سوموار 9 شوال 1441 - 1 جون 2020
اردو

رمضان میں دن کے وقت فون پر جنسی باتیں کرنے کا حکم، اور اس پر توبہ لازم ہو گی یا کفارہ ہو گا؟

312875

تاریخ اشاعت : 08-05-2020

مشاہدات : 361

سوال

ایسے لڑکے پر توبہ کرنا لازم ہے یا اس پر کفارہ ہو گا جو رمضان میں دن کے وقت ٹیلی فون پر کسی اجنبی لڑکی سے جنسی باتیں کرے؟

جواب کا متن

الحمد للہ

اول:

روزے کی حکمت صرف کھانے پینے اور اپنی شہوت پوری کرنے سے رک جانا ہی نہیں ہے، بلکہ روزہ فرض کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انسان تقوی الہی حاصل کر لے، وہ اس طرح کہ اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل کرے، اپنے اعضا کو اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے سے روکے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 183]

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جو شخص بھی خلاف شریعت بات کرنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔) اس حدیث کو بخاری: (6057) نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (کتنے ہی روزے دار ہیں انہیں اپنے روزے سے بھوک ہی ملتی ہے، اور کتنے ہی قیام کرنے والے ہیں جنہیں ان کے قیام سے صرف بے خوابی ہی ملتی ہے) اس حدیث کو ابن ماجہ: (1690) نے روایت کیا ہے، اور صحیح ابن ماجہ میں البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: "صرف کھانے پینے سے رکے رہنا روزہ نہیں ہے، بلکہ جھوٹ، باطل باتیں اور لغو چیزوں سے دور رہنا روزہ ہے۔"

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (50063) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اس لیے روزے دار کو چاہیے کہ ان تمام باتوں کا خصوصی خیال رکھے، اپنے روزے کو نفسانی تربیت کا ذریعہ بنائے، اپنی شہوت کو اپنے قابو میں رکھے، اور تقوی الہی کی نعمت پانے کی کوشش کرے۔

دوم:

علمائے کرام نے یہ بات ذکر کی ہے کہ گناہ کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب گناہ کسی فضیلت والے وقت یا فضیلت والی جگہ پر کیا جائے۔

اس لیے گناہ سارے کے سارے قبیح ہوتے ہیں لیکن ان گناہوں کا رمضان میں ارتکاب کرنا ان کی قباحت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (38213) کا جواب ملاحظہ کریں۔

جس وقت انسان رمضان میں اللہ کے لیے روزہ رکھتے ہوئے اپنی شہوت پوری کرنے کے حلال ذرائع بھی چھوڑ دیتا ہے تو تب اس کا روزہ حقیقی معنوں میں اللہ کے لیے ہوتا ہے، اسی لیے اللہ تعالی کا حدیث قدسی میں فرمان ہے: (روزے دار اپنا کھانا، پینا اور شہوت والی چیزیں میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے، تو میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور ہر نیکی کا دس گنا سے زیادہ ثواب ملے گا) متفق علیہ، یہ الفاظ صحیح بخاری: (1894) کے ہیں۔

تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان روزے کی حالت میں حلال کو چھوڑ کر کسی اجنبی لڑکی سے حرام کام میں ملوث رہے؟!

اس لیے جس شخص سے بھی سوال میں مذکور کام صادر ہوا ہے، وہ فوری سے بھی پہلے اللہ تعالی سے سچی توبہ مانگ لے، اور پہلے اپنے کیے پر نادم ہو، اور اس کام کو کلی طور پر چھوڑ دے، اور مستقبل میں آئندہ اس گناہ کے قریب بھی نہ پھٹکے، نیز اس لڑکی تک یا کسی بھی اجنبی لڑکی تک رسائی کے تمام تر ذرائع یکسر ختم کر دے۔

تو اس طرح اس کی توبہ سچی توبہ ہو گی، اور اللہ تعالی سے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمائے، اور اس کے اس گناہ کو معاف فرما دے۔

سوم:

اس حرکت کے روزے پر اثرات کے بارے میں یہ ہے کہ:

اگر تو منی بھی خارج ہو گئی تو پھر روزہ فاسد ہو گیا، اور اس پر اس دن کے روزے کی قضا دینا واجب ہے، تاہم اس پر کفارہ واجب نہیں ہو گا؛ کیونکہ علمائے کرام کے صحیح ترین موقف کے مطابق کفارہ اسی وقت واجب ہو گا جب انسان جماع کرے۔

اس بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے آپ سوال نمبر: (38074) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اور اگر اس حرکت سے منی خارج نہیں ہوتی تو روزہ صحیح ہے، اور ایسے شخص کے لیے اللہ تعالی سے توبہ کرنا کافی ہو گا۔

اس بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے آپ سوال نمبر: (232352) کا جواب ملاحظہ کریں۔

یہاں یہ کہنا کہ اس کا روزہ صحیح ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ: اللہ تعالی نے اسے اس دن کا روزہ دوبارہ رکھنے کا مکلف نہیں بنایا، یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے اس روزے کے دوران کہیں اور مگن رہا حالانکہ اللہ تعالی نے اسے روزے کا حکم کر کے جس مقصد اور ہدف تک پہنچانا چاہا تھا وہ کوئی اور ہے۔

جیسے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص بھی خلاف شریعت بات کرنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔) اس حدیث کو بخاری: (1804) نے روایت کیا ہے۔

اور اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کتنے ہی روزے دار ہیں انہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس ہی ملتی ہے، اور کتنے ہی قیام کرنے والے ہیں جنہیں ان کے قیام سے صرف بے خوابی ہی ملتی ہے) اس حدیث کو امام احمد: (8693) نے روایت کیا ہے اور ابن حبان: (257/8) سمیت علامہ البانیؒ نے اسے صحیح الترغیب: (262/1) میں صحیح قرار دیا ہے۔

اس بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے آپ سوال نمبر: (93723) اور (50063) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں