اول:
اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ
ترجمہ: ’’یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی، ان میں سے بعض ایسے ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا، اور بعض کے درجے بلند کیے۔‘‘ (البقرہ: 253)
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ
ترجمہ: ’’اور ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی۔‘‘ (الإسراء: 55)
اور ان تمام میں سب سے افضل ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ و سلم آدم کی اولاد کے سردار، اولین و آخرین میں سب سے افضل، خاتم النبیین اور امام الانبیاء ہیں، جب سب جمع ہوں گے تو آپ ان کے خطیب ہوں گے، اور آپ کو آسمانوں سے اوپر لے جایا گیا جہاں تمام انبیاء خواہ وہ ابراہیم ہوں یا موسی آپ صلی اللہ علیہ و سلم سب سے بلند مقام عطا کیا گیا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: جامع الرسائل: (2/129)
اور فرمایا:
’’اولوالعزم انبیاء میں سب سے افضل محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، آپ خاتم النبیین، امام المتقین، سید ولد آدم، انبیاء کے امام اور خطیب ہیں، آپ ہی کو مقامِ محمود عطا کیا گیا جس کو پانے کے لیے اولین و آخرین سب تمنا رکھتے ہوں گے، آپ کو پرچمِ حمد اور حوضِ کوثر عطا کیا گیا ہے، آپ ہی کو شفاعتِ کبریٰ، وسیلہ اور فضیلت عطا ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین کتاب عطا کی، آپ کے لیے بہترین دینی شریعت منتخب کی، مزید برآں یہ بھی کہ اللہ تعالی نے آپ اور آپ کی امت کے لیے جملہ امتوں کے فضائل اور خوبیاں جمع فرما دیں ۔ آپ کی امت کی پیدائش آخر میں ہوئی ہے، لیکن انہیں سب سے پہلے اٹھایا جائے گا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الفرقان بین أولیاء الرحمن وأولیاء الشیطان: (11)
امام سبکی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’قرآنِ کریم ، صحیح احادیث اور امت کے اجماع سے یہ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سب انسانوں سے زیادہ مکرم اور تمام انبیاء سے افضل ہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: السيف المسلول: (500)
اور علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی فضیلت تمام انبیاء پر نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے، جیسا کہ آپ کا فرمان ہے: ’میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں اور یہ فخر کی بات نہیں۔‘ اور فرمایا: ’میں جنت کے دروازے پر آؤں گا، دربان پوچھے گا: تم کون ہو؟ میں کہوں گا: محمد، تو وہ کہے گا: مجھے تمہارے علاوہ کسی کے لیے دروازہ کھولنے کا حکم نہیں دیا گیا۔‘ اور معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انبیاء سے بلند مقام پر پہنچایا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالی کے اس فرمان کے اولین حقدار ٹھہرے: تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ترجمہ: ’’یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی، ان میں سے بعض ایسے ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا، اور بعض کے درجے بلند کیے۔‘‘ (البقرہ: 253)۔‘‘
ماخوذ از: غاية الأماني: (1/505)
دوم:
موسیٰ علیہ السلام اللہ کے کلیم اور اولوالعزم انبیاء میں سے ہیں، اللہ نے آپ کو دیگر انبیائے کرام سے بلند مقام عطا کیا ہے ، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا درجہ سب سے اعلیٰ اور کامل ہے۔
چنانچہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اپنے ساتھ ہم کلامی کے ذریعے ممتاز فرمایا، اور یہ بات اسلام، یہودیت اور عیسائیت تمام ادیان میں مسلمہ حقیقت ہے۔ چنانچہ اللہ کا فرمان ہے: إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا (163) وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا ترجمہ: ’’یقیناً ہم نے تم پر ویسی ہی وحی بھیجی جیسے نوح اور ان کے بعد آنے والے نبیوں پر بھیجی، اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، خاندانوں ، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی کی ، اور ہم نے داود کو زبور عطا کی۔ اور ہم نے پہلے سے رسول بھیجے جن کے واقعات ہم نے آپ کو بتلائے ہیں ، بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ کو نہیں بتلائے، اور اللہ تعالی نے موسیٰ سے یقینی طور پر کلام فرمایا۔‘‘ (النساء: 163-164)
