اگر ضامن زکاۃ یا عطیات سے قرض ادا کر دے تو کیا وہ اصل مقروض سے رقم وصول کر سکتا ہے؟

سوال 335022

ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کے قرض کی ضمانت دی۔ ادائیگی کا وقت آیا تو اصل مقروض نے قرض ادا نہیں کیا، جس کی وجہ سے ضامن کو یہ رقم ادا کرنا پڑی۔ ضامن کے پاس ادائیگی کے لیے رقم نہیں تھی، اس لیے اس نے کچھ اہلِ خیر کو بتایا کہ اس پر قرض کی ادائیگی لازم ہوگئی ہے۔ اہلِ خیر نے اس کی طرف سے وہ قرض ادا کر دیا۔ بعد ازاں ضامن اصل مقروض سے اس رقم کا مطالبہ کرنے لگا۔ کیا ضامن کے لیے یہ رقم وصول کر کے اپنے پاس رکھنا جائز ہے، یا اسے یہ رقم ان اہلِ خیر کو واپس کرنا ہو گی جنہوں نے اس کی طرف سے قرض ادا کیا تھا؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

کفالت یا ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص، جو شرعاً مالی عطیہ دینے کا اہل ہو، کسی دوسرے کے ذمے موجود قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی اپنے اوپر لے لے، اور وہ قرض اصل مقروض کے ذمے بھی برقرار رہے۔

بنیادی اصول یہ ہے کہ قرض خواہ اصل مقروض اور ضامن، دونوں میں سے جس سے چاہے اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

چنانچہ ’’کشاف القناع‘‘ (3/364) میں ہے:

’’صاحبِ حق کو اختیار ہے کہ وہ ان دونوں میں سے جس سے چاہے مطالبہ کرے، یعنی اصل مقروض یا ضامن، دونوں میں سے کسی سے بھی؛ کیونکہ حق ان دونوں کے ذمے ثابت ہے۔ محض ضمانت کی وجہ سے اصل مقروض بری الذمہ نہیں ہوتا۔ حوالۂ دین میں قرض منتقل کرنے والا بری الذمہ ہو جاتا ہے، لیکن ضمانت کی صورت میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ قرض دونوں کے ذمے برقرار رہتا ہے؛ کیونکہ صاحبِ حق کے لیے اپنا حق ان دونوں کو ہبہ کرنا درست ہے۔ نیز اگر ضامن کہے: میں صرف مطالبے کی ضمانت لیتا ہوں، اصل قرض کی نہیں، تو بالاتفاق ایسی ضمانت درست نہیں ہوگی۔ اسے ’’المبدع‘‘ میں ذکر کیا گیا ہے۔‘‘ ختم شد

البتہ بعض فقہائے کرام کے نزدیک ضامن یہ شرط لگا سکتا ہے کہ قرض خواہ پہلے اصل مقروض سے ادائیگی کا مطالبہ کرے گا، پھر اگر وہ قرض ادا کرنے سے عاجز ہو یا ادائیگی سے انکار کر دے تو ضامن سے مطالبہ کیا جائے گا۔

جیسے کہ ’’المعاییر الشرعیۃ‘‘، ص: 132 میں ہے:

’’قرض خواہ کو اصل مقروض یا ضامن، دونوں میں سے کسی سے بھی مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، اور اسے اختیار ہے کہ وہ جس سے چاہے مطالبہ کرے۔

البتہ ضامن یہ شرط لگا سکتا ہے کہ مطالبے میں ترتیب ملحوظ رکھی جائے؛ مثلاً قرض خواہ پہلے اصل مقروض سے مطالبہ کرے، پھر اگر وہ ادائیگی سے انکار کر دے تو ضامن سے رجوع کرے۔‘‘

دوم:

اگر اصل مقروض قرض ادا نہ کرے، تو قرض خواہ ضامن سے ادائیگی کا مطالبہ کرے اور ضامن کے پاس ادائیگی کے لیے مال نہ ہو تو اسے زکاۃ یا صدقے کی رقم دینا جائز ہے، تاکہ وہ اس سے قرض ادا کر دے۔ اس طرح قرض ادا ہو جائے گا اور اصل مقروض بھی قرض خواہ کے مطالبے سے بری الذمہ ہو جائے گا۔

ایسی صورت میں ضامن کو اصل مقروض سے اس رقم کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

جیسے کہ ’’مغنی المحتاج‘‘ (3/217) میں ہے:

’’قرض کی ذمہ داری اٹھانے والے ضامن کو اصل مقروض سے اپنی ادا کردہ رقم واپس لینے کا حق اس وقت ہوگا جب اصل مقروض نے اسے ضامن بننے اور قرض ادا کرنے، دونوں کی اجازت دی ہو؛ کیونکہ ضامن نے اصل مقروض کی اجازت سے اپنا مال اس کے فائدے کے لیے خرچ کیا ہے۔ یہ حکم اس وقت ہے جب ضامن نے اپنے مال سے قرض ادا کیا ہو۔ لیکن اگر اس نے زکاۃ میں مقروضوں کے لیے مختص حصے سے رقم لے کر قرض ادا کیا ہو تو وہ اصل مقروض سے اس رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتا، جیسا کہ فقہائے کرام نے تقسیمِ صدقات کے باب میں بیان کیا ہے۔‘‘ ختم شد

لہٰذا ضامن اصل مقروض سے اسی وقت اپنی ادا کردہ رقم واپس مانگ سکتا ہے جب اس نے قرض اپنے مال سے ادا کیا ہو۔ اگر اس نے زکاۃ یا اہلِ خیر کے عطیات سے قرض ادا کیا ہے تو وہ اصل مقروض سے یہ رقم وصول نہیں کر سکتا۔

اسی طرح ضامن کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ قرض کی ادائیگی کے نام پر زکاۃ یا عطیات وصول کرے اور پھر اس رقم کو قرض ادا کرنے کے بجائے کسی دوسرے کام میں خرچ کر دے۔

علامہ بہوتی رحمہ اللہ ’’کشاف القناع‘‘ (2/282) میں لکھتے ہیں:

’’جب کسی قرض دار کو اتنی رقم دے دی جائے جس سے وہ اپنا قرض ادا کر سکے تو اس کے لیے اس رقم کو کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا جائز نہیں، خواہ وہ خود محتاج ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ اسے یہ رقم ایک خاص ضرورت پوری کرنے کے لیے دی گئی ہے۔۔۔ اسی بنا پر آزادی کی قیمت ادا کرنے والے مکاتب غلام، چٹی بھرنے والے قرض دار، راہِ جہاد میں جانے والے شخص یا مسافر کو زکاۃ کی مد میں دی گئی رقم واپس لی جائے گی؛ اگر آزادی کی قیمت ادا کرنے والا مکاتب غلام یا چٹی بھرنے والا قرض دار اس ذمہ داری سے بری ہو جائے، ذاتی قرض یا چٹی بھرنے کی مالی ذمہ داری کے لیے رقم لینے والے پر وہ ذمہ داری عائد ہی نہ ہو، یا ان کے پاس یا مسافر کے پاس کچھ رقم بچ جائے۔‘‘ ختم شد

شیخ سلیمان بن عمر جمل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگر کوئی شخص کسی کو کھجوریں اس مقصد سے دے کہ وہ ان سے روزہ افطار کرے تو بظاہر وہ کھجوریں اسی مقصد کے لیے مخصوص ہو جائیں گی۔ لہٰذا دینے والے کے مقصد کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں کسی دوسرے کام میں استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔‘‘ ختم شد

ماخوذ از: ’’حاشیۃ الجمل علی شرح المنہج‘‘  (2/328)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس مسئلے میں ہمارے ہاں اصول یہ ہے کہ جو شخص لوگوں سے کسی خاص مقصد کے لیے مال وصول کرے، وہ ان کی اجازت کے بغیر اسے کسی دوسرے مصرف میں خرچ نہیں کر سکتا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’اللقاء الشہری‘‘ (4/9)

اس بنا پر اگر ضامن نے اہلِ خیر سے زکاۃ یا عطیات وصول کرکے قرض ادا کر دیا ہے تو وہ اصل مقروض سے وہ رقم دوبارہ وصول کرکے اپنے پاس نہیں رکھ سکتا؛ کیونکہ اس نے قرض اپنے مال سے ادا نہیں کیا، بلکہ اس مقصد کے لیے دی گئی زکاۃ یا عطیات سے ادا کیا ہے۔

البتہ ضامن کو اصل مقروض کو بتا دینا چاہیے کہ قرض ادا کیا جا چکا ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ضمانت دینا

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android