سوموار 15 صفر 1441 - 14 اکتوبر 2019
اردو

روزے کی حالت میں داڑھ کا علاج کروانا

سوال

اب عقل داڑھ نلکنا شروع ہوئي ہے جس کی بہت تکلیف محسوس ہوتی ہے توکیا مندرجہ ذیل اشیاء جائزہیں :
1 - روزے کی حالت میں درد کم کرنے والی مرھم لگانا ؟
2 - داڑھ اکھاڑنے کے لیے جراحی عمل کرنا اورروزہ کی حالت میں ہی سن کرنے والی ادویات استعمال کرنا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
روزے کی حالت میں دانتوں کا علاج اورمسوڑھوں پرمرہم لگانی جائز ہے لیکن ایک شرط ہے کہ اسے نگلا نہ جائے ۔

کتاب : ( سبعون مسئلۃ فی الصیام ) روزوں کے ستر مسائل میں ہے کہ :

کچھ ایسی اشیاء بھی ہیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، ان میں سے ہم چند ایک بطور مثال ذکر کرتے ہيں :

1 - سینہ کے درد کے علاج کے لیے زبان کے نیچے رکھی جانے والی گولیاں وغیرہ جبکہ اس میں کچھ بھی نگلا نہ جائے ۔

2 - دانت میں سوراخ کرنا ، یا پھر داڑھ نکالنا ، یا دانتوں کی صفائی ، یا مسواک اوربرش کرنا لیکن ان میں بھی حلق تک جانے والی چيز نگلنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔

3 - کلی اورغرارے کرنا ، اورمنہ کے علاج کے لیے سپرے کا استعمال ، لیکن جب حلق تک جانے والی چيز کے نگلنے سے اجتناب کیا جائے ۔

کتاب سے لیا گيا اقتباس ختم ہوا ۔

اور اسی طرح بے ہوشی کے اثر میں ہوتے ہوئے جراحی عمل کرنا بھی جائز ہے لیکن اگر بے ہوشی سارے دن پر مشتمل نہ ہو تو پھر ، یعنی طلوع فجر سے لیکر غروب آفتاب تک نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کا حکم بھی نیند جیسا ہی ہے ، آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 12425 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔ واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں