ایک مہینے میں دو مرتبہ حیض آ جانا، اور دونوں حیضوں کی مجموعی مدت پندرہ دن سے زیادہ ہونا۔

سوال 221997

میری والدہ کو حیض آیا، پھر وہ اپنی معمول کے مطابق سات دن بعد پاک ہو گئیں، اس کے بعد ایک ہفتہ گزرنے پر دوبارہ حیض آ گیا۔ تو کیا یہ دوسرا خون بھی حیض شمار ہو گا؟ اور کیا اس حالت میں وہ نماز اور روزہ ادا کریں گی؟ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ وہ مانع (حمل روکنے کا ذریعہ) استعمال کرتی ہیں، اور ان کی عمر تقریباً اڑتالیس سال ہو چکی ہے۔ اور کیا وہ دونوں حیضوں کی پوری مدت میں نماز نہیں پڑھیں گی، چاہے مجموعی مدت پندرہ دن سے تجاوز کر جائے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اہلِ علم رحمہم اللہ کے درمیان دو حیضوں کے درمیان کم از کم طُہر کی مدت متعین کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ دو حیضوں کے درمیان طُہر کی کم از کم کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ لہٰذا عورت کو جب بھی پچھلے حیض کے بعد دوبارہ حیض آ جائے، تو وہ حیض ہی شمار ہو گا، خواہ دونوں حیضوں کے درمیان مدت طویل ہو یا مختصر۔

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر: (37828) اور (20898) کے جوابات دیکھے جا سکتے ہیں۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ دو حیضوں کے درمیان کم از کم طُہر کی مدت بعض کے نزدیک تیرہ دن ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ اس کی کوئی حد مقرر نہیں، جیسے اس کی زیادہ سے زیادہ مدت کی بھی کوئی حد نہیں۔ اور یہی قول صحیح ہے۔
چنانچہ اس صحیح قول کی بنا پر یہ ممکن ہے کہ عورت کو ایک ہی مہینے میں دو مرتبہ حیض آ جائے، لیکن عورت پر لازم ہے کہ وہ حیض کے خون کو پہچانے؛ کیونکہ حیض کا خون ہی حیض ہوتا ہے، جبکہ کسی اور رنگت کا حامل ہلکا، زردی مائل اور پتلا خون، تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہوتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتاویٰ نور على الدرب لابن عثیمین

مزید فائدے کے لیے سوال نمبر: (5595) کا جواب بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

اس بنا پر آپ کی والدہ کو ایک ہفتے بعد جو خون آیا، اگر وہ حیض کے خون کی صفات رکھتا ہے، تو وہ حیض ہی شمار ہو گا۔

اور ایک ہی مہینے میں آنے والے دونوں حیضوں کی مجموعی مدت اگر پندرہ دن سے زیادہ ہو جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بعض عورتیں ایسی بھی پائی گئی ہیں جنہیں ہر مہینے سولہ یا سترہ دن حیض آتا ہے، اور یہ ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’حیض کی نہ کم از کم کوئی حد ہے اور نہ زیادہ سے زیادہ۔ بلکہ عورت جو چیز اپنی مستقل عادت کے طور پر دیکھے، وہی حیض ہے۔ اگر بالفرض وہ ایک دن سے کم ہو، اور اس پر اس کی عادت جاری رہے، تو وہ حیض ہے؛ اور اگر اس کی مدت سترہ دن ہو، اور وہ اسی پر قائم رہے، تو وہ بھی حیض ہے۔
البتہ اگر عورت کو ہمیشہ مسلسل خون آتا رہے، تو اس میں واضح ہے کہ یہ حیض نہیں، کیونکہ شریعت اور لغت دونوں سے یہ بات ثابت ہے کہ عورت کبھی پاک ہوتی ہے اور کبھی حائض، اور اس کی طہارت کے الگ احکام ہیں اور حیض کے الگ احکام ہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع الفتاویٰ (19/237)

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’مصنف کا کہنا کہ: (اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے۔) یعنی حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت، یہ ایک موقف ہے۔ اور انہوں نے اس کے لیے دلیل خواتین کی عمومی عادت کو بنایا ہے، کہ عام عادت یہ ہے کہ عورت کا حیض پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ نیز اس لیے بھی کہ اگر اس مدت سے بڑھ جائے تو مہینے کا زیادہ حصہ اسی میں گزر جاتا ہے، اور یہ ممکن نہیں کہ طُہر کا زمانہ حیض کے زمانے سے کم ہو۔
چنانچہ اگر حیض سولہ دن ہو تو طُہر چودہ دن رہ جاتا ہے، اور یہ ممکن نہیں کہ حیض طُہر سے زیادہ ہو ۔۔۔
لیکن اس مسئلے میں صحیح بات یہ بھی ہے کہ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت کی کوئی حد مقرر نہیں۔ کیونکہ بعض عورتوں کی مستقل عادت سترہ دن یا سولہ دن بھی پائی گئی ہے۔ تو آخر کس بنیاد پر یہ کہا جائے کہ پندرھویں دن غروبِ آفتاب سے پہلے آنے والا خون حیض ہے، اور غروب کے ایک منٹ بعد آنے والا خون استحاضہ ہے، حالانکہ اس کی نوعیت، رنگ اور مقدار سب ایک ہی ہے؟ پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ صرف ایک یا دو منٹ گزرنے سے خون حیض سے استحاضہ میں بدل گیا، بغیر کسی دلیل کے؟ اگر اس بات پر کوئی دلیل ہوتی تو ہم اسے تسلیم کر لیتے۔
لہٰذا اگر کسی عورت کی مستقل اور برقرار عادت مثلاً سترہ دن کی ہو، تو ہم کہیں گے کہ یہ پورا حیض ہی ہے۔
البتہ اگر خون پورا مہینہ جاری رہے، یا بہت تھوڑے وقت کے لیے منقطع ہو، جیسے ایک یا دو دن، یا پورے مہینے میں کبھی چند گھنٹوں کے لیے آئے اور چند گھنٹوں کے لیے پاکی ہو جائے، تو ایسی عورت مستحاضہ ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الشرح الممتع (1/471–472)

واللہ اعلم

حوالہ جات

حیض اور نفاس

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android