اول:
امام ابن ماجہ اپنی سنن: (4250) میں، امام طبرانی اپنی کتاب: معجم الکبیر: (10281) میں، امام ابو نعیم " حلية الأولياء " (4/210) میں اور امام بیہقی "سنن الکبری" (20561) میں ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (گناہ سے تائب شخص ایسے ہی ہے جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں) اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں، البتہ ابو عبیدہ نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا، اس لیے یہ روایت منقطع ہے، تفصیل کے لیے دیکھیں: "التهذيب" (5/65)
تاہم اس روایت کے شواہد کی وجہ سے یہ روایت ثابت ہے، چنانچہ کچھ اہل علم نے اسے حسن قرار دیا ہے اور کچھ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
جیسے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری: (13/471) میں کہتے ہیں: "اس حدیث کی سند حسن ہے۔"
اسی طرح علامہ ابن مفلح رحمہ اللہ "الآداب الشرعية " (1/ 87) میں کہتے ہیں: "اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔"
علامہ سخاوی رحمہ اللہ " المقاصد الحسنة " (ص249) میں کہتے ہیں: "اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، بلکہ اسے ہمارے شیخ نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔"
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اسے " الجامع الصغير " (3386) میں حسن قرار دیا ہے اور اسی طرح علامہ البانیؒ نے "صحيح الجامع" (3008)، میں حسن قرار دیا، جبکہ ابن باز رحمہ اللہ نے اسے " مجموع الفتاوى " (10/314) میں صحیح قرار دیا ہے۔
اس روایت کا ایک شاہد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان : (6640) میں روایت کیا ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
اسی طرح ایک اور شاہد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان : (6780)میں روایت کیا ہے لیکن اس کی سند سخت ضعیف ہے۔
اور چوتھا شاہد سیدنا ابو سعد انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے علامہ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (13/398) میں اور امام طبرانی نے " المعجم الكبير " (775) میں بیان کیا ہے لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
دوم:
اس حدیث کی بعض سندوں میں کچھ اضافی الفاظ بھی منقول ہوئے ہیں، مثلاً: ایک روایت میں ہے کہ: (گناہ سے تائب شخص ایسے ہی ہے جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں، اور جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرنے لگے تو اسے کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔) تو یہ اضافی الفاظ ضعیف ہیں۔
تفصیلات کے لیے دیکھیں: سلسلہ احادیث ضعیفہ : (615)
ایک اور روایت میں اضافی الفاظ کچھ یوں ہیں کہ: (گناہ سے تائب شخص ایسے ہی ہے جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں، گناہ پر قائم رہتے ہوئے گناہ سے توبہ کرنے والا اپنے رب سے مذاق کرنے والے کی طرح ہے، اور اگر کوئی کسی مسلمان کو تکلیف دے تو اس پر کھجوروں کے درختوں کے برابر گناہ ہو گا۔) تو یہ اضافی جملے بھی ضعیف ہیں۔
تفصیلات کے لیے دیکھیں: سلسلہ احادیث ضعیفہ : (616)
اسی طرح ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ: (موت غنیمت ہے۔ نافرمانی مصیبت ہے۔ غربت راحت ہے جبکہ مالداری عقوبت ہے۔ عقل اللہ تعالی کی طرف سے تحفہ ہے جبکہ جہالت ضلالت ہے۔ ظلم ندامت ہے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک اطاعت ہے۔ اللہ کی خشیت سے رونا آگ سے نجات ہے، کھل کھلا کر ہنسنا جسم کے لیے تباہی ہے۔ گناہ سے تائب شخص ایسے ہی ہے جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں) تو یہ اضافی سارے جملے سخت قسم کے ضعیف ہیں۔
تفصیلات کے لیے دیکھیں: سلسلہ احادیث ضعیفہ : (6526)
جبکہ یہ روایت کہ: (اصل توبہ ندامت ہے، اور گناہ سے تائب شخص ایسے ہی ہے جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں۔) یہ روایت صحیح ثابت ہے، اس کی تفصیلات کے لیے آپ صحیح الجامع الصغیر: (6803) کا مطالعہ کریں۔
سوم:
اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ: بندہ جس وقت گناہ کر لے اور پھر اس گناہ سے سچی توبہ کرتے ہوئے اس گناہ کو ترک کر دے، اپنے کیے ہوئے گناہ پر نادم ہو، اللہ تعالی سے بخشش مانگے، اور آئندہ وہ گناہ نہ کرے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرما کر اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کی برائیوں کو بدل کر نیکیاں بنا دیتا ہے، اللہ تعالی ایسے شخص سے محبت فرمانے لگتا ہے اور اسے اپنے متقی بندوں میں شامل فرما لیتا ہے؛ کیونکہ یہ شخص اپنے رب اللہ تعالی کی طرف رجوع کر چکا ہے، اور اللہ سے محبت کی بنا پر اللہ والا بن گیا ہے وہ اب وہ اللہ کی رضا کا متلاشی ہے، اور اللہ تعالی سے ڈرنے والا بن گیا ہے، یہ تمام خوبیاں متقین لوگوں کی ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
" گناہ سے تائب شخص ایسے ہی ہے جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں ، تو جب گناہ ہی مٹ گیا تو اس گناہ کی وجہ سے ملنے والی سزا بھی ختم اور گناہ کے دیگر تمام اثرات بھی ختم۔" ختم شد
"شرح العمدة" (4/39)
آپ رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں:
" گناہ سے تائب شخص ایسے ہی ہے جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں ، یہ شخص ان لوگوں میں شامل ہو چکا ہے جو تقوی الہی اپناتے ہیں ، جس کے نتیجے میں یہ شخص اس بات کا مستحق بن جاتا ہے کہ اللہ تعالی اس کے لیے ہر سمت کشادگی اور آسانی بنا دے؛ تو چونکہ ہمارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نبی رحمت اور نبی ملحمہ ہیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت میں ہر توبہ تائب ہونے والے شخص کے لیے بڑی ہی کشادگی ہے؛ جبکہ ہم سے پہلے کی شریعتوں میں توبہ کرنے والے شخص کو توبہ کرنے پر بھی مختلف سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اور یہ سزائیں اپنے آپ کے قتل کرنے تک بھی ہوتی تھیں۔" ختم شد
"مجموع الفتاوى" (33/ 35)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مزید بر آں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے گناہ سے تائب شخص کو ایسے بنا دیا جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں ؛ لہذا اگر کوئی شخص سچی توبہ تائب ہونے کے بعد اللہ تعالی سے ملے گا تو اللہ تعالی توبہ شدہ گناہ کی سزا نہیں دے گا، یہی معاملہ دنیاوی احکامات میں بھی ہے کہ اگر کوئی شخص سرکار تک معاملہ جانے سے پہلے توبہ تائب ہو جائے تو علمائے کرام کے صحیح ترین موقف کے مطابق اس سے حد ساقط ہو جائے گی، لیکن اگر اس کا معاملہ سرکار تک پہنچ جائے تو پھر توبہ کی وجہ سے اس کی حد ساقط نہیں ہو گی، تا کہ لوگ اس چیز کو حدود اللہ معطل کرنے کا ذریعہ نہ بنا لیں۔" ختم شد
"إعلام الموقعين" (3/ 115)
آپ رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں:
"اللہ تعالی نے توبہ تائب ہونے والے مشرک، قاتل اور زانی کے لیے ضمانت دی ہے کہ اللہ تعالی اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ یہ حکم کسی بھی قسم کے گناہ کے لیے عام ہے۔
جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
ترجمہ: کہہ دے: اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے میرے بندو! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، یقیناً اللہ تعالی سارے کے سارے گناہ معاف کرنے والا ہے، یقیناً وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [الزمر: 53]
تو اس عموم سے کوئی ایک گناہ بھی خارج نہیں کیا جائے گا، تاہم یہ خصوصیت صرف توبہ کرنے والوں کے لیے مختص ہے۔" ختم شد
"الجواب الكافي" (ص: 165)
آپ رحمہ اللہ ایک اور مقام پر کہتے ہیں:
"گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کا کوئی گناہ ہے ہی نہیں، تو جب گناہ کا اثر توبہ کی وجہ سے مٹا دیا گیا تو گناہ کا وجود کالعدم ہو گیا ؛ بالکل ایسے ہی جیسے تھا ہی نہیں۔" ختم شد
"طريق الهجرتين" (ص: 231)
علامہ علی القاری کہتے ہیں:
"واضح رہے کہ جب توبہ اپنی معتبر شرائط کے ساتھ ہو تو توبہ کے قبول ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں، اور اس پر مغفرت بھی یقینی طور پر ملے گی؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ: وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ترجمہ: اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔[الشوری: 25] اور اللہ تعالی کی دی ہوئی خبر جھوٹی نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالی وعدہ خلافی بھی نہیں فرماتا۔" ختم شد
"مرقاة المفاتيح" (4/ 1637)
سوم:
حدیث کی قسم "حسن" کی تعریف، اقسام اور اس کو قابل حجت بنانے کے متعلق علمائے کرام کا موقف جاننے کے لیے سوال نمبر: (196606) کا مطالعہ کریں۔
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (47748) اور (79163) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم