اتوار 19 ذو القعدہ 1440 - 21 جولائی 2019
اردو

میاں بیوی کے پاس مال ہے، تو کیا خاوند اپنے والد اور بھائیوں کو زکاۃ دے سکتا ہے؟

222731

تاریخ اشاعت : 22-11-2015

مشاہدات : 1030

سوال

سوال: میں اور میری بیوی نے کچھ رقم اکٹھی جمع کی ہے اور اس پر زکاۃ واجب ہو رہی ہے، تو کیا میرے والد کو میری بیوی اپنے حصے کی زکاۃ دے سکتی ہے؟ واضح رہے کہ میرے والد ملازمت پیشہ ہیں اور مقروض بھی ہیں، ان کا مکان کرائے پر ہے، تنخواہ بہت تھوڑی ہے، کنبہ میری والدہ سمیت میرے چار بھائی اور ایک پھوپھی پر مشتمل ہے، ان سب کی کفالت میرے والد کے ذمہ ہے۔
تو ہم اپنے مال کی زکاۃ صرف اپنے غیر شادی شدہ بالغ بھائیوں کو دے سکتے ہیں، میرے والد ان کے کھانے پینے کا بند و بست کرتے ہیں، بقیہ ضرورت کی اشیاء پوری کرنے کیلئے ہم زکاۃ دینا چاہتے ہیں، اسی طرح کیا میں اپنے چھوٹے بھائی کو شادی کیلئے زکاۃ دے سکتا ہوں؟ واضح رہے کہ اس کی عمر 33 سال ہے اور بے روز گار بھی ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اگر دو افراد رقوم یا تجارت میں شراکت داری رکھیں تو ان میں سے ہر ایک کے ذمہ اپنے مال میں سے زکاۃ لازم ہوگی، چنانچہ جس کا حصہ زکاۃ کے نصاب کو مکمل کرتا ہو تو وہ اپنے مال کی زکاۃ اد اکر دے، اور جس کا حصہ نصاب کے برابر نہ ہو تو اس پر زکاۃ نہیں ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کوئی سونا، چاندی، سامانِ تجارت، کھیتی اور پھلوں کو ایک دوسرے کے حصے میں ملا دیں تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا، چنانچہ ہر ایک کے لئےدوسرے سے الگ رکھتے ہوئے زکاۃ کا حساب الگ سے لگایا جائے گا، یہی موقف اکثر اہل علم کا ہے" انتہی
" المغنی " (2/255)

دوم:

آپ کے بھائی اور والد کو آپ کی بیوی کے مال کی زکاۃ دی جاسکتی ہے، کیونکہ آپ کی بیوی پر ان کا خرچہ لازمی نہیں ہے، اسی طرح آپ صرف اپنے بھائیوں کو ضروریات پوری کرنے کیلئے یا شادی کیلئے زکاۃ دے سکتے ہیں، کیونکہ والد کی موجودگی میں آپ پر ان کا خرچ لازمی نہیں ہے، اسی طرح آپ اپنے والد کا صرف قرض چکانے کیلئے زکاۃ دے سکتے ہیں۔

جبکہ والد کو ان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے  امداد دینے کے بارے میں کچھ تفصیل ہے کہ اگر آپ کے پاس موجود مال آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی ضروریات سے اتنا زیادہ ہے کہ والد کو کفایت کر سکتا ہے  تو آپ اپنے والد کو زکاۃ مت دیں بلکہ زکاۃ سے ہٹ کر ان کا تعاون کریں، اور اگر آپ کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو پھر آپ انہیں اپنی زکاۃ دے سکتے ہیں۔

پہلے اس مسئلے کا تفصیلی بیان سوال نمبر: (105789) ، (21810) اور (21975) کے جوابات میں گزر چکا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں