عورتوں اور مردوں کے باہمی گفتگو سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پیش آنے والا اشکال

سوال 59873

آپ نے سوال نمبر 6453 میں مرد و عورت کے باہمی تعلق کے حوالے سے یہ عبارت ذکر کی ہے کہ :
’’چنانچہ مرد اور عورت کے درمیان گفتگو — خواہ آواز کے ذریعے ہو یا تحریر کے ذریعے — فی نفسہٖ مباح ہے، لیکن یہ شیطان کے جال میں پھنسنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا جس شخص کو اپنے اندر کمزوری کا احساس ہو، اور اسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ شیطان کے پھندوں میں گرفتار ہو جائے گا، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس گفتگو سے رک جائے اور اپنی حفاظت کرے۔ اور جو شخص اپنے اندر راہِ راست پر یقینی ثابت قدمی پائے، تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے حق میں اس کی اجازت ہے، لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔‘‘
الحمد للہ! میں اس عبارت کے اس حصے تک تو مقصد کو سمجھ گئی ہوں، لیکن دوسرے حصے میں یہ بات میرے لیے اشکال کا باعث بنی ہے:
1-’’ گفتگو کو زیرِ بحث موضوع سے زیادہ آگے نہ بڑھنے دیا جائے، یا یہ گفتگو اسلام کی دعوت دینے کے مقصد سے ہو۔‘‘

تو اب میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے وہ کون سے امور ہیں جنہیں ابتداءً ایسے موضوعات شمار کیا جاتا ہے جن پر گفتگو کی اجازت ہے؟ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا موضوع ہے جس پر بات کرنا جائز ہے، لیکن اس کے علاوہ اور کون سے دیگر امور ہیں — اگر ہوں — جنہیں ہم اس نوع کی گفتگو میں زیرِ بحث لا سکتے ہیں؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اجنبی مرد اور عورت کے درمیان گفتگو ضرورت کے تحت جائز ہے، بشرطیکہ شرعی ضوابط کی پابندی کی جائے، یعنی خلوت نہ ہو، زینت کا اظہار نہ ہو، گفتگو میں نرمی اور لچک نہ ہو، اور بات صرف اسی حد تک محدود رہے جس کی واقعی ضرورت ہو۔ یہی اس گفتگو سے مراد ہے جو زیرِ بحث موضوع کے دائرے میں ہو۔

چنانچہ اگر موضوع عورت کی طرف سے کوئی شرعی سوال ہو تو وہ اپنے سوال کو سمجھانے کے لیے اسی قدر پر اکتفا کرے، بلا ضرورت ایسی باتوں میں نہ جائے جن کا اس کے سوال سے کوئی تعلق نہیں، اور جواب دینے والا بھی صرف جواب تک محدود رہے۔ اور اگر معاملہ خرید و فروخت کا ہو، یا قاضی کے سامنے پیشی کا ہو، یا کسی چیز کی خریداری کا ہو، یا گواہی دینے کا ہو، تو گفتگو صرف اسی حد تک ہو جو مقصد کے حصول کے لیے کافی ہو۔ اس کی وضاحت پہلے سوال نمبر (1497) کے جواب میں گزر چکی ہے، اور اس میں یہ بات کہی گئی ہے:

’’ اجنبی عورت سے گفتگو صرف ضرورت کے تحت جائز ہے، جیسے:

  • فتویٰ معلوم کرنے کے لیے
  • خرید و فروخت کے دوران
  • گھر کے مالک خاوند کے متعلق دریافت کرنے کے لیے وغیرہ وغیرہ۔

اور گفتگو مختصر، سنجیدہ اور بے ریب ہونی چاہیے؛ نہ گفتگو کے موضوع میں فتنے کا خدشہ ہو، نہ اندازِ بیان میں۔

رہا معاملہ کہ سوال میں مذکور پانچ مخصوص صورتوں کی، تو انہیں مثال کے طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے، لیکن گفتگو کو صرف انہی مواقع سے محدود کرنا درست نہیں؛ بلکہ ہر وہ جائز صورت جس میں شرعی آداب کا لحاظ رکھا جائے، وہاں اجنبی عورت سے بات کرنا جائز ہے، چاہے دعوت ہو، فتویٰ ہو یا خرید و فروخت وغیرہ۔ واللہ اعلم‘‘

عورت کو اجنبی مرد کے ساتھ ضرورت کے وقت گفتگو کرنے سے منع نہیں کیا گیا، مثلاً مرد دکاندار سے خرید و فروخت کرنا یا دیگر مالی معاملات انجام دینا؛ کیونکہ ایسے معاملات فریقین کی باہمی گفتگو کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ اسی طرح عورت کسی عالم سے کوئی شرعی مسئلہ پوچھ سکتی ہے، یا مرد عورت سے (کسی شرعی ضرورت کے تحت) سوال کر سکتا ہے، جیسا کہ قرآن و سنت کی نصوص سے یہ بات ثابت ہے۔ چنانچہ جب مذکورہ بالا شرعی ضوابط کی پابندی کی جائے تو اجنبی مرد کے ساتھ عورت کی گفتگو میں کوئی حرج نہیں رہتا۔

اسی طرح راجح قول کے مطابق مرد کا عورتوں کو اور عورتوں کا مردوں کو سلام کرنا بھی جائز ہے، لیکن یہ سلام ایسے انداز میں ہونا چاہیے جس سے بیمار دلوں میں کسی قسم کی طمع پیدا نہ ہو، نیز اس کے لیے فتنے سے امن ہونا ضروری ہے، اور پہلے بیان کردہ تمام شرعی ضوابط کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔

البتہ اگر سلام کی وجہ سے فتنے کا اندیشہ ہو، تو عورت کے لیے سلام کرنا بھی ممنوع ہو گا، اور سلام کا جواب دینا بھی؛ کیونکہ سلام ترک کر کے فتنہ سے حفاظت کرنا مفسدہ کے ازالے کے ضمن میں آتا ہے، اور شریعت کا اصول ہے کہ مفسدات کو دور کرنا مصالح کے حصول پر مقدم ہوتا ہے۔

ملاحظہ کریں: ’’المفصل في أحكام المرأة‘‘، عبد الکریم زیدان (3 / 276)

اور بلا ضرورت مباح گفتگو یا شرعی مسائل میں حد سے زیادہ تفصیل میں جانا مرد اور عورت کے درمیان حائل رکاوٹوں کو ختم یا کمزور کر دیتا ہے، اور ہر ایک کو دوسرے کے معاملے میں بے باک بنا دیتا ہے، جس کا انجام بسا اوقات ایسا ہو سکتا ہے جو قابلِ تعریف نہ ہو۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

اخلاق حسنہ
عورتوں سے کلام کرنے کے آداب
مذموم اخلاق

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android