اور فرمایا: تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ ترجمہ: ’’یہ رسول ہیں جنہیں ایک دوسرے پر ہم نے فضیلت دی؛ چنانچہ ان میں سے بعض سے اللہ نے کلام کیا۔‘‘ (البقرہ: 253)
اور فرمایا: قَالَ يَا مُوسَى إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي ترجمہ: ’’فرمایا: اے موسیٰ! میں نے تمہیں اپنے پیغامات اور کلام کے ذریعے لوگوں پر برگزیدہ کیا۔‘‘ (الأعراف: 144)‘‘
ماخوذ از: ’’ درء تعارض العقل والنقل ‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں:
’’سیدنا موسی علیہ السلام اولو العزم پیغمبروں میں سے بھی بڑے مرتبے پر فائز ہیں، اور اہل اسلام کے اکابرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ۔۔ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ موسی بن عمران علیہ السلام افضل ترین مومنین اور نیک لوگوں میں شامل ہیں، پھر اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو مقام رضا سے بھی بلند مقام عطا فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اپنی خاص محبت سے نوازا، اور فرمایا: وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي ترجمہ: ’’اور میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی تاکہ تمہاری میری نگرانی میں پرورش کی جائے۔‘‘ (طه: 39)‘‘ ختم شد مختصراً
ماخوذ از:’’ الفتاوى الكبرى ‘‘: (2/397)
یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ موسی علیہ السلام نے یہ تمنا ظاہر کی تھی وہ بھی امت محمدیہ میں شامل ہوتے، یہ بات درست نہیں، تفصیلات کے لیے سوال نمبر: (258493) کا مطالعہ کریں۔
سوم:
سوال میں مذکور یہ روایت کتبِ حدیث و آثار میں موجود نہیں ہے۔ یہ صرف ایک متاخر کتاب ’’نزهة المجالس ومنتخب النفائس‘‘ (عبدالرحمن الصفوری، متوفی 894ھ) میں مذکور ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں:
’’موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے رب! میں تیرا کلیم ہوں اور محمد تیرا حبیب، تو کلیم اور حبیب میں کیا فرق ہے؟ فرمایا: کلیم اپنے مولیٰ کی رضا کے مطابق عمل کرتا ہے، اور حبیب کا مولیٰ اس کی رضا کے مطابق عمل کرتا ہے۔ کلیم اللہ سے محبت کرتا ہے، اور حبیب سے اللہ محبت کرتا ہے۔ کلیم طورِ سینا آتا ہے، اور حبیب اپنے بستر پر لیٹا ہوتا ہے تو جبریل اُسے پلک جھپکنے میں میرے مقام تک لے جاتے ہیں جہاں کوئی مخلوق نہیں پہنچی۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: نزهة المجالس: (2/68)
مگر یہ کتاب ناقابلِ اعتماد ہے، کیونکہ یہ کتاب ایسی نہیں ہے کہ جس میں روایات اسانید کے ساتھ بیان کی جاتی ہوں، نہ ہی اس کتاب میں صرف ثابت شدہ احادیث کا اہتمام ہے، بلکہ اس میں صحیح موقف بیان کرنے کا بھی اہتمام نہیں ہے، اس کتاب میں بھی دیگر ایسی متاخر کتابوں کی طرح بہت سی من گھڑت اور ضعیف روایات ہیں۔
مذکورہ کتاب کے مطالعہ سے اہلِ علم نے روکا بھی ہے۔ بلکہ بعض نے اس کتاب کے مطالعہ کو حرام قرار دیا ہے، دیکھیں: ’’ کتب حذر منها العلماء ‘‘ از شیخ مشہور حسن سلمان، ص (19-20)
پھر اس روایت میں یہ بھی واضح ہے کہ یہ روایت مبالغہ اور غلو پر مبنی ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور سیدنا موسی علیہ السلام کے درمیان درجہ بندی کو ثابت کرنے کے لیے ایسا تکلفانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے جس کی کوئی ضرورت ہی نہیں، بلکہ اس کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔
اس بات کے باطل ہونے کے لیے صرف یہی کافی ہے کہ ان باتوں کو بغیر کسی صحیح یا حسن سند کے، بلکہ بغیر کسی سند کے اللہ رب العالمین کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔!!
لہٰذا یہ روایت باطل ہے اور اس کو روایت کرنا نیز اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا صرف ناجائز ہی نہیں بلکہ حرام بھی ہے۔
آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ وہی رک جائے جہاں پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے رک جانے کا حکم دیا ہے، غیر ثابت اقوال اور متکلف بیانات سے اجتناب کرے۔
واللہ اعلم