اگر آپ کا شعور زائل ہو جائے اور آپ اپنے ارد گرد کی کسی چیز کا احساس نہ کر سکیں، خواہ یہ کیفیت چند لمحوں ہی کے لیے ہو، تو اس صورت میں آپ کا وضو ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کی نماز باطل ہو جاتی ہے، لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ دوبارہ وضو کریں اور نماز بھی دوبارہ ادا کریں۔
فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ بے ہوشی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، چاہے وہ بے ہوشی معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح عقل کا زائل ہو جانا، خواہ دوا کی وجہ سے ہو، یا جنون کے سبب، یا کسی اور وجہ سے، وضو کو توڑ دیتا ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ ’’المجموع‘‘ (2/25)میں لکھتے ہیں:
’’امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جنون اور بے ہوشی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور اس اجماع کو ابن منذر اور دیگر اہلِ علم نے نقل کیا ہے۔ ہمارے اصحاب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جس شخص کی عقل؛ جنون، بے ہوشی، بیماری، یا شراب یا نبیذ کے نشے، یا کسی اور سبب سے زائل ہو جائے، یا کسی ضرورت یا غیر ضرورت کے تحت دوا پی لے جس سے اس کی عقل جاتی رہے، تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔‘‘ ختم شد۔
اور ابن قدامہ رحمہ اللہ ’’المغنی‘‘ (1/234) میں لکھتے ہیں:
’’عقل کا زائل ہو جانا، خواہ جنون سے ہو، یا بے ہوشی سے، یا نشے سے، یا ان جیسی عقل زائل کرنے والی دواؤں سے، تھوڑا ہو یا زیادہ، ہر صورت میں وضو کو توڑ دیتا ہے، اور اس پر اجماع ہے۔ ابن منذر کہتے ہیں: اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ بے ہوش شخص پر وضو واجب ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی محسوس کرنے کی طاقت سوئے ہوئے شخص سے بھی زیادہ معطل ہوتی ہے؛ کیونکہ وہ جگانے سے بھی نہیں جاگتے، لہٰذا جب سونے والے پر وضو کرنا واجب کیا گیا ہے تو اس پر بدرجۂ اولیٰ وضو واجب ہو گا ؛ کیونکہ بے ہوشی کی کیفیت نیند سے زیادہ شدید ہے۔‘‘ ختم شد۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے یہ سوال کیا گیا کہ: جو لوگ کچھ لمحات کے لیے غشی یا بے ہوشی کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں، ان کے وضو کا کیا حکم ہے؟
تو آپ نے جواب دیا:
’’اس مسئلے میں تفصیل ہے: اگر یہ کیفیت معمولی ہو، جس سے شعور بالکل زائل نہ ہو اور نہ ہی وضو ٹوٹنے کا احساس ختم ہو، تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، جیسے وہ شخص جو اونگھ رہا ہو مگر گہری نیند میں نہ گیا ہو، بلکہ حرکت کی آواز سن لیتا ہو، تو ایسے شخص کو کوئی ضرر نہیں، یہاں تک کہ اسے یقین ہو جائے کہ اس سے کوئی چیز خارج ہوئی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب غشی ایسی نہ ہو جو احساس کو بالکل ختم کر دے۔
لیکن اگر غشی ایسی ہو جو اس کے شعور کو ختم کر دے اور اسے اس بات کا احساس نہ رہے کہ اس سے کیا خارج ہو رہا ہے، جیسے نشے میں مبتلا شخص، یا وہ مریض جس کی بیماری نے اس کا شعور سلب کر لیا ہو یہاں تک کہ وہ بے ہوشی کی حالت میں چلا جائے، تو ایسے شخص کا وضو ٹوٹ جاتا ہے، جیسے بے ہوشی کی صورت میں ہوتا ہے، اور یہی حال مرگی کے مریضوں کا بھی ہوتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’فتاویٰ الشیخ ابن باز‘‘ (10/145)
اور الشیخ محمد بن محمد المختار شنقیطی کہتے ہیں:
’’عقل کے زائل ہونے کی چار بنیادی وجوہ ہیں: نیند، جنون، بے ہوشی اور نشہ۔۔۔
دوسری وجہ: جنون ہے، جس سے عقل مکمل طور پر زائل ہو جاتی ہے، اور یہ بالاتفاق وضو کو توڑ دیتا ہے، جیسا کہ امام ابن منذر رحمہ اللہ اور دیگر اہلِ علم نے نقل کیا ہے۔ اور جب دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو جنون کی وجہ سے وضو کا ٹوٹنا بدرجۂ اولیٰ ثابت ہو گا، کیونکہ یہاں ادنیٰ کے ذریعے اعلیٰ پر تنبیہ کی گئی ہے، جس میں وضو کا ٹوٹ جانا زیادہ لازم ہو جاتا ہے۔
تیسری وجہ: بے ہوشی ہے، یہ ایسی بے ہوشی ہے جس سے ادراک بھی زائل ہو جاتا ہے، اور یہ کیفیت اکثر مرگی کے دوروں میں پیش آتی ہے، اور بہت سے مسائل میں اس کا حکم جنون ہی کے حکم میں ہوتا ہے، اسی لیے اس بات پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مرگی کے دوران کی بے ہوشی وضو کو توڑنے والے اسباب میں سے ہے۔‘‘
یہ اقتباس ’’شرح زاد المستقنع‘‘ سے مکمل ہوا ۔
لہٰذا اگر آپ کا شعور چند لمحوں کے لیے بھی زائل ہو جائے تو آپ پر وضو اور نماز دونوں کو دوبارہ ادا کرنا لازم ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو شفا عطا فرمائے، آپ کو عافیت بخشے، اور آپ کو اس آزمائش پر اجر عطا فرمائے۔
واللہ اعلم