ہفتہ 22 محرم 1441 - 21 ستمبر 2019
اردو

کریڈٹ کارڈ کے حاملین کیلیے ادائیگی پر آفر لینے کا حکم

سوال

کیا کسی غیر اسلامی بینک کی نقد واپسی کی آفر سے فائدہ اٹھانا جائز ہے؟ مثال کے طور اگر کوئی آدمی 5000 ہزار درہم کی خریداری کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کرتا ہے تو اسے 50 درہم واپس ملیں گے، اور اگر کسی آدمی نے کسی غیر ملکی کرنسی میں خریداری کی تو پھر بھی اسے اسی تناسب سے پیسے واپس ملیں گے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

کریڈٹ کارڈ  کے ذریعے لین دین کے جواز کیلیے اس کا درج ذیل شرعی ممنوعات سے خالی ہونا ضروری ہے:

1- کارڈ کے اجرا یا تجدید یا پیسے نکالنے کی صورت میں  بینک کا یہ خدمات پیش کرنے کیلیے آنے والے حقیقی اخراجات سے زیادہ فیس وصول کرنا ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ سے رقم نکالنا جاری کنندہ [یعنی بینک] سے قرض لینے کے مترادف ہوتا ہے، اور قرضے پر حقیقی رقم سے زیادہ رقم کا مطالبہ کرنا سود کہلاتا ہے۔

2- ادائیگی میں تاخیر کی صورت پر جرمانہ  نہ لگے، سودی بینکوں سے جاری ہونے والے اکثر کارڈوں میں یہی خرابی ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں  کریڈٹ کارڈ سے لین دین کرنا جائز نہیں ہے، چاہے صارف وقت مقررہ سے پہلے قرضہ ادا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہو۔

اس بارے میں مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (97530) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:

اگر مندرجہ بالا شرائط کے مطابق  کریڈٹ کارڈ شرعاً جائز ہو تو پھر نقد واپسی کی آفر سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ راجح یہ ہے کہ مقروض شخص کی جانب سے  قرض خواہ کو اصل قرضے سے کم رقم دے کر قرضہ چکا دینا جائز ہے، یہ شافعی  مذہب میں ایک موقف ہے جبکہ حنبلی فقہ میں بنیادی قول ہے، ویسے بھی  اس صورت میں مقروض شخص کو ہی یقینی طور پر فائدہ ہے اور یہ سود سے بالکل الٹ صورت ہے [کیونکہ سود میں قرض خواہ کا فائدہ ہوتا ہے لیکن اس میں مقروض کا فائدہ ہے]، نیز  کسی کو قرضہ دینا  مقروض کی بھلائی  ہوتی ہے اور اس بھلائی میں مزید اضافہ کرنا  حرام نہیں ہو سکتا۔

شیخ دبیان   موسوعة "المعاملات المالية" (18/ 289- 295) میں کہتے ہیں:

"قرضہ واپس کرنے پر ناقص ادائیگی کی شرط لگانا ۔۔۔

اگر مقروض شخص پیشگی شرط  کے بغیر  واجب الادا رقم سے کم ادا کرے اور قرض خواہ بھی اس پر راضی ہو تو اس کے صحیح ہونے میں علمائے کرام کا کوئی اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ نیکی ہے اور اس پر اجر بھی ملے گا۔

جبکہ مقروض شخص کا  قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لینا حرام ہے کہ مقروض ادائیگی سے عدم استطاعت کا دعوی کرے  تا کہ قرض خواہ  قرضے کی کچھ مقدار کم کر دے، یہ ہتھکنڈا  لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانے کے زمرے میں آتا ہے۔

لیکن اگر مقروض شخص قرضہ لیتے ہوئے یہ شرط لگائے کہ  وہ قرضہ واپس کرتے ہوئے پورا ادا نہیں کرے گا بلکہ کم ادا کرے گا اور قرض خواہ اس پر راضی ہو تو علمائے کرام کے اس بارے میں تین موقف ہیں:

پہلا موقف:

جب مقروض شخص یہ شرط لگائے کہ قرضہ واپس  کرتے وقت معیار یا مقدار میں کم واپس کرے گا تو یہ شرط ہی فاسد ہے، لیکن کیا اس سے ان کا قرضے کا معاہدہ فاسد ہو جائے گا یا نہیں؟ اس بارے میں دو موقف ہیں:

ایک یہ کہ: قرضے کا معاہدہ فاسد نہیں ہو گا، یہ فقہ شافعی  میں صحیح ترین موقف ہے، اور حنبلی فقہ میں مشہور موقف ہے۔

دوسرا یہ کہ: اس سے قرضے کا معاہدہ فاسد ہو جائے گا، یہ شافعی فقہ میں ذیلی موقف ہے اور ابن حزم نے اسی کو اختیار کیا ہے۔۔۔" شیخ دبیان پھر کہتے ہیں:

"دوسرا  موقف:

قرضے کا معاہدہ بھی صحیح ہے اور یہ شرط لگانا بھی درست ہے، یہ بھی شافعی فقہ میں ایک ذیلی موقف ہے، جبکہ حنبلی فقہ میں صحیح موقف سے متصادم  موقف ہے۔

اس کے صحیح ہونے کی توجیہ:

پہلی توجیہ:

شرائط لگانے کے متعلق اصل اور بنیاد یہ ہے کہ وہ جائز ہوتی ہیں ، چنانچہ کسی بھی شرط کو حرام قرار دینے کیلیے اس کی حرمت کی دلیل چاہیے، اور اس مسئلے میں لگائی گئی شرط کے حرام ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

دوسری توجیہ:

قرضے کی سہولت اصل میں مقروض لوگوں کی سہولت کیلیے رکھی گئی ہے، چنانچہ قرضے کی کم مقدار میں واپسی  اس سہولت میں کوئی کمی پیدا نہیں کرتی، البتہ اضافی[ سودی ] رقم لینے سے سہولت کی بجائے مشقت  پیدا ہوتی ہے۔

تیسری توجیہ:

یہ صورت سود کے بالکل الٹ ہے، اس لیے اس کے ممنوع ہونے کا امکان ہی نہیں ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ سود انسان کی مالی ضرورت  سے  ناجائز فائدہ اٹھانے کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے سودی قرضے لوگوں کو دئیے جاتے ہیں اور ساتھ میں یہ شرط لگا دی جاتی ہے کہ مقروض شخص قرضہ واپس کرتے ہوئے وصول کردہ رقم سے زیادہ واپس کرے گا۔ جبکہ اس صورت میں انسان مقروض شخص کی ضرورت پوری کرتا ہے اور پھر یہ بات بھی قبول کر لیتا ہے کہ مخصوص مقدار میں کم رقم واپس کر دینا، تو یہ نیکی اس معاہدے کو حرام نہیں بناتی چاہے اس کی پیشگی شرط ہی کیوں نہ لگا دی جائے۔

تیسرا موقف:

اگر قرضے میں دیا گیا مال ایسی چیزوں میں سے ہے جن کے لین دین میں سود ہوتا ہے[یعنی ربوی اشیا]، تو پھر کم ادائیگی کی شرط لگانا جائز نہیں ہے، اور اگر ان کے لین دین میں سود نہیں ہوتا تو پھر یہ شرط لگانا صحیح ہے، یہ بعض حنبلی فقہا کا موقف ہے۔

اس موقف کی توجیہ یہ ہے کہ:

اگر مال ربوی اشیا میں سے ہے تو پھر ہم جنس ہونے کی وجہ سے برابر سرابر ہونا ضروری ہے، چنانچہ اگر وہ شرط ابتدا سے ہی یہ لگا رہا ہے کہ وہ واپس کم مقدار میں کرے گا تو اس سے برابری ختم ہو جائے گی۔

المغنی میں ہے کہ : "اگر مقروض شخص وصول شدہ قرضہ  سے کم ادا کرنے کی شرط لگائے  اور قرضہ ربوی اشیا میں سے ہو تو پھر یہ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس سے برابری کی شرط ختم ہو جائے  گی جو کہ ربوی اشیا کیلیے ضروری  شرط ہے"

اس پر اعتراض:

یہ وارد ہوتا ہے کہ برابر سرابر اور نقد و نقد  ایسے لین دین میں ہوتا ہے جس میں تجارت اور خرید و فروخت کا عنصر ہو، قرض جیسے معاملات میں انہیں شرائط میں شامل نہیں کیا جاتا؛ کیونکہ قرض دینا تعاون اور خیر خواہی  کا معاملہ ہے تجارتی نہیں ہے، اسی لیے ربوی اشیا پر مبنی قرضے کی صورت میں فوری قبضے کی شرط نہیں لگائی جاتی[اگر لگائی جائے تو وہ قرضہ نہیں رہے گا] اس لیے برابری کی بھی شرط نہیں لگائی جاتی۔ واللہ اعلم

راجح موقف:

مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ قرضے کا ایسا معاہدہ جائز ہے؛ جبکہ مطلق طور پر اسے منع سمجھنا یا اسے غیر ربوی اشیا سے منسلک کرنا بے بنیاد اور بے دلیل موقف ہے۔ واللہ اعلم"

اس بنا پر اگر آپ کا کریڈٹ کارڈ شرعی اعتبار سے صحیح ہے تو پھر اس آفر سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں چاہے آپ کا یہ کارڈ کسی اسلامی بینک سے جاری شدہ ہو یا غیر اسلامی بینک سے۔

اور اگر آپ کا کریڈٹ کارڈ ہی سرے سے غیر شرعی  ہے تو پھر اس کارڈ سے کسی بھی قسم کا لین دین کرنا جائز نہیں ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: اللقاء الشھری نمبر ( 17 ) ۔

تاثرات بھیجیں