ربوبیت کا دعوی!

سوال 10032

امتِ مسلمہ کے اندر دو خود ساختہ اسلامی گروہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک ’الاِجَّہ محمد‘ نامی جماعت ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخلوق کی مشابہت (تشبیہ) کے عقیدے پر قائم ہے۔ اس گروہ کے بعض لوگ تو یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو ’اللہ‘ کہنا شروع کر دیا ہے۔ یہ لوگ اپنے باطل عقائد کے اثبات کے لیے قادیانی ترجمۂ قرآن کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ میں کتاب و سنت کی روشنی میں ایسے لوگوں—جو ربوبیت کا دعویٰ کرتے ہیں (یعنی ’مرد—خدا‘) — کے عقائد کا رد کس طرح کروں؟ اور یہ رد صرف کافروں کے لحاظ سے ہی نہ ہو، بلکہ ایسا ہو کہ جسے عیسائی کافروں سامنے بھی پیش کیا جا سکے۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

ہمیں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ یہ امت فرقوں میں بٹ جائے گی۔

چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہود 71 یا 72 فرقوں میں بٹ گئے، اور نصاریٰ بھی اسی طرح، اور میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی۔)
اور ابن ماجہ (3993) میں انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: ’’ان میں سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے (2640)۔ اور امام ترمذی نے کہا کہ : ابو ہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ جبکہ علامہ البانی نے ’’صحیح ابن ماجہ‘‘ (3227) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

جب یہ بات معلوم ہو گئی تو سمجھ لینا چاہیے کہ نجات پانے والا فرقہ اور کامیاب و منصور جماعت وہی ہے جو ظاہر و باطن میں کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھے۔

دوم:
جو شخص ربوبیت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ اسلام سے پہلے کے عرب مشرکوں سے بھی بڑھ کر کافر ہے؛ اور ایسے ہی مشرکوں کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے تھے۔

زمانۂ جاہلیت کے مشرک اس بات کا عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالی ہی خالق، رازق، زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہے، اور اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ:
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
’’اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے۔‘‘ (لقمان: 25)

اس اعتراف کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک اور کفر کا حکم ختم نہیں فرمایا، کیونکہ انہوں نے توحیدِ عبادت کا انکار کیا ہوا تھا—یعنی عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنا؛ وہ لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو سجدہ کرتے تھے، ان کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے، اور عبادت میں اللہ کے ساتھ بتوں اور تھانوں کو شریک کرتے تھے، یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ اللہ کے مقابلے میں نفع و نقصان کے اختیارات رکھتے ہیں۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا موقف نقل فرمایا:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهاً وَاحِداً إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
ترجمہ:’’کیا اس نے سارے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا؟ یقیناً یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘ (ص: 5)

اور فرمایا:
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ترجمہ:’’اور جنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم تو انہیں صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔‘‘ (الزمر: 3)

یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ عرب مشرکین کا کفر ان لوگوں کے کفر سے کم تھا جن کا ذکر سائل نے کیا ہے، کیونکہ عرب مشرکین ربوبیت کے توحید والے حصے کا اقرار کرتے تھے، جبکہ یہ لوگ تو اسی کا انکار کرتے ہیں۔

سوم:

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ربوبیت کے دعوے کرنے والوں کے تمام شبہات کھوکھلے کر دئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا
ترجمہ:’’اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو وہ دونوں تباہ ہو جاتے۔‘‘ (الأنبياء: 22)

اور فرمایا:
مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
ترجمہ:’’اللہ نے نہ کوئی بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؛ ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق لے کر الگ ہو جاتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو وہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔‘‘ (المؤمنون: 91)

اور ربوبیت کے دعوے دار کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کی مناظرہ آرائی تو دلیلِ حق کا بہترین نمونہ ہے۔
فرمانِ باری تعالی ہے:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ ۖ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ ۖ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
ترجمہ:’’کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، اس بنا پر کہ اللہ نے اسے بادشاہت دی تھی؟ جب ابراہیم نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے۔ اس نے کہا: میں بھی زندگی اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا: بے شک اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے، تم اسے مغرب سے لے آؤ۔ چنانچہ وہ کافر مبہوت ہو گیا، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ (البقرۃ: 258)

لہٰذا آپ بھی اسی دلیل کے انداز کو اختیار کریں؛ اور ربوبیت کے جھوٹے دعوے داروں سے کہیے:
اگر تمہارا دعویٰ سچا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھاؤ، یا مردوں کو زندہ کر کے دکھاؤ، یا آسمان سے بارش نازل کر کے دکھاؤ، یا زمین سے پیداوار اگا کر دکھاؤ۔

چہارم:

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی ہے کہ آخری زمانے میں دجال ظاہر ہو گا اور ربوبیت کا دعویٰ کرے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی ربوبیت کے جھوٹ کو پہچاننے کی علامت بھی واضح فرمائی—اور وہ یہ کہ دجال دائیں آنکھ سے کانا ہو گا۔

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: )میں تمہیں اس کے بارے میں خبردار کرتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے بارے میں نہ خبردار کیا ہو۔ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا۔ لیکن میں تمہارے لیے ایسی بات کہتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی قوم سے نہ کہی: تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالی کی ذات ایسی نہیں ہے۔) بخاری (2892) اور مسلم (169)

یہ علامت ہر دیکھنے والے کے لیے بہت ظاہر  ہو گی۔
اگر واقعی دجال وہ ’’رب‘‘ ہوتا جس نے اس حسین و جمیل کائنات کو پیدا کیا ہے تو کیا وہ اپنے اندر موجود عیب کو دور نہ کر لیتا؟ کیا وہ کانے پن سے نجات نہ پا سکتا تھا؟

اللہ سبحانہ وتعالى نے اس کائنات اور انسان کو اس کامل تناسب اور حیرت انگیز ترتیب کے ساتھ پیدا کیا ہے؛ لہٰذا اس ذات کے لیے کامل ترین صفات ضروری ہیں جن میں کسی بھی طرح کا نقص نہ ہو۔

مگر ربوبیت کا دعویٰ کرنے والوں میں تو نقص کی علامتیں کھلی  اور واضح ہیں، مثلاً: نیند، بیماری، درد، حرارت و سردی سے تکلیف، کھانے پینے کی ضرورت، نجاست کا جسم کے اندر موجود ہونا، اور دن میں کئی بار قضائے حاجت کی ضرورت! تو بھلا جو خود محتاج، کمزور اور ناقص ہے وہ رب کیسے ہو سکتا ہے؟ اے اللہ! تیری ذات ایسی خامیوں سے بالکل پاک صاف ہے، اور ان کا دعوی بہت بھونڈا جھوٹ ہے۔

تعجب کی بات یہ نہیں کہ کوئی شخص ایسی بے ہودہ ربوبیت کا دعویٰ کرے؛ بلکہ اصل حیرت تو اس بات پر ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی پیروکار مل جاتے ہیں جو ان کی اس کھلی گمراہی کی تائید کرتے ہیں۔

پنجم:

مسلمان کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایسی جماعتیں، جیسا کہ مذکورہ فرقہ، قادیانیہ، بہائیت اور دیگر گمراہ فرقے، صرف اسلام سے دشمنی اور مسلمانوں کو اس سے دور کرنے کے لیے وجود میں آئے ہیں۔ ان کے گمراہ عقائد اور باطل نظریات کو باطل ثابت کرنا اور ان کی حقیقت واضح کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ خود بھی ان گمراہ فرقوں سے بچ کر رہے اور دوسروں کو بھی ان سے خبردار کرے۔

ششم:

عیسائیوں کے رد کے لیے کوئی لمبی چوڑی محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے؛ ان کے رد کے لیے ابن قیم رحمہ اللہ کے درج ذیل اشعار ہی کافی ہیں، آپ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

{أَعُبَّادَ الْمَسِيحِ لَنَا سُؤَالٌ * نُرِيدُ جَوَابَهُ مِمَّنْ وَعَاهُ؟}
’’اے مسیح کے پجاریو! ہمارا  ایک سوال ہے—اس کا جواب وہ دے جو اسے سمجھتا ہو۔‘‘

{إِذَا مَاتَ الإِلَهُ بِصُنْعِ قَوْمٍ * أَمَاتُوهُ، فَمَا هَذَا الإِلَهُ؟}
’’اگر تمہارا معبود لوگوں کے ہاتھوں مر گیا، تو جو مر جائے وہ الٰہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

{وَهَلْ أَرْضَاهُ مَا نَالُوهُ مِنْهُ * فَبُشْرَاهُمْ إِذًا نَالُوا رِضَاهُ؟}
’’اگر وہ ان کے کیے پر راضی تھا تو خوشخبری ہو، انہوں نے اس کی رضا پا لی! ‘‘

{وَإِنْ سَخِطَ الَّذِي فَعَلُوهُ فِيهِ * فَقُوَّتُهُمْ إِذًا أَوْهَتْ قُوَاهُ؟}
’’اور اگر وہ ناراض ہوا تو کیا لوگوں کی قوت نے اس مزعومہ الٰہ کی طاقت کو مات دے دی؟‘‘

{وَهَلْ بَقِيَ الْوُجُودُ بِلاَ إِلَهٍ * سَمِيعٍ يَسْتَجِيبُ لِمَنْ دَعَاهُ؟}
’’ اور کیا پوری کائنات بغیر الٰہ کے باقی رہی؟ کہ کوئی پکارنے والے کی پکار کو سننے والا ہو یا جواب دینے والا ہو؟‘‘

{وَهَلْ خَلَتِ الطِّبَاقُ السَّبْعُ لَمَّا * ثَوَى تَحْتَ التُّرَابِ وَقَدْ عَلَاهُ؟}
’’جب وہ خاک کے نیچے دفن ہوا تو کیا ساتوں آسمان الٰہ کے بغیر خالی ہو گئے ؟‘‘

{وَهَلْ خَلَتِ الْعَوَالِمُ مِنْ إِلَهٍ * يُدَبِّرُهَا وَقَدْ سُمِّرَتْ يَدَاهُ؟}
’’ جب اس کے ہاتھ کیلوں سے جکڑ دیے گئے تھے  تو کیا تمام جہان ایک ایسے الٰہ سے خالی ہو گئے جو ان کا نظم و نسق چلاتا تھا ؟‘‘

{وَكَيْفَ تَخَلَّتِ الأَمْلَاكُ عَنْهُ * بِنَصْرِهِمْ وَقَدْ سَمِعُوا بُكَاهُ؟}
’’فرشتے اس وقت کہاں گئے جب وہ مدد کا محتاج تھا جبکہ فرشتوں نے اس کا رونا بھی سنا تھا؟‘‘

{وَكَيْفَ أَطَاقَتِ الْخَشَبَاتُ حَمْلًا * لِلإِلَهِ الحَقِّ شُدَّ عَلَى قَفَاهُ؟}
’’لکڑی کے تختے ایک ’سچے معبود‘ کا بوجھ کیسے اٹھا سکتے تھے جس کی گردن کو بھی باندھ دیا گیا تھا؟‘‘

{وَكَيْفَ دَنَا الْحَدِيدُ إِلَيْهِ * حَتَّى يُخَالِطَهُ وَيَلْحَقَهُ أَذَاهُ؟}
’’لوہا اس تک کیسے پہنچا کہ اس کے جسم میں پیوست ہو کر اسے اذیت دینے لگا؟‘‘

{وَكَيْفَ تَمَكَّنَتْ أَيْدِي عِدَاهُ * وَطَالَتْ حَيْثُ قَدْ صَفَعُوا قَفَاهُ؟}
’’اس کے دشمنوں کے ہاتھ کیسے اس تک جا پہنچے، حتیٰ کہ انہوں نے اس کے چہرے پر طمانچے بھی مارے؟‘‘

{وَهَلْ عَادَ الْمَسِيحُ إِلَى حَيَاةٍ * أَمِ الْمُحْيِي لَهُ رَبٌّ سِوَاهُ؟}
’’کیا مسیح خود زندہ ہوا، یا کوئی اور رب تھا جس نے اسے دوبارہ زندگی دی؟‘‘

{وَيَا عَجَبًا لِقَبْرٍ ضَمَّ رَبًّا * وَأَعْجَبُ مِنْهُ بَطْنٌ قَدْ حَوَاهُ}
’’تعجب ہے اس قبر پر جس نے ’خدا‘ کو اپنی گود میں لیا! اس سے بھی بڑا تعجب اس رحم پر ہے جس نے اسے نو ماہ پالا!‘‘

{أَقَامَ هُنَاكَ تِسْعًا مِنْ شُهُورٍ * لَدَى الظُّلْمَاتِ مِنْ حَيْضٍ غَذَاهُ}
’’وہ نو ماہ تاریک رحم میں رہا اور عورت کے حیض کے خون سے غذا پاتا رہا!‘‘

{وَشَقَّ الْفَرْجَ مَوْلُودًا صَغِيرًا * ضَعِيفًا فَاتِحًا لِلثَّدْيِ فَاهُ}
’’پھر وہ ایک کمزور نو مولود کے طور پر ماں کے پیٹ سے نکلا اور دودھ پینے کے لیے اپنا منہ کھولا!‘‘

{وَيَأْكُلُ ثُمَّ يَشْرَبُ ثُمَّ يَأْتِي * بِلَازِمِ ذَاكَ، هَلْ هَذَا إِلَهُ؟}
’’وہ کھاتا تھا، پیتا تھا، اور انسانی ضروریات پوری کرتا تھا—تو بتاؤ، کیا ایسا بھی کوئی الٰہ ہوتا ہے؟‘‘

{تَعَالَى اللهُ عَنْ إِفْكِ النَّصَارَى * سَيُسْأَلُ كُلُّهُمْ عَمَّا افْتَرَاهُ}
’’اللہ نصاریٰ کے اس جھوٹ سے پاک ہے؛ وہ سب گھڑے ہوئے عقیدے کی بابت پوچھے جائیں گے۔‘‘

{أَعُبَّادَ الصَّلِيبِ لأَيِّ مَعْنًى * يُعَظَّمُ أَوْ يُقَبَّحُ مَنْ رَمَاهُ؟}
’’اے صلیب کے پجاریو! تم صلیب کو مقدس کیوں مانتے ہو یا اس کی اہانت کرنے والے کو برا کیوں کہتے ہو؟‘‘

{وَهَلْ تَقْضِي الْعُقُولُ بِغَيْرِ كَسْرٍ * وَإِحْرَاقٍ لَهُ وَلِمَنْ بَغَاهُ؟}
’’عقل تو یہی کہتی ہے کہ اس صلیب کو توڑ دیا  جائے، جلایا جائے، اور اس کے چاہنے والوں کو بھی۔‘‘

{إِذَا رَكِبَ الإِلَهُ عَلَيْهِ كَرْهًا * وَقَدْ شُدَّتْ لِتَسْمِيرٍ يَدَاهُ}
’’کیونکہ اگر الٰہ کو اسی صلیب پر زبردستی لٹکایا گیا اور اس کے ہاتھ کیلوں سے ٹھونکے گئے،‘‘

{فَذَاكَ الْمَرْكَبُ الْمَلْعُونُ حَقًّا * فَدُسَّهُ لَا تُقَبِّسْهُ إِذْ تَرَاهُ}
’’تو صلیب کا یہ تختہ حقیقت میں ملعون ہے؛ اسے روند دو، دیکھ کر چومنے نہ لگو!‘‘

{يُهَانُ عَلَيْهِ رَبُّ الْخَلْقِ طُرًّا * وَتَعْبُدُهُ، فَإِنَّكَ مِنْ عَدَاهُ؟}
’’اسی صلیب  پر پوری مخلوق کا رب ذلیل کیا گیا، اور تم پھر بھی اسے پوجتے ہو؟ تم تو رب کے دشمنوں  میں شامل ہو!‘‘

{فَإِنْ عَظَّمْتَهُ مِنْ أَجْلِ أَنْ * قَدْ حَوَى رَبَّ الْعِبَادِ وَقَدْ عَلَاهُ}
’’اگر تم اسے اس لیے عظمت دیتے ہو کہ اس نے ’رب‘ کو اٹھایا ہوا تھا۔‘‘

{وَقَدْ فُقِدَ الصَّلِيبُ، فَإِنْ رَأَيْنَا * لَهُ شَكْلًا تُذَكِّرْنَا سَنَاهُ}
’’تو جب صلیب ہی گم ہو گئی، تو کیا صرف اس کی شکل دیکھ کر تمہیں اس کی یاد آتی ہے؟‘‘

{فَهَلَّا لِلْقُبُورِ سَجَدْتَ طُرًّا * لِضَمِّ الْقَبْرِ رَبَّكَ فِي حِشَاهُ؟}
’’پھر تم سب قبروں کو بھی سجدہ کیوں نہیں کرتے، جنہوں نے تمہارے ’رب‘ کو اپنے اندر سمو لیا ہوا ہے؟‘‘

{فَيَا عَبْدَ الْمَسِيحِ أَفِقْ فَهَذَا * بَدَايَتُهُ وَهَذَا مُنْتَهَاهُ }
’’اے مسیح کے بندے! ہوش میں آ—یہی اس عقیدے کی ابتدا ہے اور یہی اس کی انتہا! ‘‘

ماخوذ از: " إغاثة اللهفان " ( 2 / 291 )

حوالہ جات

ربوبیت

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android