اہل کتاب یہودی اور عیسائیوں کا ذبیحہ دو شرائط کے ساتھ حلال ہوتا ہے:
پہلی شرط: وہ ذبیحہ اسی طرح کرے جس طرح مسلمان ذبح کرتا ہے، یعنی حلقوم اور مری کو کاٹ دے اور خون بہا دے۔ اگر وہ جانور کو گلا گھونٹ کر، بجلی کا کرنٹ دے کر یا پانی میں ڈبو کر مارے تو اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہو گا۔ اور یہی حکم مسلمان کے بارے میں بھی ہے، اگر مسلمان بھی ایسا کرے تو اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہو گا۔
دوسری شرط: وہ اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام نہ لے، جیسے مسیح کا نام وغیرہ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ’’اور تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو‘‘(الأنعام: 121)۔ اور اللہ تعالیٰ نے حرام چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ’’اس نے تم پر حرام کر دیا مردار، خون، سور کا گوشت، اور وہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو‘‘) (البقرة: 173)۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد وہ ہے جس پر ذبح کے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے، مثلاً یہ کہے: ’’ مسیح کے نام پر‘‘ یا ’’ محمد کے نام پر‘‘ یا ’’ جبریل کے نام پر‘‘ یا ’’ ستو شاہ کے نام پر‘‘ وغیرہ۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (تفسير سورة البقرة)
’’فتاویٰ اللجنة الدائمة‘‘ (22/387) میں ہے:
’’اہلِ کتاب کے ذبیحے کھانے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ ’’اور اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے‘‘۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت میں مذکور لفظ ’طعام‘ کی تفسیر اہل کتاب کے ذبائح سے کی ہے، جو کہ اس آیت کی دو معروف تفسیرات میں سے ایک ہے۔ کتابی اگر ذبیحہ کرے اور ہمیں معلوم ہو کہ اس نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے تو اسے کھانا جائز ہے۔ اور اگر ہمیں معلوم ہو کہ اس نے غیر اللہ کا نام لیا ہے تو اسے کھانا جائز نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا عمومی فرمان ہے: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ’’اور وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، یقیناً یہ نافرمانی ہے‘‘، اور اللہ تعالیٰ نے محرمات کے تذکرے میں فرمایا: وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ’’اور وہ جس پر اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام پکارا گیا ہو‘‘۔ اور اگر ہمیں معلوم نہ ہو کہ اس نے اللہ کا نام لیا یا نہیں، یا کسی غیر کا نام لیا یا نہیں، تو اصل حکم یہ ہے کہ ان کے ذبیحے حلال ہیں۔‘‘
پس اگر یہ معلوم ہو کہ کتابی ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیتا ہے اور کہتا ہے: ’’باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام پر‘‘ تو اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہو گا؛ کیونکہ یہ اس ذبیحہ میں شامل ہے جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
اور اس بات کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے کہ وہ ’’باپ‘‘ سے اللہ کو مراد لیتا ہے، کیونکہ اس کے بعد ’’بیٹا‘‘ اور ’’روح القدس‘‘ کہنا غیر اللہ کے لیے نام لینا ہے۔ جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ یہ ذبیحہ ’’بیٹے کے نام پر‘‘ اور ’’روح القدس کے نام پر‘‘ بھی ذبح ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا جانور بھی حلال نہیں ہو گا۔
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (3261) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم