسی اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا حرام ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اجنبی عورت سے مرد کا مصافحہ کرنا حرام ہے اور اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کی دلیل معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی گاڑنا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں)۔
اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے ’’صحیح الجامع‘‘ (5045) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

بے شک اجنبی عورت کو چھونا فتنہ، شہوت کے ابھار اور حرام میں پڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اور کوئی یہ نہ کہے کہ ’’نیت صاف ہے‘‘ یا ’’دل پاک ہے‘‘؛ کیونکہ سب سے پاکیزہ دل اور سب سے زیادہ عفت والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت کو ہاتھ نہیں لگایا۔ حتیٰ کہ بیعت کے موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے ہاتھ میں ہاتھ ملا کر بیعت نہیں لی، بلکہ صرف زبانی بیعت لیتے تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب مومن عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو ان کا امتحان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق لیا جاتا:يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ ترجمہ: ’’ اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی اور زنا نہیں کریں گی ۔‘‘ (سورۃ الممتحنہ: 12) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جو عورتیں اس بات کا اقرار کرتیں، وہ امتحان میں کامیاب سمجھی جاتیں۔ اور جب وہ عورتیں اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کرتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے: (جاؤ، میں نے تم سے بیعت کر لی۔) اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ نہیں لگایا، بلکہ صرف زبانی بیعت لیتے تھے۔  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید فرماتی ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے صرف اسی چیز کا اقرار لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا،  اور کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں پکڑا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں سے بیعت لیتے وقت ہوئے فرماتے تھے: (میں نے زبانی کلامی ہی تم سے بیعت لے لی  ہے۔)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب کوئی عورت ان شرائط کا اقرار کرتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زبانی فرماتے: ’’میں نے تمہاری بیعت قبول کی‘‘، اور اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بیعت کے وقت کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔
ماخوذ از: صحیح بخاری (4512) اور صحیح مسلم: (3470)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں سے زبانی بیعت لیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، سوائے اس عورت کے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی لونڈی ہوتی۔
بخاری: ( 6674)

اور بعض مسلمان اس وقت سخت شرمندگی اور شدید جھجک محسوس کرتے ہیں جب کوئی غیر محرم عورت ان سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتی ہے، اور ان میں سے بعض لوگ عورتوں کے ساتھ اختلاط کے ساتھ ساتھ یہ عذر بھی پیش کرتے ہیں کہ انہیں اسکول یا یونیورسٹی میں ساتھ موجود کسی استانی یا طالبہ سے، یا دفتر میں ساتھ کام کرنے والی خاتون ملازمہ سے، یا اجلاسوں اور تجارتی ملاقاتوں وغیرہ میں مصافحہ مجبوری کے تحت کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی قابلِ قبول عذر نہیں۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے نفس اور شیطان پر قابو پائے، اور اپنے دین میں مضبوط اور با حوصلہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔

مسلمان شائستگی کے ساتھ معذرت بھی کر سکتا ہے، اور مصافحہ نہ کرنے کی وجہ بھی واضح کر سکتا ہے، اور یہ بات بیان کر سکتا ہے کہ اس کا مقصد کسی کی توہین نہیں بلکہ اپنے دین کے احکام کی پابندی ہے۔ اس طرزِ عمل سے — عموماً — اسے دوسروں کا احترام حاصل ہوتا ہے۔ ابتدا میں اگر وہ لوگ تعجب کریں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، بلکہ بسا اوقات یہ عملی طور پر دین کی دعوت کا ایک موقع بن جاتا ہے۔ اللہ ہی عمل کی توفیق عطا کرنے والا ہے۔

حوالہ جات

سلام کرنے کے آداب
مرد و عورت کے درمیان تعلقات

ماخذ

الشيخ محمد صالح المنجد

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android