اہل کتاب یہودی یا نصرانی کے ذبیحہ کا حکم جب وہ ذبح کے وقت ’’باپ، بیٹے اور روحِ القدس کے نام پر‘‘ ذبح کرے۔

سوال 174514

میں نے آپ کا وہ فتویٰ پڑھا ہے جو اہلِ کتاب کی ذبائح کے کھانے سے متعلق ہے، لیکن یہاں ایتھوپیا میں صورتحال کچھ مختلف ہے، لہٰذا میں مزید وضاحت چاہتا ہوں۔
آپ نے بیان کیا ہے کہ اہلِ کتاب کی ذبیحہ حلال ہے بشرطیکہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ پھر ایک اور فتویٰ میں آپ نے ذکر کیا کہ اگر ذبح کرنے والا مسلمان یا کتابی ہو تو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ اس نے اللہ کا نام لیا یا نہیں۔جبکہ یہاں ایتھوپیا — جہاں اکثریت نصاریٰ کی ہے — ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ ذبح کرتے وقت کہتے ہیں: ’’باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام پر‘‘ اور ’’باپ‘‘ سے وہ الٰہ کو مراد لیتے ہیں۔ تو کیا ایسی صورت میں بھی ان کے ذبیحہ کو صحیح سمجھا جا سکتا ہے، اور اسے ’’اللہ کا نام لیا جانے والا‘‘ ذبیحہ قرار دے کر کھانا جائز ہو گا؟
یا محض اس بنیاد پر کہ وہ اہلِ کتاب ہیں، اصل حکمِ حلت برقرار رکھا جائے؟ یا پھر بہتر یہ ہے کہ احتیاطاً ان کی ذبیحہ سے بالکل ہی اجتناب کیا جائے؟ براہِ کرم تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اہل کتاب یہودی اور عیسائیوں کا ذبیحہ دو شرائط کے ساتھ حلال ہوتا ہے:

پہلی شرط: وہ ذبیحہ اسی طرح کرے جس طرح مسلمان ذبح کرتا ہے، یعنی حلقوم اور مری کو کاٹ دے اور خون بہا دے۔ اگر وہ جانور کو گلا گھونٹ کر، بجلی کا کرنٹ دے کر یا پانی میں ڈبو کر مارے تو اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہو گا۔ اور یہی حکم مسلمان کے بارے میں بھی ہے، اگر مسلمان بھی ایسا کرے تو اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہو گا۔

دوسری شرط: وہ اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام نہ لے، جیسے مسیح کا نام وغیرہ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ’’اور تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو‘‘(الأنعام: 121)۔ اور اللہ تعالیٰ نے حرام چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ’’اس نے تم پر حرام کر دیا مردار، خون، سور کا گوشت، اور وہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو‘‘) (البقرة: 173)۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد وہ ہے جس پر ذبح کے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے، مثلاً یہ کہے: ’’ مسیح کے نام پر‘‘ یا ’’ محمد کے نام پر‘‘ یا ’’ جبریل کے نام پر‘‘ یا ’’ ستو شاہ کے نام پر‘‘ وغیرہ۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (تفسير سورة البقرة)

’’فتاویٰ اللجنة الدائمة‘‘ (22/387) میں ہے:
’’اہلِ کتاب کے ذبیحے کھانے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ ’’اور اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے‘‘۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت میں مذکور لفظ ’طعام‘ کی تفسیر اہل کتاب کے ذبائح سے کی ہے، جو کہ اس آیت کی دو معروف تفسیرات میں سے ایک ہے۔ کتابی اگر ذبیحہ کرے اور ہمیں معلوم ہو کہ اس نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے تو اسے کھانا جائز ہے۔ اور اگر ہمیں معلوم ہو کہ اس نے غیر اللہ کا نام لیا ہے تو اسے کھانا جائز نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا عمومی فرمان ہے: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ’’اور وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، یقیناً یہ نافرمانی ہے‘‘، اور اللہ تعالیٰ نے محرمات کے تذکرے میں فرمایا: وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ’’اور وہ جس پر اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام پکارا گیا ہو‘‘۔ اور اگر ہمیں معلوم نہ ہو کہ اس نے اللہ کا نام لیا یا نہیں، یا کسی غیر کا نام لیا یا نہیں، تو اصل حکم یہ ہے کہ ان کے ذبیحے حلال ہیں۔‘‘

پس اگر یہ معلوم ہو کہ کتابی ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیتا ہے اور کہتا ہے: ’’باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام پر‘‘ تو اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہو گا؛ کیونکہ یہ اس ذبیحہ میں شامل ہے جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
اور اس بات کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے کہ وہ ’’باپ‘‘ سے اللہ کو مراد لیتا ہے، کیونکہ اس کے بعد ’’بیٹا‘‘ اور ’’روح القدس‘‘ کہنا غیر اللہ کے لیے نام لینا ہے۔ جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ یہ ذبیحہ  ’’بیٹے کے نام پر‘‘ اور ’’روح القدس کے نام پر‘‘ بھی ذبح ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں اللہ کا نام لے کر  ذبح کیا گیا جانور بھی حلال نہیں ہو گا۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (3261) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

اہل کتاب کا ذبح کردہ جانور

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android