حج کرنا چاہتا ہے لیکن پیشاب کے بعد اسے قطرے آنے کی شکایت ہے جس کی وجہ سے لباس کو پاک رکھنا اس کے لیے مشکل ہو گا، اسے کیا کرنا چاہیے؟

سوال 83987

میں اپنے فوت شدہ بھائی کی طرف سے حج کرنا چاہتا ہوں، لیکن میں پیشاب کے بعد کچھ چپچپے، شفاف قطرات کے اخراج میں مبتلا ہوں (جو پیشاب نہیں ہوتے)، اور یہ مختلف وقفوں سے خارج ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مجھے ہر نماز کے وقت اپنے کپڑے دھونے پڑتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اس سال اپنے بھائی کی طرف سے حج ادا کروں، باوجود اس کے کہ احرام اور نماز کے وقت مجھے دشواری پیش آتی ہے، یا پھر میں حج کو ملتوی کر دوں یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے میں علاج کروا لوں؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ قطرات مذی، ودی یا کسی اور قسم کی رطوبت میں شمار ہوں گے؟ اور ہر حالت میں اس کا شرعی حکم کیا  ہو گا؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
پیشاب کے بعد جو چیز اکثر خارج ہوتی ہے وہ ودی ہوتی ہے، اور وہ سفید گاڑھا پانی ہوتا ہے، جو سفید قطروں کی صورت میں نکلتا ہے، اور وہ نجس  ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ نے مذی اور ودی کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’مذی: سفید، رقیق، لزج مادہ ہے جو شہوت کے وقت خارج ہوتا ہے، مگر اس کے  نکلنے سے لذت محسوس نہیں ہوتی، نہ ہی  یہ مادہ اچھل کر نکلتا ہے، نہ ہی اس کے بعد بدن میں سستی آتی ہے، اور کبھی کبھار تو اس کے نکلنے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ مذی کا اخراج مرد اور عورت دونوں میں یکساں طور پر ہوتا ہے۔

اور ودی: سفید، گدلا اور گاڑھا پانی ہے، جو گاڑھا ہونے میں منی سے مشابہ ہوتا ہے، لیکن گدلا ہوتا ہے اور اس کی کوئی خاص بو نہیں ہوتی۔ یہ پیشاب کے بعد۔۔۔، یا کوئی بھاری چیز اٹھانے پر نکلتا ہے، اور عموماً ایک یا دو قطرے نکلتے ہیں۔

اور تمام علماء کا اجماع ہے کہ مذی یا ودی کے خروج پر غسل واجب نہیں۔‘‘ مختصراً ختم شد  المجموع : (2/160)

شیخ ابن جبرین حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا:

’’پیشاب کے آخر میں مجھے کچھ منی نما مادہ نکلتا محسوس ہوتا ہے، تو کیا ہر پیشاب کے بعد غسل واجب ہے؟ کیونکہ مجھے شک ہے کہ اس کا اثر جماع کی طرح ہوتا ہے؟‘‘

تو انہوں نے جواب دیا: ’’یہ جو پیشاب کے بعد منی جیسا مادہ نکلتا ہے وہ معروف ودی ہے۔ چونکہ یہ پیشاب کے بعد نکلتا ہے اور اچھل کر نکلنے کی بجائے بہتا ہے، تو یہ غسل واجب نہیں کرتا، بلکہ صرف وضو کو توڑتا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد شرمگاہ کو دھونا اور وضو کرنا واجب ہے، غسل واجب نہیں۔ غسل صرف اس وقت واجب ہوتا ہے جب منی اچھل کر اور شہوت کے ساتھ نکلے۔ اور اچھل کر نکلنے سے مراد ہے کہ وہ پریشر کے ساتھ نکلے، نہ کہ پیشاب کی طرح بہنے لگے یا ٹپکے۔ لہٰذا ودی کے نکلنے سے کچھ بھی لازم نہیں آتا۔‘‘ ختم شد
فتاوى اسلامیہ: (1/226)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (47693) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:
جب تک یہ قطرے صرف پیشاب کے بعد ہی نکلتے ہوں، تو یہ سلس البول (پیشاب کا مستقل بےاختیار اخراج) کے حکم میں نہیں آئیں گی، کیونکہ سلس البول بغیر ارادے کے مستقل جاری رہتا ہے۔

