آپ کا چہرہ ڈھانپنے والا نقاب پہننا شرعاً درست عمل ہے، بلکہ واجب ہے، جیسے کہ اس کے بہت سے دلائل ہیں، جن کی وضاحت پہلے جواب نمبر (11774) میں کی جا چکی ہے۔ اس بنا پر آپ کے بہنوئی کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں، بلکہ ہر صاحبِ ایمان کو حیا کے فروغ اور پاکیزگی کے عام ہونے پر خوش ہونا چاہیے۔
اور اگر انہوں نے آپ کو بلا قصد دیکھ لیا ہو تو اس میں آپ پر کوئی گناہ نہیں؛ البتہ اگر وہ جان بوجھ کر دیکھتے ہوں تو گناہ انہی پر ہو گا۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے مسلم (2159) نے جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہ پھیر لوں۔
دوم:
آپ کا بہنوئی ان رشتہ داروں میں شامل نہیں جن سے صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے، اور نہ ہی وہ ان رشتہ داروں میں سے ہے جن کے سامنے پردہ اٹھانا یا جن سے مصافحہ کرنا جائز ہوتا ہے؛ بلکہ وہ آپ کے لیے غیر محرم ہے۔ اس بنا پر اس کے سامنے پردہ کرنا لازم ہے، اس سے مصافحہ کرنا حرام ہے، اور اس کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا بھی حرام ہے۔
چنانچہ آپ پر یہ لازم نہیں کہ آپ اس کے گھر جائیں اور اس سے رابطہ رکھیں، اور اس کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا جائز نہیں۔ البتہ اگر آپ نقاب میں رہتے ہوئے، اپنی بہن یا کسی محرم کی موجودگی میں اس کے سامنے بیٹھیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ کسی قسم کے شکوک و شبہات باقی نہ رہیں اور فتنے سے اطمینان ہو۔
فتاویٰ اللجنة الدائمة (17/420) میں ہے کہ :
’’عورت کے لیے اس کا بہنوئی محرم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کے لیے غیر محرم شمار ہوتا ہے۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے سامنے چہرہ کھولے، نہ اس سے مصافحہ کرے، نہ اس کے ساتھ تنہائی اختیار کرے، اور نہ اس کے ساتھ سفر کرے۔ وہ دیگر اجنبی مردوں ہی کی طرح ہے۔ البتہ اگر وہ کسی محرم کی موجودگی میں، پردہ اور مکمل تحفظ کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ ختم شد
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (40618) کا جواب ملاحظہ کریں۔
البتہ آپ کے لیے نصیحت یہ ہے کہ جب وہ جان بوجھ کر آپ کو بغیر پردے کے دیکھنے کی کوشش کرتا ہو، اور آپ کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کرنے کا شوق رکھتا ہو، تو بہتر یہی ہے کہ آپ اس کے سامنے ، محرم کی موجودگی میں بھی نہ بیٹھیں۔
سوم:
اس معاملے کا آپ کی بہن کے ساتھ تعلق اور اس سے صلہ رحمی پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہ ان رشتہ داروں میں سے ہے جن سے صلہ رحمی واجب ہے۔ لہٰذا اگر فون کے ذریعے رابطہ رکھنے اور اس کے آپ کے پاس آ جانے سے صلہ رحمی قائم ہو جاتی ہے تو یہی کافی ہے۔ اور اگر آپ خود اس کے پاس جانا چاہیں تو اس کی دلجوئی اور اطمینان کے لیے اس سے ملنے چلی جائیں، البتہ ایسے اوقات کا انتخاب کریں جن میں اس کا شوہر گھر میں موجود نہ ہو۔
چہارم:
گزشتہ تفصیل سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ جب آپ کے بہنوئی آپ کے ہاں آئیں تو آپ پر ان کے ساتھ مجلس میں بیٹھنا لازم نہیں، اگرچہ وہ خود ایسا پسند کرتے ہوں۔ اور اگر آپ سلام کر کے واپس آ جائیں تو یہ بھی مناسب ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اس پردے، حیا اور عفت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے توفیق، درست رویّہ اور راہِ راست کی دعا کرتے ہیں۔
واللہ اعلم