طلاق واقع ہونے سے پہلے رجوع کا حکم، اور یہ کہنا کہ ’’جب بھی میں تمہیں طلاق دوں تو میری طرف سے رجوع سمجھا جائے‘‘

سوال 261464

میرے اور میری بیوی درمیان تقریباً تین سال پہلے ابرو کی تھریڈنگ کروانے کی وجہ سے اختلاف ہوا، تو میں نے اس پر قسم کھائی کہ: ’’اللہ کی قسم! اگر تم نے ابرو کی تھریڈنگ کی تو تمہیں طلاق ۔‘‘ اور میرا مقصد حقیقتاً طلاق کا وقوع ہی تھا، محض دھمکی دینا نہیں تھا۔ میرے قسم کھانے کے تقریباً دو ہفتے بعد مجھے خدشہ ہوا کہ شاید اہلیہ ابرو کی تھریڈنگ کر لے اور مجھے خبر نہ ہو، اور اس طرح اس کی عدت گزر جائے اور ہم لاعلمی میں زنا مبتلا ہو جائیں، تو میں نے دل ہی دل میں (بغیر اس کے علم کے) کہا: ’’اگر اس نے ابرو کی تھریڈنگ کی تو طلاق واقع ہو جائے گی، لیکن میرا اس سے فوری رجوع ہو گا۔‘‘ دو دن پہلے میں نے محسوس کیا کہ اس نے ابرو کی تھریڈنگ کی ہے، میں نے اس سے پوچھا تو اس نے اس کا اعتراف کر لیا۔ میں نے پوچھا کہ قسم کھانے کے بعد پہلی مرتبہ اس نے کب تھریڈنگ کی تھی ؟ تو اس نے بتایا کہ تقریباً تین ماہ پہلے۔ اس بات کا بھی علم رہے کہ جب مجھے یہ معاملہ پتا چلا، میری اہلیہ تیسرے حیض میں تھی، اور اس دوران ہمارے درمیان ناچاقی چل رہی تھی اور کوئی تعلق قائم نہیں ہوا تھا۔ جب مجھے حقیقت معلوم ہوئی اور میں نے اس کے ولی کو اطلاع دی تو اس نے کہا کہ چونکہ وہ ابھی تیسرے حیض میں ہے، اس لیے آپ اس سے رجوع کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا: ’’میں نے اسے رجوع کر لیا ہے۔‘‘ تو میرا دونوں میں سے کون سا رجوع صحیح شمار ہو گا؟ یہ بھی واضح رہے کہ پہلے رجوع کا علم کسی کو نہ تھا اور وہ اس کے ابرو کی تھریڈنگ کرنے سے پہلے تھا، جبکہ دوسرا رجوع تیسرے حیض کے دوران تھا۔ مزید یہ کہ میری بیوی شرعی امور جیسے ابرو کی تھریڈنگ سے بچنا، نماز میں اطمینان رکھنا، اچھی طرح وضو کرنا، نیز ڈرامے دیکھنے اور اپنی ذاتی صفائی اور گھر کی صفائی ستھرائی میں بہت کوتاہی کرتی ہے۔ میں نے اسے بہت نصیحت کی، بستر بھی الگ کیا، اور حتیٰ کہ مارا بھی، لیکن وہ میری نصیحتوں پر عمل نہیں کرتی۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس سے بہترین برتاؤ کا طریقہ کیا ہے؟ اور کیا میرے لیے اسے طلاق دینا بہتر ہو گا؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

رجوع کا مطلب یہ ہے کہ جس عورت کو طلاقِ رجعی دی گئی ہو، بغیر نئے نکاح کے اسے اس کی پہلی ازدواجی حالت پر واپس لایا جائے۔ (کشاف القناع 5/341)

شافعی فقہ کے عالم خطیب شربینی رحمہ اللہ رجوع کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:
’’عدت کے اندر طلاقِ غیر بائن کے بعد مخصوص طریقے سے عورت کو نکاح کی حالت میں واپس لانا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: )مغنی المحتاج 3/335)

مزید کے لیے ملاحظہ ہو: الموسوعۃ الفقہیۃ (22/104)

اس بنا پر رجوع طلاق کے واقع ہونے کے بعد ہی صحیح ہوتا ہے۔
اور رجوع کو کسی شرط کے ساتھ لٹکانا درست نہیں، جیسے کہ کوئی کہے:
’’جب بھی میں تمہیں طلاق دوں، میرا رجوع سمجھا جائے۔‘‘

ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’رجوع کو شرط کے ساتھ معلق کرنا درست نہیں؛ کیونکہ یہ عورت کو دوبارہ اپنے لیے حلال کرنے کا معاملہ ہے جو نکاح کے مشابہ ہے۔ اگر کوئی کہے: ’ اگر تم چاہو تو میں نے تم سے رجوع کیا ‘ تو یہ صحیح نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی کہے: ’جب بھی میں تمہیں طلاق دوں تو فوری میرا رجوع ہو گا‘ یہ بھی درست نہیں؛ کیونکہ وہ اس حال میں رجوع کر رہا ہے جب اسے رجوع کا حق حاصل ہی نہیں، چنانچہ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی نکاح سے پہلے طلاق دے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المغنی (7/525)

لہٰذا پہلا رجوع معتبر ہی نہیں۔

رہی بات دوسرے رجوع کی، جو طلاق واقع ہونے کے بعد تیسرے حیض کے دوران کیا گیا، تو وہ صحیح ہے کیونکہ وہ عدت کے اندر ہوا ہے۔

طلاقِ رجعی والی عورت کی عدت تین حیض ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ
’’اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین قروء تک روکے رکھیں۔‘‘ [البقرۃ: 228]

یہ حکم ایسی عورت کے بارے میں ہے جو حاملہ نہ ہو اور جسے حیض آتا ہو۔

فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حیض والی عورت کی عدت تین قروء ہے، البتہ یہ اختلاف ہے کہ ’’قرء‘‘ سے مراد حیض ہے یا طہر؟
دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ’’قرء‘‘ سے مراد حیض ہے، اور یہی حنفی اور حنبلی فقہ کا موقف ہے۔

لہٰذا جب عورت تیسرا حیض پورا کر کے غسل کر لے تو اس کی عدت مکمل ہو جاتی ہے۔
مزید کے لیے دیکھیں: المغنی (8/81–84)

دوم:
شوہر کے لیے یہ مناسب نہیں کہ طلاق کو ایسی بات سے مشروط کرے جس کا علم صرف بیوی ہی کو ہو، کیونکہ وہ بات چھپ سکتی ہے، عدت ختم ہو سکتی ہے، اور رجوع کا موقع ضائع ہو سکتا ہے۔

اگر ایسا ہو جائے کہ عورت نے طلاق واقع ہونے کی شرط پوری کر دی، طلاق واقع ہو گئی، اور شوہر کو علم نہ تھا، پھر اس نے عدت کے دوران بیوی سے ہم بستری کر لی، تو بعض فقہاء کے نزدیک ایسی ہم بستری رجوع کے قائم مقام ہوتی ہے، اگرچہ شوہر کو طلاق کے واقع ہونے کا علم نہ ہو۔

مصنف ابن ابی شیبہ (17787) میں حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ:
’’اگر تو فلاں کے گھر داخل ہوئی تو تجھے طلاق ۔‘‘ اب وہ عورت خاوند کی لا علمی میں اسی گھر میں داخل ہو گئی۔
انہوں نے فرمایا:
’’اگر اس نے عدت کے اندر اپنی بیوی سے صحبت کی ہے تو یہی صحبت اس کے لیے رجوع ہے، اور اگر صحبت نہیں کی تو عورت ایک طلاق کے ساتھ جدا ہو چکی ہے۔‘‘

سوم:
آپ کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو نصیحت کرنا جاری رکھیں، اس کی اصلاح کی کوشش کریں، اسے خیر کی طرف بلائیں، برائی سے روکیں، اور اس پر صبر سے کام لیں۔ جدائی میں جلد بازی مناسب نہیں، خصوصاً جبکہ آپ کی اس سے اولاد ہو۔
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (98624) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

مطلقہ بیوی سے رجوع

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android