خریدار یا فروخت کنندہ کی غیر موجودگی میں مجلسِ عقد کا حکم

سوال 217432

اگر لین دین کرنے والے دو فریقوں میں سے ایک مجلسِ عقد میں موجود نہ ہو تو مجلسِ عقد کا کیا حکم ہوگا؟ مثلاً انٹرنیٹ پر کوئی چیز فروخت کے لیے پیش کی جائے، پھر خریدار اسے خرید لے، جبکہ فروخت کنندہ مجلسِ عقد میں موجود نہ ہو۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

شریعت نے خریدار اور فروخت کنندہ، دونوں کو یہ حق دیا ہے کہ جب تک وہ اس مجلس میں موجود ہوں جس میں سودا ہوا ہے، دوسرے فریق کی رضامندی کے بغیر سودا ختم کر سکتے ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو سودا لازم ہو جاتا ہے، اور پھر اسے باہمی رضامندی یا کسی ایسی وجہ ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے جو اسے ختم کرنے کا جواز فراہم کرے، مثلاً خریدی ہوئی چیز میں عیب ہو۔

چنانچہ امام بخاری، حدیث نمبر: (2112)، اور امام مسلم، حدیث نمبر: (1521)، نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب دو آدمی خرید و فروخت کریں تو دونوں کو اس وقت تک سودا ختم کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں اور اکٹھے موجود ہوں۔ یا ان میں سے ایک دوسرے کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے، پھر دونوں اسی بنیاد پر سودا کر لیں تو سودا لازم ہو جاتا ہے۔ اور اگر سودا کرنے کے بعد دونوں جدا ہو جائیں اور ان میں سے کسی نے سودا ختم نہ کیا ہو تو سودا لازم ہو جاتا ہے۔)

اگر معاملہ کرنے والے دو فریقوں میں سے ایک مجلس میں موجود نہ ہو، مثلاً فروخت کنندہ خریدار کو پیغام بھیجے کہ میں نے اپنی گاڑی تمہیں اتنی قیمت میں فروخت کر دی، پھر خریدار کو پیغام ملے اور وہ اسے قبول کر لے تو بیع درست ہے۔ خریدار کو اس وقت تک سودا ختم کرنے کا اختیار ہوگا جب تک وہ اس مجلس میں موجود ہے جس میں اسے پیغام ملا اور اس نے سودا قبول کیا۔

’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘ ‏(30/217–218) میں ہے:

’’جس طرح ایک جگہ موجود دو فریقوں کے درمیان زبانی ایجاب و قبول سے عقد درست طور پر منعقد ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک دوسرے سے دور موجود دو فریقوں کے درمیان تحریر، پیغام رساں بھیجنے یا اس جیسے کسی اور ذریعے سے بھی عقد درست طور پر منعقد ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص دوسرے کو لکھے کہ میں نے اپنا گھر تمہیں اتنی قیمت میں فروخت کر دیا، پھر اسے خط پہنچے اور وہ قبول کر لے تو عقد منعقد ہو جاتا ہے۔

فقہائے کرام کی عبارتوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے ایک جگہ موجود نہ ہونے کی صورت میں مجلسِ عقد وہ مجلس ہے جس میں خط یا پیغام وصول کرنے والا اسے قبول کرے۔‘‘ ختم شد

اس بنا پر انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری میں خریدار کو اس وقت تک سودا ختم کرنے کا اختیار حاصل رہتا ہے جب تک وہ اس مجلس میں موجود ہے جس میں اس نے سودا قبول کیا۔

جبکہ بعض علمائے کرام نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اگر بیع اس طریقے سے ہو اور خریدار و فروخت کنندہ ایک مجلس میں جمع نہ ہوں تو ایسی صورت میں خیارِ مجلس حاصل نہیں ہوتا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (جب دو آدمی خرید و فروخت کریں تو دونوں کو اس وقت تک سودا ختم کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں اور اکٹھے موجود ہوں۔) میں لفظ ’’ما‘‘ مصدریہ ظرفیہ ہے، اس لیے اس کا معنی یہ ہو گا کہ: جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ اور آپ کا فرمان: (’’اور اکٹھے موجود ہوں۔‘‘) جدا نہ ہونے کی تاکید ہے۔ اس سے ایک فائدہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر دو آدمی فون پر خرید و فروخت کریں تو اس صورت میں خیارِ مجلس نہیں ہوگا۔ جونہی ایک کہے: میں نے فروخت کیا، اور دوسرا کہے: میں نے خرید لیا، سودا لازم ہو جائے گا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الشرح الممتع‘‘ ‏(8/262)

اگر انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری میں قبول کرنے کے بعد رجوع کی گنجائش نہ ہو، یا فروخت کنندہ نے یہی شرط رکھی ہو تو اس صورت میں خیارِ مجلس ساقط ہو جاتا ہے اور خریدار کے قبول کرتے ہی سودا لازم ہو جاتا ہے۔ پھر وہ کسی جائز وجہ کے بغیر سودا ختم نہیں کر سکتا؛ کیونکہ اگر خریدار یا فروخت کنندہ میں سے کوئی یہ شرط رکھے کہ خیارِ مجلس نہیں ہو گا اور دوسرا فریق اس سے اتفاق کر لے تو خیارِ مجلس ساقط ہو جاتا ہے۔ دیکھیے: ’’المغنی‘‘ ‏(6/15–16)۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

خرید و فروخت

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play