مسجد میں داخل ہونے کی دعا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے چند دعائیں ثابت ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد میں داخل ہوتے وقت پڑھا کرتے تھے۔
- ان میں سب سے مشہور اور صحیح دعا وہ ہے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو کہے: اَلَّلهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ یعنی: اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور جب نکلے تو کہے: اَلَّلهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ یعنی: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم: 713)
- اسی طرح امام ابو داود نے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: أَعُوْذُ بَاللهِ الْعَظِيْمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيْمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ ترجمہ: ’’میں اللہ عظیم کی پناہ لیتا ہوں، اس کے باعزت چہرے اور قدیم و ہمیشگی والی بادشاہت کی پناہ لیتا ہوں، شیطان مردود سے۔‘‘ (سنن ابو داود: 466)۔ اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے (صحیح ابو داود: 485) میں صحیح قرار دیا ہے ۔
مسجد میں داخل ہوتے وقت ’’آمین‘‘ کہنے کا حکم
جہاں تک سوال کرنے والے نے ذکر کیا کہ کسی مقرر نے کہا کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت ’’آمین‘‘ کہنا مستحب ہے، تو یہ بات نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہے، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، اور نہ ہی ہمارے علم میں کسی اہل علم کا نام ہے جنہوں نے ایسا کہا ہو۔
شاید اس مقرر نے اس حدیث کو دلیل بنانے کی کوشش کی ہے جو امام بخاری و مسلم نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب تنہا، اپنے گھر یا بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس درجے زیادہ ہے۔ اور جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرے اور صرف نماز کی نیت سے مسجد کی طرف آئے تو وہ جتنے بھی قدم اٹھائے گا اللہ اس کے اتنے ہی درجے بلند کرے گا اور اتنے ہی اس کے گناہ مٹا دے گا، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے۔ اور جب وہ مسجد میں داخل ہو تو وہ نماز ہی کی حالت میں شمار ہو گا جب تک کہ وہ اپنی نماز کی جگہ پر انتظار میں بیٹھا رہے، اور فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہیں گے: اے اللہ! اس کو معاف فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما، جب تک کہ وہ وہاں بیٹھا رہے اور بے وضو نہ ہو۔‘‘ (صحیح بخاری: 477، صحیح مسلم: 649)۔
غالب گمان ہے کہ مقرر نے اسی حدیث سے یہ بات لی کہ جب فرشتے دعا کرتے ہیں تو ہمیں ’’آمین‘‘ کہنی چاہیے۔ لیکن یہ فہم غلط ہے بلکہ بدعت کے قریب ہے۔ اس لیے کہ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ فرشتے انسان کے لیے دعا مسجد میں داخل ہوتے ہی کرنے لگتے ہیں بلکہ یہ دعا تب ہوتی ہے جب وہ مسجد میں بیٹھ جائے اور نماز کا انتظار کرے۔
مسجد میں داخل ہوتے وقت دعا پڑھتے ہوئے بدعت سے بچیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو فرشتوں کے دعا کرنے کی خبر دی لیکن آپ نے یہ تعلیم نہیں دی کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت کوئی کچھ کہے یا فرشتوں کی دعا پر آمین کہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے یہاں آمین کہنا بدعت ہے۔
اسی لیے امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شارع کسی خاص حکم کے بیان سے خاموش رہے، یا کسی معاملے کو چھوڑ دے بیان نہ کرے، حالانکہ بیان کے موجب تقاضے اور اسباب بھی موجود ہوں ، اور یہ اسباب وحی کے زمانے میں بھی اور اس کے بعد بھی ثابت اور برقرار ہوں، لیکن اس کے باوجود وہاں کوئی ایسا امر متعین نہ کیا جائے جو اس وقت موجود عام حکم سے زائد ہو۔ تو اس طرح کی خاموشی نص کے درجہ میں ہوتی ہے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے کہ اس معاملے میں اسی عام حکم پر اکتفا کیا جائے جو اس جیسی صورتوں کے لیے پہلے سے موجود ہے، نہ اس میں اضافہ کیا جائے اور نہ ہی کمی۔
کیونکہ جب کوئی ایسا سبب موجود ہو جو کسی خاص عملی حکم کی مشروعیت کا تقاضا کرتا ہے، پھر بھی نہ وہ حکم مشروع کیا گیا اور نہ ہی اس کی طرف استنباط کی رہنمائی کی گئی، تو یہ کھلی ہوئی دلیل ہے کہ وہاں عام حکم پر اضافہ کرنا بدعت شمار ہو گا اور بدعت کی ایجاد شارع کے مقصد کے خلاف ہو گی۔ کیونکہ شارع کے مقصد سے یہی سمجھ آ رہا ہے کہ جو حکم وہاں موجود ہے اسی پر ٹھہرا جائے، نہ اس میں زیادتی ہو اور نہ ہی اس میں کمی‘‘۔ ختم شد۔
ماخوذ از: (الاعتصام: 2/282)
اختتامیہ:
ہم اپنے آپ کو، سائل اور تمام مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر جمے رہیں، نہ اس میں کمی کریں اور نہ اضافہ، کیونکہ بہترین ہدایت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت ہے۔
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (9232)، (225714)، (181099) اور (11247) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم