اول:
کسی دوسرے پر قسم ڈالنا کہ وہ فلاں کام نہیں کرے گا، اس طرح سے قسم ہو جاتی ہے، اور قسم اٹھانے والے پر اس کے نتائج بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (13 / 502)میں کہتے ہیں:
"اگر کسی نے کہا: اللہ کی قسم ! فلاں شخص یہ کام کرے گا، یا فلاں کام نہیں کرے گا، یا قسم اٹھانے والے نے کسی مخاطب سے کہا: اللہ کی قسم! تم یہ کام کرو گے ۔ تو مخاطب نے اس کی قسم توڑ دی اور کام نہیں کیا۔ تو ایسی صورت میں قسم اٹھانے والا کفارہ ادا کرے گا۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما، اہل مدینہ، عطا، قتادہ، اوزاعی، اہل عراق اور امام شافعی کا موقف ہے؛ کیونکہ قسم اٹھانے والا شخص ہی یہاں پر حانث بن رہا ہے، اس لیے کفارہ بھی اسی پر ہو گا، یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ خود قسم اٹھا کر اسے پوری نہ کرے۔ نیز یہ بھی کہ کفارے کا سبب قسم یا قسم توڑنا بنتا ہے یا دونوں چیزیں مل کر کفارے کا سبب بنتی ہیں، چنانچہ اس مسئلے میں جس اعتبار سے بھی دیکھیں وہ سبب آپ کو قسم اٹھانے والے میں ملے گا۔" ختم شد
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کسی دوسرے پر اللہ تعالی کی قسم ڈالنا: کا مطلب یہ ہے کہ قسم اٹھانے والا کسی دوسرے کو کسی کام کرنے یا نہ کرنے کی قسم ڈالے، اور مخاطب اس کی قسم توڑ دے، قسم پوری نہ کرے تو قسم کا کفارہ قسم ڈالنے والے پر ہو گا، مخاطب پر نہیں، یہ اکثر فقہائے کرام کا موقف ہے، تو یہ مسئلہ بالکل ایسے ہے جیسے کہ کوئی اپنے غلام یا بیٹے یا دوست پر قسم ڈالے کہ وہ فلاں کام ضرور کرے گا؛ لیکن مخاطب وہ کام نہ کرے تو قسم ڈالنے والے حانث پر کفارہ ہو گا۔" ختم شد
"مجموع الفتاوى" (1 / 206)
دوم:
اگر جس پر قسم ڈالی گئی تھی وہ بھول کر قسم پوری نہ رکھ سکے بلکہ توڑ دے تو قسم اٹھانے والے پر کچھ نہیں ہے؛ کیونکہ قسم اٹھانے والا بذات خود بھول کر قسم کے خلاف کام کر بیٹھے تو اس پر بھی کچھ نہیں ہوتا؛ کیونکہ بھول چوک شریعت میں معتبر عذر ہیں، بھولنے پر گناہ نہیں ہوتا، اور کفارہ اس لیے شریعت کا حصہ ہے کہ قسم توڑنے کا گناہ ختم ہو جائے۔ [جب گناہ ہی نہیں تو کفارہ کس چیز کا؟ مترجم]
فرمانِ باری تعالی ہے:
وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ
ترجمہ: جو غیر ارادی طور پر خطا کر بیٹھو تو تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہے، گناہ دل سے عمداً کیے ہوئے جرم پر ہے۔ [الاحزاب: 5]
اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : جب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ترجمہ: اللہ تعالی کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، ہر جان کو وہی ملے گا جو اس نے کمایا، اور انہی کاموں کا اس پر بوجھ ہو گا جو اس نے کیے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہمارا مواخذہ نہ فرمانا۔ تو اللہ تعالی نے فرمایا: (میں نے تمہاری دعا قبول فرما لی ہے۔) صحیح مسلم: (126)
ایسے ہی "الروض المربع" (3 / 1554) میں ہے کہ:
"اگر کوئی شخص اپنے آپ پر قسم ڈالے، یا کسی دوسرے ایسے شخص کو قسم ڈالے جو اس کی قسم سے رک بھی سکتا ہو، اور قسم ڈالتے ہوئے کسی کام سے روکنا مقصود ہو، جیسے کہ بیوی اور بیٹا وغیرہ کہ فلاں کام نہیں کرنا، لیکن وہ بھول کر یا لا علمی کی بنیاد پر وہی کام کر بیٹھتا ہے ، تو طلاق یا غلام آزاد کرنے میں وہ حانث ہو جائے گا،[یعنی: اپنے بارے میں کہا کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو بیوی کو طلاق یا میرا غلام آزاد ہو جائے ، اور پھر وہ کام بھول کر یا خطا سے کر بیٹھا تو طلاق بھی ہو جائے گی اور غلام بھی آزاد ہو جائے گا۔ مترجم] بہ خلاف اللہ کی قسم اٹھانے کے؛ کیونکہ اللہ کی قسم اٹھانا، اللہ کا حق ہے، اور اللہ کا حق اس امت سے خطا اور نسیان کی صورت میں معاف کر دیا گیا ہے۔" ختم شد
علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کوئی شخص بھول کر یا لا علمی کی وجہ سے ایسا کام کر لیتا ہے جس کے نہ کرنے کی قسم اٹھائی تھی، تو اہل علم طلاق اور غلام آزاد کرنے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ: ایسے میں طلاق بھی ہو جائے گی، اور غلام بھی آزاد ہو جائے گا، جبکہ اللہ کے نام کی قسم اٹھانے کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ جبکہ صحیح موقف یہ ہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، لہذا دونوں میں وہ حانث نہیں ہو گا جیسے قسم میں حانث نہیں ہو گا؛ یہ اس صورت میں جب وہ اپنے آپ پر قسم ڈالے۔
اور اگر کسی دوسرے پر کوئی کام نہ کرنے کے لیے اللہ کی قسم ڈالے، یا اپنی بیوی کو طلاق ہو جانے یا غلام آزاد ہونے کی بات کرے تو پھر اس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: جس پر قسم ڈالی گئی ہے وہ عام طور پر رشتہ داری، یا زوجیت یا دوستی کی وجہ سے قسم پوری کرتا ہے۔
دوسری صورت: جس پر قسم ڈالی گئی ہے وہ ایسا شخص ہے جو اس کی قسم کی بالکل پرواہ نہیں کرے گا اور منع کردہ کام سے نہیں رکے گا بلکہ الٹا کر کے دکھائے گا۔
تو اگر یہ غیر شخص قسم کا لحاظ رکھتے ہوئے قسم پوری کرے گا، رشتہ داری، یا رشتہ ازدواج یا دوستی کی وجہ سے قسم نہیں توڑے گا، مثلاً: خاوند اپنی بیوی پر قسم ڈال دے کہ فلاں کام تم نے نہیں کرنا، لیکن بیوی بھول کر یا جہالت کی وجہ سے وہ کام کر بیٹھتی ہے۔ یا والد اپنے بیٹے یا بیٹی پر قسم ڈالے کہ فلاں کام نہیں کریں گے، لیکن بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کر بیٹھے۔ تو اس غیر کا حکم بھی قسم ڈالنے والے شخص کا ہی ہو گا، تو گویا حانث اور حالف ایک ہی شخصیت ہے، تو اگر اس نے اللہ کی قسم ڈالی ہو گی تو وہ حانث نہیں ہو گا، جبکہ عتق یا طلاق کی بات کی ہو تو وہ حانث ہو جائے گا۔
مثالیں:
اپنے بیٹے سے کہا: اگر تم نے یہ کام کیا تو تمہاری والدہ کو طلاق۔ بچے نے وہی کام بھول کر کر دیا، تو کیا اب طلاق ہو جائے گی؟ حنبلی مذہب کے مطابق طلاق ہو جائے گی۔
اسی طرح اگر اپنے بیٹے سے کہا: اگر تم نے فلاں کام کیا تو میرا غلام آزاد ہے، تو بیٹا وہی کام بھول کر کر بیٹھا، تو ایسے میں حالف حانث ہو جائے گا، اور غلام آزاد ہو جائے گا، یعنی یہ ایسے ہی جیسے اس نے خود اپنے آپ کو کہا ہو۔
جبکہ صحیح موقف یہ ہے کہ: یہ شخص حانث نہیں ہو گا، جیسے اللہ کی قسم ڈالنے کی صورت میں حانث نہیں ہو گا۔" ختم شد
"الشرح الممتع" (15 / 202)
واللہ اعلم