سائل کے سوال میں مذکور ان دس دنوں میں سے ہر دن کے ساتھ کوئی مخصوص مناسبت ہونا ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف خود ساختہ اور من گھڑت احادیث کی صورت میں منسوب کی گئی ہیں۔ البتہ ان دس دنوں کی فضیلت اور ان میں کیے جانے والے نیک اعمال، بالخصوص روزہ رکھنا، صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اور کسی دن کی فضیلت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس دن میں کوئی خاص واقعہ پیش آیا ہو، بلکہ یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو دیگر ایام پر فضیلت دی ہے۔
کیا ذوالحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے مستحب ہونے کے لیے کوئی خاص مناسبت یا سبب منقول ہے؟
سوال 279518
ہم ذوالحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے کیوں رکھتے ہیں؟ کیا ان میں سے ہر دن کی کوئی خاص مناسبت ہے؟ مثلاً: پہلا دن: وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی پودے سے کھانے کی غلطی کو معاف فرما دیا۔ دوسرا دن: وہ دن ہے جس میں رب العالمین نے حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی کے پیٹ میں دعا کو قبول فرمایا ۔ تیسرا دن: وہ دن ہے جس میں رب العالمین نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ان کی منشا اور تمنا کے مطابق بیٹا عطا کیا، وغیرہ ۔
جواب کا خلاصہ
جواب کا متن
مشمولات
اول: ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت
یہ دس دن دنیا کے سب سے افضل دن ہیں ، اور ان دنوں میں کیے جانے والے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ان کی فضیلت میں بہت سی صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔
ان احادیث میں سے سب سے صحیح اور مشہور حدیث وہ ہے جسے امام بخاری نے اپنی ’’صحیح‘‘ (حدیث: 969) میں روایت کیا ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’کوئی دن ایسا نہیں جن میں نیک عمل ان دنوں (یعنی عشرہ ذوالحجہ) سے افضل ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: جہاد بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈال کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ آیا۔‘‘
جہاں تک ان دنوں میں روزہ رکھنے کا تعلق ہے تو روزے بھی نیک عمل کی ایک قسم ہے۔
خصوصی طور پر ان تمام دنوں کے روزے کی فضیلت میں بھی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ امام ابو داود نے اپنی ’’سنن‘‘ (2436) میں، اور امام نسائی نے اپنی ’’سنن‘‘ (2417) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک زوجہ مطہرہ سے روایت کیا ہے، وہ فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذوالحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے رکھتے تھے۔‘‘ امام البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ’’صحیح سنن ابو داود‘‘ (حدیث: 2106) میں صحیح قرار دیا ہے۔
دوم: کیا ذوالحجہ کے نو دنوں کے روزوں کے لیے کوئی خاص مناسبتیں وارد ہوئی ہیں؟
محترم سائل نے جو بات ذکر کی ہے کہ ہر دن کی کوئی خاص مناسبت ہے، تو اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی صحیح سند کے ساتھ روایت وارد نہیں ہوئی۔
جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ بعض من گھڑت اور جھوٹی احادیث میں بیان ہوئے ہیں، اور ان تمام کا حکم یہی ہے کہ یہ موضوع اور جھوٹی روایات ہیں، ان میں سے کوئی بھی قابل اعتبار نہیں۔
اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
پہلی روایت:
اسے شجریؒ نے اپنی کتاب ’’الأمالی‘‘ (حدیث: 1651) میں روایت کیا ہے کہ: میں نے ابو القاسم عبد العزیز بن علی بن احمد الأزجی سامنے پڑھ کر حدیث سنائی کہ انہوں نے کہا: ہمیں ابو بکر محمد بن احمد بن محمد المفید نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے احمد بن عبد الرحمن بن سعد القرشی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں اسحاق بن سوید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں داؤد بن سلیمان بن علی نے اپنے والد سلیمان بن علی سے، اور انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا: (اللہ تعالیٰ نے زمین پر سب سے پہلی رحمت 29 ذو القعدہ کو نازل فرمائی، جو شخص اس دن روزہ رکھے اس کو ساٹھ برس کے روزے کا اجر ملتا ہے۔ اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام یکم ذوالحجہ کو پیدا ہوئے، جو شخص اس دن روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ابراہیم علیہ السلام کے عمل کا ثواب عطا فرماتا ہے۔ اور داود علیہ السلام پر زبور سات ذوالحجہ کو نازل ہوئی، جو اس دن روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس پر ویسے ہی توبہ قبول فرماتا ہے جیسے داود علیہ السلام کی فرمائی۔ اور ایوب علیہ السلام کی مصیبت نو ذوالحجہ یعنی یوم عرفہ کو دور ہوئی، جو اس دن روزہ رکھے اسے اُس سال اور اگلے سال کے روزے کا ثواب ملتا ہے۔ اور اللہ نے زکریا علیہ السلام کی دعا محرم کی پہلی رات کو قبول کی، جو اس دن روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو اسی طرح قبول فرماتا ہے جیسے زکریا علیہ السلام کی فرمائی۔)
یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔
کیونکہ اس کی سند میں ابو بکر محمد بن احمد بن محمد المفید ہے، جس کے بارے میں امام ذہبی نے ’’المغني في الضعفاء‘‘ (5260) میں کہا ہے کہ: ’’یہ راوی بالاتفاق ضعیف ہے اور اس پر جھوٹ بولنے کا الزام ہے۔‘‘ ختم شد
اور ’’ميزان الاعتدال‘‘ (7158) میں فرمایا: ’’یہ راوی متہم ہے۔‘‘ ختم شد
امام سبط ابن العجمی نے ’’الكشف الحثيث‘‘ (610) میں امام ذہبی کے قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’ان کا کہنا کہ یہ متہم ہے، اس سے مراد یا تو جھوٹا ہونا ہے یا حدیثیں گھڑنے والا مراد ہوتا ہے۔‘‘ ختم شد
اس کے استاد احمد بن عبد الرحمن بن سعد القرشی کے حالات زندگی کہیں سے دستیاب نہیں ہو سکے، ہاں اگر اس سے مراد احمد بن عبد الرحمن السقطی ہو، تو وہ ابو بکر المفید کے اساتذہ میں سے ہے، امام ذہبی نے ’’المغني في الضعفاء‘‘ (345) میں ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’یہ مفید کا استاد ہے، اور غیر معروف ہے، اس نے یزید بن ہارون سے ایک باطل حدیث روایت کی ہے۔‘‘ ختم شد
اسی طرح اس حدیث کی سند میں داود بن سلیمان بن علی بھی ہے، جسے کوئی نہیں جانتا، اس کے حالات زندگی کسی نے بیان نہیں کیے۔
اور ایسے ہی سلیمان بن علی بن عبد الله بن عباس بھی سند میں موجود ہے، اور یہ راوی بھی مجہول ہے۔
امام ابن حجر نے ’’تهذيب التهذيب‘‘ (361) میں فرمایا: ’’سلیمان بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب الہاشمی... ابن قطان کہتے ہیں: ان کا نسب بہت ہی عالی شان ہے، لیکن پھر بھی اس کے بارے میں حدیث کے حوالے سے کوئی شہرت نہیں ہے غیر معروف ہے۔‘‘ ختم شد
دوسری روایت:
اسے دیلمی نے ’’مسند الفردوس‘‘ (حدیث: 4381) میں روایت کیا ہے، اور امام سیوطی نے ’’الزيادة على الموضوعات‘‘ (حدیث: 567) میں دیلمی کے طریق سے اس کی سند ذکر کی ہے، دیلمی نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی، انہوں نے محمد بن الحسین السعیدی سے روایت کی، انہوں نے ابو الحسن محمد بن احمد بن ابراہیم المعروف ابن شاذی سے روایت کی، انہوں نے الفضل بن الفضل کندی سے روایت کیا، انہوں نے محمد بن سهل بن الحسین العطار سے، انہوں نے عبد اللہ بن محمد البلوی سے، انہوں نے ابراہیم بن عبد اللہ بن علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے زید بن علی بن الحسین سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے جد امجد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا:
’’ذوالحجہ کی پہلی رات کو ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی، جو شخص اس دن روزہ رکھے اس کے لیے اسی سالوں کے گناہوں کا کفارہ ہو گا، اور نو ذوالحجہ کو داود علیہ السلام کی توبہ نازل ہوئی، جو اس دن روزہ رکھے اس کے لیے ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا۔‘‘
امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن سهل حدیثیں گھڑتا تھا۔
یہ سند جھوٹی ہے اور مکمل طور پر جھوٹے راویوں کی زنجیر ہے۔
اس سند میں ابراہیم بن عبد اللہ بن علاء بن زبر ہے، جس کے بارے میں امام ذہبی نے ’’ميزان الاعتدال‘‘ (120) میں فرمایا کہ امام نسائی کہتے ہیں: ’’یہ ثقہ نہیں ہے۔‘‘ ختم شد
اسی طرح عبد اللہ بن محمد البلوی کے بارے میں ’’ميزان الاعتدال‘‘ (حدیث: 4558) میں امام ذہبی نے نقل کیا: امام دارقطنی نے کہا: ’’یہ حدیثیں گھڑتا ہے۔‘‘ ختم شد
اور محمد بن سهل العطار کے بارے میں امام خطیب بغدادی نے ’’تاریخ بغداد‘‘ (2/411) میں فرمایا: دارقطنی نے کہا: ’’محمد بن سهل العطار ان لوگوں میں سے تھا جو حدیثیں گھڑتے تھے۔‘‘ ختم شد
اس حدیث کو امام فتنی نے ’’تذكرة الموضوعات‘‘ (صفحہ: 119) میں بھی ذکر کیا اور کہا: ’’اس میں محمد بن سهل حدیثیں گھڑتا ہے۔‘‘ ختم شد
تیسری روایت:
اسے بھی دیلمی نے ’’مسند الفردوس‘‘ (حدیث: 7122) میں روایت کیا، اور امام سیوطی نے ’’الزيادة على الموضوعات‘‘ (حدیث: 565) میں اس کی سند دیلمی کے طریق سے ذکر کی ، چنانچہ دیلمی کہتے ہیں: ہمیں ابو الفتح عبد الواحد بن اسماعیل بن نغارہ نے اجازتاً روایت کیا، انہوں نے ابو محمد الحسن بن الحسین بن علی بن خشنام الحافظ سے، انہوں نے ابو النضر محمد بن احمد بن سلیمان تستری سے، انہوں نے محمد بن مخلد العطار سے، انہوں نے ابو سعید محمد بن القاسم بن محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن تمیم فریابی سے، انہوں نے عبد الملک بن ابراہیم جدّی سے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے عبد اللہ بن باباہ سے، انہوں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ذوالحجہ کی پہلی تاریخ کو پیدا ہوئے، لہٰذا اس دن روزہ رکھنا ستر سال کے روزے کے برابر ہے۔‘‘
امام سیوطی نے فرمایا: یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔ اس کی وجہ محمد بن تمیم ہے، جو ایک خبیث جھوٹا شخص تھا۔
امام ابو نعیم نے ’’الضعفاء‘‘ (231) میں فرمایا: ’’یہ جھوٹا اور حدیثیں گھڑنے والا ہے۔‘‘ ختم شد
ابن حبان نے ’’المجروحين‘‘ (1013) میں لکھا: ’’یہ حدیثیں گھڑتا ہے۔‘‘ ختم شد
اور امام حاکم نے ’’سؤالات السجزي للحاكم‘‘ (137) میں فرمایا: ’’اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دس ہزار سے زائد احادیث گھڑیں۔‘‘ ختم شد
چوتھی روایت:
اسے امام سیوطی نے ’’الزيادة على الموضوعات‘‘ (حدیث: 569) میں دیلمی کے اسناد کے ساتھ ذکر کیا:
دیلمی نے کہا: مجھے میرے والد نے، انہوں نے المیدانی سے، انہوں نے ابو بکر بن بشران سے، انہوں نے ابن شاہین سے املا کے ساتھ، انہوں نے احمد بن محمد بن عکرمہ نسوی سے، انہوں نے احمد بن خضر مروزی سے، انہوں نے محمد بن نصر بن عباس سے، انہوں نے علی بن حجر سے، انہوں نے حماد بن عمرو سے، انہوں نے زید بن رفیع سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا: ’’جس نے یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے ایوب علیہ السلام پر آئی مصیبت کے بدلے ملنے والے اجر جیسا اجر عطا فرماتا ہے، اور جو یوم عرفہ (نو ذوالحجہ) کا روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اسے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے اجر جیسا اجر دیتا ہے، اور جو یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے، اللہ اسے اس دن نماز ادا کرنے والوں جیسا اجر عطا کرتا ہے، اور اگر وہ تیس دن کے اندر وفات پا جائے تو شہید مرتا ہے۔‘‘
امام سیوطی نے فرمایا: اس حدیث کا راوی حماد بن عمرو جھوٹا ہے۔
چنانچہ اس حدیث کے موضوع ہونے کی یہی راوی وجہ ہے۔ امام ابن معین نے ’’الكامل‘‘ لابن عدي (415) میں کہا: ’’حماد بن عمرو نصیبی ان لوگوں میں سے ہے جو جھوٹ بولتے اور حدیثیں گھڑتے تھے۔‘‘
امام نسائی نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘ (136) میں کہا: ’’یہ راوی متروک الحدیث یعنی حدیث کے معاملے میں ناقابلِ اعتبار ہے۔‘‘ ختم شد
امام جوزجانی نے ’’أحوال الرجال‘‘ (321) میں فرمایا: ’’یہ اتنی فنکاری کے ساتھ جھوٹ بولتا تھا کہ عقلمند آدمی بھی اس کے بارے میں اپنے دل میں ذرہ منفی تصور نہ لاتا تھا۔‘‘ ختم شد
امام ابن حبان نے ’’المجروحين‘‘ (240) میں فرمایا: ’’یہ ثقہ راویوں کے نام پر بہت ہی زیادہ جھوٹی احادیث گھڑتا تھا۔‘‘ ختم شد
خلاصہ کلام:
سائل نے عشرہ ذوالحجہ کے ہر دن کے لیے جو مخصوص مناسبتیں ذکر کی ہیں، ان میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں۔ بلکہ یہ تمام احادیث من گھڑت اور جھوٹی ہیں۔ البتہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت، ان میں نیک اعمال کے اجر، اور روزے کی ترغیب صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ کسی دن کی فضیلت کے لیے ضروری نہیں کہ اس دن میں کوئی واقعہ پیش آیا ہو، بلکہ صرف اتنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو دیگر دنوں پر فضیلت دی ہے۔
واللہ اعلم
ماخذ:
الاسلام سوال و جواب