لہٰذا آپ کو نماز سے پہلے اتنا وقت رکھنا چاہیے کہ یہ قطرے رک جائیں۔ اس کے ساتھ آپ کو کپڑوں پر نجاست پھیلنے سے بچانے کے لیے کوئی کپڑا یا روئی وغیرہ کا  استعمال کرنا چاہیے۔ اس صورت میں صرف وہ کپڑا تبدیل کرنا کافی ہو گا، اور آپ کو مکمل کپڑے دھونے کی ضرورت نہیں رہے گی، اور یہ آپ کے لیے زیادہ آسان ہو گا۔ اور اگر آپ وہ روئی وغیرہ  رکھنا بھول جائیں، یا نجاست کپڑوں تک پہنچ جائے، اور کسی وجہ سے کپڑوں کو دھونا یا تبدیل کرنا مشکل ہو، تو ہم امید کرتے ہیں کہ ایسی حالت میں انہی کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’وہ مریض جو سلس البول میں مبتلا ہو اور علاج کے باوجود شفا نہ پائے، اسے ہر نماز کے لیے نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد وضو کرنا ہو گا، اور بدن پر لگنے والی نجاست کو دھونا ہو گا، اور اگر ممکن ہو تو نماز کے لیے پاک کپڑے مخصوص کرے۔ اگر یہ مشکل ہو تو اللہ تعالیٰ نے دین میں تنگی نہیں رکھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ترجمہ: ’’اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی‘‘ اور فرمایا: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ترجمہ: ’’اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تم پر سختی نہیں چاہتا‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو حسب استطاعت اس پر عمل کرو‘‘ لہٰذا اسے چاہیے کہ  اس طرح احتیاط کرے کہ پیشاب اس کے کپڑوں، جسم یا جائے نماز پر نہ لگے۔‘‘ ختم شد
فتاوى إسلامية : (1/192)

اور جب آپ کو علم ہو کہ یہ قطرے رک جائیں گے، تو آپ ان کے جاری رہنے کی حالت میں نماز نہیں پڑھ سکتے، چاہے اس سے جماعت کی نماز فوت ہو جائے۔

دائمی فتوی کمیٹی سے سوال کیا گیا: ’’ایک شخص سلس البول میں مبتلا ہے، اور پیشاب کے بعد کچھ وقت تک پیشاب کے قطرے خارج نہیں ہوتے؛ چنانچہ اگر کوئی شخص اس مرحلے کے آنے کا  انتظار کرے تو اس کی جماعت کی نماز چھوٹ جائے گی، تو ایسے میں اس کے لیے کیا حکم ہو گا؟‘‘

تو انہوں نے جواب دیا: ’’اگر اسے یقین ہے کہ سلس البول رک جائے گا، تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان قطروں کے جاری رہنے کے دوران نماز با جماعت کی فضیلت پانے کے لیے نماز پڑھے ۔ بلکہ اسے انتظار کرنا ہو گا، پھر استنجا کرے، وضو کرے، اور اپنی نماز پڑھے، چاہے جماعت فوت ہو جائے۔ اور جب نماز کا وقت داخل ہو تو فوراً استنجا اور وضو کا اہتمام کرے، تاکہ ممکن ہو تو جماعت پا سکے۔‘‘ ختم شد
’’ فتاویٰ اللجنة الدائمة ‘‘ (5/408)

سوم:
جہاں تک آپ کا اپنے بھائی کی طرف سے اس سال حج کرنا یا علاج کے بعد آئندہ سال کرنا ہے، تو آپ دیکھیں کہ آپ کے لیے کون سا وقت زیادہ سہولت والا ہے۔ اور آپ کے لیے یہ جائز ہے کہ آپ حج کو آئندہ سال تک مؤخر کر دیں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

طہارت و پاکيزگی

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android