اول:
رجوع کا مطلب یہ ہے کہ جس عورت کو طلاقِ رجعی دی گئی ہو، بغیر نئے نکاح کے اسے اس کی پہلی ازدواجی حالت پر واپس لایا جائے۔ (کشاف القناع 5/341)
شافعی فقہ کے عالم خطیب شربینی رحمہ اللہ رجوع کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:
’’عدت کے اندر طلاقِ غیر بائن کے بعد مخصوص طریقے سے عورت کو نکاح کی حالت میں واپس لانا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: )مغنی المحتاج 3/335)
مزید کے لیے ملاحظہ ہو: الموسوعۃ الفقہیۃ (22/104)
اس بنا پر رجوع طلاق کے واقع ہونے کے بعد ہی صحیح ہوتا ہے۔
اور رجوع کو کسی شرط کے ساتھ لٹکانا درست نہیں، جیسے کہ کوئی کہے:
’’جب بھی میں تمہیں طلاق دوں، میرا رجوع سمجھا جائے۔‘‘
ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’رجوع کو شرط کے ساتھ معلق کرنا درست نہیں؛ کیونکہ یہ عورت کو دوبارہ اپنے لیے حلال کرنے کا معاملہ ہے جو نکاح کے مشابہ ہے۔ اگر کوئی کہے: ’ اگر تم چاہو تو میں نے تم سے رجوع کیا ‘ تو یہ صحیح نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی کہے: ’جب بھی میں تمہیں طلاق دوں تو فوری میرا رجوع ہو گا‘ یہ بھی درست نہیں؛ کیونکہ وہ اس حال میں رجوع کر رہا ہے جب اسے رجوع کا حق حاصل ہی نہیں، چنانچہ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی نکاح سے پہلے طلاق دے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المغنی (7/525)
لہٰذا پہلا رجوع معتبر ہی نہیں۔
رہی بات دوسرے رجوع کی، جو طلاق واقع ہونے کے بعد تیسرے حیض کے دوران کیا گیا، تو وہ صحیح ہے کیونکہ وہ عدت کے اندر ہوا ہے۔
طلاقِ رجعی والی عورت کی عدت تین حیض ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ
’’اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین قروء تک روکے رکھیں۔‘‘ [البقرۃ: 228]
یہ حکم ایسی عورت کے بارے میں ہے جو حاملہ نہ ہو اور جسے حیض آتا ہو۔
فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حیض والی عورت کی عدت تین قروء ہے، البتہ یہ اختلاف ہے کہ ’’قرء‘‘ سے مراد حیض ہے یا طہر؟
دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ’’قرء‘‘ سے مراد حیض ہے، اور یہی حنفی اور حنبلی فقہ کا موقف ہے۔
لہٰذا جب عورت تیسرا حیض پورا کر کے غسل کر لے تو اس کی عدت مکمل ہو جاتی ہے۔
مزید کے لیے دیکھیں: المغنی (8/81–84)
دوم:
شوہر کے لیے یہ مناسب نہیں کہ طلاق کو ایسی بات سے مشروط کرے جس کا علم صرف بیوی ہی کو ہو، کیونکہ وہ بات چھپ سکتی ہے، عدت ختم ہو سکتی ہے، اور رجوع کا موقع ضائع ہو سکتا ہے۔
اگر ایسا ہو جائے کہ عورت نے طلاق واقع ہونے کی شرط پوری کر دی، طلاق واقع ہو گئی، اور شوہر کو علم نہ تھا، پھر اس نے عدت کے دوران بیوی سے ہم بستری کر لی، تو بعض فقہاء کے نزدیک ایسی ہم بستری رجوع کے قائم مقام ہوتی ہے، اگرچہ شوہر کو طلاق کے واقع ہونے کا علم نہ ہو۔
مصنف ابن ابی شیبہ (17787) میں حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ:
’’اگر تو فلاں کے گھر داخل ہوئی تو تجھے طلاق ۔‘‘ اب وہ عورت خاوند کی لا علمی میں اسی گھر میں داخل ہو گئی۔
انہوں نے فرمایا:
’’اگر اس نے عدت کے اندر اپنی بیوی سے صحبت کی ہے تو یہی صحبت اس کے لیے رجوع ہے، اور اگر صحبت نہیں کی تو عورت ایک طلاق کے ساتھ جدا ہو چکی ہے۔‘‘
سوم:
آپ کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو نصیحت کرنا جاری رکھیں، اس کی اصلاح کی کوشش کریں، اسے خیر کی طرف بلائیں، برائی سے روکیں، اور اس پر صبر سے کام لیں۔ جدائی میں جلد بازی مناسب نہیں، خصوصاً جبکہ آپ کی اس سے اولاد ہو۔
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (98624) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم