’’ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت جائز نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان سے مرد مراد ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو سکھاتے تھے کہ جب وہ قبروں کی زیارت کریں تو یوں کہیں: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ . نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ ’’اے اہلِ قبور! تم پر سلامتی ہو، اے مومنوں اور مسلمانوں کے گھر والو! اور ہم بھی اگر اللہ نے چاہا تو تم سے آ ملنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔‘‘
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ ’’اللہ ہم میں سے پہلے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم فرمائے۔‘‘ البتہ عورتوں کو اس سے منع کیا گیا ہے۔
احادیث میں قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، لہٰذا ان کے لیے قبروں کی زیارت جائز نہیں۔ البتہ وہ اپنے فوت شدگان کے لیے قبرستان میں جائے بغیر اپنے گھروں میں رہتے ہوئے مغفرت، رحمت، جنت میں داخلے اور جہنم سے نجات کی دعا کر سکتی ہیں ۔
اسی طرح ان کے لیے اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ وہ مسجد یا عیدگاہ میں نمازِ جنازہ میں شریک ہوں؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور صحابہ کرام کے عہد میں عورتیں نمازِ جنازہ میں شریک ہوتی تھیں۔
البتہ نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ سے منع فرمایا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، نسب میں طعن کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا، اور میت پر نوحہ کرنا۔)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ’’نوحہ کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر آتش گیر مادے کا لباس اور خارش کا کرتا ہو گا۔‘‘ صحیح مسلم
تو ان احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کے قابلِ مذمت اعمال میں سے ہے، لہٰذا اسے چھوڑنا واجب ہے۔
اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت یہ عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔‘‘
اور امام ابو داود رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے: ’’نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی پر لعنت فرمائی۔‘‘ اگرچہ اس حدیث کی سند میں ضعف ہے، لیکن اس کا معنی دیگر شواہد سے ثابت ہے؛ کیونکہ نوحہ حرام اور بد ترین عمل ہے، اس لیے نہ عورت کے لیے جائز ہے کہ نوحہ کرے اور نہ مرد کے لیے۔
نوحہ سے مراد یہ ہے کہ انسان روتے ہوئے آواز بلند کرے، مثلاً اس طرح کے کلمات کہے: ’’ہائے میرے سہارے!‘‘، ’’ہائے مجھے لباس پہنانے والے!‘‘، ’’ہائے میرا دل جل گیا!‘‘ اور اس طرح چیخ چیخ کر بین کرے—یہ سب نوحہ میں داخل ہے۔
اور "سننے والی " سے مراد وہ عورت ہے جو نوحہ کرنے والیوں کی باتیں سنتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے؛ یعنی ان کے ساتھ بیٹھتی ہے، ان کا نوحہ سنتی ہے اور انہیں اس پر ابھارتی ہے۔ یہ بھی اسی وعید میں داخل ہے؛ کیونکہ اس کا بیٹھنا ایک طرح کی تائید اور حوصلہ افزائی ہے۔
لہٰذا اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ نوحہ سنے، بلکہ اگر نوحہ کرنے والی باز نہ آئے تو اس سے الگ ہو جانا واجب ہے اور اس کے پاس نہ بیٹھے؛ تاکہ یہ اس کے لیے بائیکاٹ بھی ہو اور اس برائی کا انکار بھی۔ کیونکہ اگر وہ بیٹھ کر سنتی رہے تو یہ ایک طرح کی مدد اور حوصلہ افزائی شمار ہو گی۔
چنانچہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ نوحہ کرنے والی کی بات سنے، بلکہ اسے منع کرے اور روکے؛ اگر وہ باز نہ آئے تو اسے چھوڑ دے اور اس کے ساتھ بیٹھ کر نہ سنے۔ ‘‘ ختم شد