اول:
اگر مسافر کو اپنے امام کے بارے میں شک ہو کہ وہ مسافر ہے یا مقیم؟ تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
پہلی صورت:
کوئی قرینہ موجود ہو جو اس بات پر دلالت کرے کہ امام بھی مسافر ہے، جیسے:
– وہ مسجدیں جو شاہراہوں پر واقع ہوتی ہیں،
– ہوائی اڈوں کی مساجد،
– امام کی ظاہری حالت یا اس کا سامان جو اس کے سفر میں ہونے کی علامت ہو۔
ایسی صورت میں مسافر کے لیے جائز ہے کہ ان قرائن کی بنیاد پر قصر کی نیت کرے۔
دوسری صورت:
اگر کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو امام کے مسافر ہونے پر دلالت کرے، تو ایسی حالت میں مسافر کو لازم ہے کہ وہ اس امام کے پیچھے پوری نماز پڑھے۔
’’الموسوعة الفقهية‘‘ (29/187) میں ہے:
’’حنابلہ نے ذکر کیا ہے کہ جو شخص ایسے امام کے ساتھ نماز شروع کرے جسے وہ مقیم سمجھتا ہو، یا اس بارے میں شک ہو، تو اس پر نماز پوری کرنا لازم ہے، چاہے امام نے قصر ہی کیوں نہ کی ہو؛ کیونکہ اعتبار نیت کا ہوتا ہے۔ اور اگر اس کے گمان میں کسی دلیل کی وجہ سے امام کے مسافر ہونے کا پہلو غالب ہو، تو وہ قصر کی نیت کر سکتا ہے، اور اپنے امام کی پیروی کرے گا: اگر امام قصر کرے تو وہ بھی کرے گا، اور اگر امام پوری پڑھائے تو وہ بھی پوری پڑھے گا۔‘‘ ختم۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
’’اگر میں مسجد میں آؤں اور امام کو آخری تشہد میں پاؤں، اور اسی حالت میں میں شامل ہو جاؤں، پھر وہ سلام پھیر دے، اور مجھے معلوم نہ ہو کہ اس نے چار رکعت پوری پڑھی ہیں یا قصر کیا ہے، تو کیا حکم ہے؟‘‘
آپ رحمہ اللہ نے جواب فرمایا:
’’اس حالت میں ظاہر حال کو دیکھا جائے گا، کیونکہ ایسا بعض مساجد میں ہوتا ہے: آدمی راستے میں کسی مسجد سے گزرتا ہے اور دیکھتا ہے لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، یا ہوائی اڈے میں لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھتا ہے، تو اسے شک ہوتا ہے کہ یہ مقیم ہیں یا مسافر۔ تو ظاہر حال کو دیکھا جائے گا: اگر اس شخص کا ظاہر بتاتا ہو کہ وہ مسافر ہے، مثلاً اس کا بیگ سامنے ہو، یا وہ سفر کے کپڑوں میں ہو، تو اسے مسافر ہی سمجھا جائے گا۔ اور اگر کوئی چیز راجح نہ ہو، تو نماز پوری کرے، کیونکہ اصل نماز پوری کرنا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’لقاء الباب المفتوح‘‘ از ابن عثیمین۔
لہٰذا
آپ نے جو نماز قصر کی حالت میں پڑھی جبکہ آپ کو امام کے بارے میں علم نہیں تھا کہ اس نے قصر کیا تھا یا نہیں، تو احتیاط اسی میں ہے کہ آپ اس نماز کو اب چار رکعت مکمل ادا کر کے دوبارہ پڑھیں، الا یہ کہ کوئی قرینہ ہو جو امام کے مسافر ہونے پر دلالت کرتا ہو، ایسی صورت میں آپ کی نماز صحیح ہے۔
دوم:
سوال نمبر (136938) کے جواب میں گزر چکا ہے کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ مغرب پڑھنے والے امام کے پیچھے عشاء کی نماز قصر یعنی دو رکعت پڑھ لے، اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ عشاء کی نماز پوری چار رکعت ادا کرے۔
واللہ اعلم