مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان رکھے۔ جن کتابوں کی تفصیل معلوم نہیں، ان پر اجمالی ایمان لایا جائے اور جن کی تفصیل معلوم ہے، ان پر تفصیلی ایمان لایا جائے۔ ان کتابوں کی تعداد کے بارے میں قطعی علم کسی کو نہیں ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک سوال میں مذکور حدیث کا تعلق ہے، تو اس کی کوئی ایسی سند نہیں جو قابلِ اعتماد ہو۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں کی تعداد
سوال 302121
مجھے واٹس ایپ پر ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں ایک شیخ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سو کتابیں اور چار بڑی کتابیں نازل کیں: شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، ادریس علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے، موسیٰ علیہ السلام پر تورات سے پہلے دس صحیفے، اور پھر تورات، انجیل، زبور اور فرقان نازل کیں۔ اس کے لیے انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث سے استدلال کیا۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف؟
جواب کا خلاصہ
جواب کا متن
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
اول:
مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان رکھے۔
فرمانِ باری تعالی ہے:
وَقُلْ آمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ (الشوریٰ: 15)
ترجمہ: اور کہہ دو: "میں ایمان لایا اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی ہے۔"
یہ کتابیں کتنی ہیں، اس کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء اور رسولوں پر کتابیں نازل کیں، اور ان میں سے بہت سے انبیاء کے نام اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کی تفصیل ہمیں معلوم نہیں۔
جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ (البقرہ: 213)
ترجمہ: لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبیوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب حق کے ساتھ نازل کی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں میں فیصلہ کریں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
اور فرمایا:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (الحدید: 25)
ترجمہ: یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔
اور فرمایا:
قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (البقرہ: 136)
ترجمہ: کہو: "ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اسباط پر نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔"
اور فرمایا:
قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَالنَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (آل عمران: 84)
ترجمہ: کہہ دو: "ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اسباط پر نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔"
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو کچھ ان پر مفصل طور پر نازل ہوا اس پر ایمان لائیں، اور جو پچھلے انبیاء پر نازل ہوا اس پر اجمالی طور پر ایمان لائیں۔ بعض رسولوں کے نام ذکر کیے اور باقی انبیاء کا اجمالی ذکر کیا، اور کسی میں فرق نہ کریں بلکہ سب پر ایمان لائیں۔" (تفسیر ابن کثیر 1/448)
اسی لیے جن کتابوں کی تفصیل معلوم نہیں، ان پر اجمالی ایمان لانا واجب ہے اور ان کی تعداد کے بارے میں قطعی طور پر کچھ کہنا درست نہیں، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اور جن کتابوں کی تفصیل معلوم ہے، ان پر اسی تفصیل کے مطابق ایمان لانا چاہیے۔
محمد بن نصر المروزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"فرمانِ باری تعالی: (وَكُتُبِهِ) کا مطلب یہ ہے کہ تو اللہ کی ان کتابوں پر ایمان لائے جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے، جیسے تورات، انجیل اور زبور، اور اس کے علاوہ بھی اللہ کی کتابیں ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے انبیاء پر نازل کیں، جن کے نام اور تعداد صرف اللہ جانتا ہے۔ اور فرقان (قرآن) پر ایمان لانا دیگر کتابوں پر ایمان لانے سے مختلف ہے۔ دیگر کتابوں پر ایمان دل اور زبان سے اقرار کرنا ہے، اور فرقان پر ایمان دل سے اقرار اور اس پر عمل کرنا ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: ’’ تعظیم قدر الصلاۃ ‘‘(1/393)
دوم:
ابن حبان نے اپنی کتاب "صحیح ابن حبان" (فقہی ترتیب: "الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان" 2/76-77) میں یہ روایت نقل کی ہے: ابراہیم بن ہشام بن یحییٰ بن یحییٰ الغسانی نے اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے، وہ ابو ادریس خولانی سے، وہ ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:
"میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے بیٹھے تھے۔۔۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے کتنی کتابیں نازل کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: سو کتابیں اور چار (بڑی) کتابیں: شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، اخنوخ (ادریس) علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے، موسیٰ علیہ السلام پر تورات سے پہلے دس صحیفے، اور پھر تورات، انجیل، زبور اور فرقان (قرآن) نازل کی گئیں۔"
اس روایت کی سند میں ابراہیم بن ہشام نامی راوی ہے جس کے بارے میں محدثین کی تفصیلی آرا درج ذیل ہیں:
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یہ ابراہیم بن ہشام وہی ہے جو اپنے والد سے اپنے دادا سے ابوذر کی طویل حدیث بیان کرتا ہے، اس حدیث کو یہی اکیلا روایت کرتا ہے۔
طبرانی کہتے ہیں: اس روایت کو یحییٰ سے صرف اس کے بیٹے نے روایت کیا ہے، اور یہ سب کے سب ثقہ ہیں۔
ابن حبان نے اس کو 'الثقات' میں ذکر کیا اور اس کی حدیث کو اپنی کتاب ’’ الانواع و التقاسیم‘‘میں درج کیا۔
لیکن ابن ابی حاتم کہتے ہیں:
میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ ابراہیم بن ہشام الغسانی سے روایت کیوں نہیں کرتے؟
انہوں نے کہا: میں اس کے گاؤں گیا، اس نے مجھے ایک کتاب نکال کر دی جس کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے وہ سعید بن عبدالعزیز سے سنی ہے۔
میں نے اس میں دیکھا تو اس میں ضمرہ کی ابن شوذب وغیرہ سے احادیث تھیں۔
میں نے اس میں ایک حدیث دیکھی جو لیث بن سعد عن عقیل سے تھی، میں نے کہا: اسے پڑھو۔
اس نے پڑھتے ہوئے کہا: ہمیں سعید بن عبدالعزیز نے لیث بن سعد عن عقیل سے حدیث سنائی۔ اور راوی کے نام ’’ عقیل‘‘ کو اس نے ’’ عَقِیل‘‘ پڑھا۔
اور میں نے اس کی کتاب میں سوید (!)بن عبدالعزیز عن مغیرہ کی احادیث دیکھیں، میں نے کہا: یہ تو سوید کی احادیث ہیں!!
اس نے فوری پڑھنا شروع کر دیا: ہمیں سعید بن عبدالعزیز نے سوید سے حدیث سنائی۔
اس پر ابو حاتم نے کہا: "میں سمجھتا ہوں کہ اس نے علم حاصل نہیں کیا۔ وہ کذاب ہے۔"
عبدالرحمن بن ابی حاتم کہتے ہیں:
"میں نے یہ بات علی بن حسین بن جنید سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: ابو حاتم نے سچ کہا، اس سے روایت نہیں کرنی چاہیے۔"
ابن الجوزی کہتے ہیں:
"ابو زرعہ رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں حکم یہ لگایا ہے کہ وہ: کذاب ہے۔" میزان الاعتدال: (1 / 72 - 73)
اس میں کوئی شک نہیں کہ ابو حاتم ان خاص اہل علم میں سے ہیں جو راویوں کی معرفت اور جرح و تعدیل کے اسباب میں مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس راوی کو پرکھا اور یہ واضح کیا کہ وہ حدیث میں قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ اسی وجہ سے متعدد محققین نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے؛ بلکہ بعض نے تو اس حدیث کو خود اس راوی کی کمزوری کی دلیل شمار کیا ہے۔
چنانچہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اس راوی کے بارے میں کئی ائمہ جرح و تعدیل نے اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: ’’ تفسیر ابن کثیر ‘‘(2/470)
اسی طرح علامہ طبری نے "تاریخ طبری " (1/152-153) میں اس حدیث کو ماضی بن محمد نے ابی سلیمان سے روایت کیا ہے۔-اس راوی کے متعلق متعدد اہل علم نے یہ بات راجح قرار دی ہے کہ یہ ابی سلیمان نہیں بلکہ علی بن سلیمان ہے- وہ قاسم بن محمد سے اور وہ ابو ادریس خولانی اور وہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے طریق سے بیان کرتے ہیں کہ ابو ذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اللہ تعالی نے کتنی کتابیں نازل فرمائیں ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ایک سو چار کتابیں، ان میں سے صرف شیث علیہ السلام پر 50 کتابیں نازل ہوئی ہیں۔‘‘
لیکن اس کی سند میں موجود ماضی بن محمد کو اہل علم نے ضعیف کہا ہے۔
ابن عدی کہتے ہیں: "منکر الحدیث" ہے۔ ختم شد
ماخوذ از: الکامل لابن عدی: (8 / 183)
اسی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق: علی بن سلیمان مجہول راوی ہے۔ (تقریب التہذیب صفحہ: 401)۔
نیز قاسم بن محمد کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں کہ:
’’ قاسم بن محمد جو کہ علی بن سلیمان کے استاد ہیں ، یہ مجہول ہیں۔‘‘ ختم شد (ابن حجر: تقریب التہذیب صفحہ: 452)
امام حاکم رحمہ اللہ نے "المستدرک" (2/597) اور یحییٰ بن حسین الشجری نے "الامالی" (915) میں اس حدیث کو نقل کیا ہے، جس کی سند کچھ یوں ہے: یحیی بن سعید سعدی بصری کہتے ہیں کہ ہمیں عبد الملک بن جریج نے بیان کیا، انہوں نے عطاء سے اور وہ عبید بن عمیر لیثی سے اور وہ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے۔
امام حاکم اس روایت کے بعد خاموشی اختیار کرتے ہیں، جبکہ امام ذہبی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں؛ سعدی ثقہ راوی نہیں ہے۔
اور امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ یحییٰ بن سعید الشہید: ایک بوڑھا ہے جو ابن جریج سے مقلوب روایات بیان کرتا ہے، اور دیگر ثقہ راویوں سے بھی ملی جلی روایات بیان کرتا ہے۔ چنانچہ جب وہ اکیلا روایت کرے تو اس کی روایت دلیل بننے کے قابل نہیں ہوتی۔ اسی راوی نے ابن جریج عن عطاء عن عبید بن عمیر عن ابی ذر رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت کی ہے کہ: 'میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا: (اے ابو ذر! مسجد کے بھی آداب ہوتے ہیں اس لیے اٹھو اور دو رکعت پڑھو)'، پھر ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وصیت والی طویل حدیث بیان کی۔ حالانکہ یہ حدیث نہ ابن جریج کی ہے، نہ عطاء کی، نہ عبید بن عمیر کی، اور اس میں سب سے بہترین روایت ابو ادریس خولانی کی ہے۔‘‘ (المجروحین 3/129-130)
اور ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ یہ حدیث اس سند سے منکر ہے، جو ابن جریج، عن عطاء، عن عبید بن عمیر، عن ابی ذر سے بیان کی گئی ہے۔ اس حدیث کی کوئی اور سند نہیں ہے، سوائے اس کے کہ ابو ادریس خولانی اور قاسم بن محمد نے ابوذر سے روایت کی ہے۔ تیسری سند ابن جریج کی ہے، اور یہ سب سے زیادہ منکر روایات میں سے ہے۔ اور یحییٰ بن سعد صرف اسی حدیث کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الکامل: (9/107)
تو خلاصہ یہ ہے کہ: اس حدیث کی کوئی ایسی سند ہے ہی نہیں کہ جس پر اعتماد کیا جا سکے۔
ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یہ حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے، لیکن سب میں کچھ نہ کچھ کلام ہے۔" (فتح الباری 3/274)
واللہ اعلم
ماخذ:
الاسلام سوال و جواب