سوموار 2 ربیع الثانی 1440 - 10 دسمبر 2018
اردو

كيا ناخن كے نيچى جمى ميل وضوء ميں خلل انداز ہوتى ہے ؟

27070

تاریخ اشاعت : 11-06-2007

مشاہدات : 5408

سوال

كيا ناخنوں كے نيچے پائى جانے والى ميل كچيل وضوء پر اثرانداز ہوتى ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

الحمد للہ و الصلاۃ والسلام على رسول اللہ و بعد:

چاليس يوم گزرنے سے قبل ناخن تراشنے واجب ہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كے ليے ناخن تراشنے، اور زيرناف بال مونڈنے اور بغلوں كے بال اكھيڑنے اور مونچھيں كاٹنے كے ليے زيادہ سے زيادہ وقت چاليس يوم مقرر كيا ہے، كہ يہ چاليس يوم سے قبل كيے جائيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسى طرح ثابت ہے.

ديكھيں: صحيح مسلم حديث نمبر ( 258 ).

اس ليے مردوں اور عورتوں پر واجب ہے كہ وہ اس معاملہ مد نظر ركھتے ہوئے نہ تو اپنے ناخب لمبے كريں، اور نہ ہى مونچھيں اور نہ ہى زير ناف بال بڑھنے ديں، اور نہ ہى بغلوں كے بال، ان كى حد صرف چاليس يوم ہے.

ناخنوں كے نيچے جمع ہونے والى ميل كچيل كى صورت ميں وضوء صحيح ہے كيونكہ يہ قليل ہے.

ماخذ: ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃالشيخ ابن باز رحمہ اللہ ( 10 / 50 )

تاثرات بھیجیں