اول:
بخاری (حدیث: 5727) اور مسلم (حدیث: 2560) نے حضرت ابوأیوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلقی رکھے۔ جب وہ دونوں ملیں تو ایک اِدھر سے منہ پھیر لے اور دوسرا اُدھر سے، اور ان دونوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔‘‘
اسی طرح ابو داؤد (حدیث: 4914) اور احمد (حدیث: 9092) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے، پس جو شخص تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے اور اسی حالت میں مر جائے، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
حافظ عراقی رحمہ اللہ نے ’’تخریج الإحياء‘‘ (ص 688) میں فرمایا:
’’اسے ابو داؤد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔‘‘
امام نووی رحمہ اللہ نے ’’ریاض الصالحین‘‘ (ص 433) میں فرمایا:
’’اسے ابو داؤد نے ایسی سند سے روایت کیا ہے جو بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔‘‘
علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی ’’صحیح ابو داود‘‘ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
دوم:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق اور جھگڑا رکھنا سخت گناہ اور ممنوع ہے۔ پس جو شخص اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ دوری اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ نہ کرے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے آگ میں عذاب دیا جائے، مگر وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے: اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اور اگر چاہے تو معاف فرما دے۔
البتہ اگر کوئی شخص اس قطع تعلقی کو حلال سمجھ کر کرے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ حرام ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو تسلیم نہیں کرتا تو ایسا شخص دینِ اسلام سے مرتد شمار ہوتا ہے۔
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (9924) کا جواب ملاحظہ کریں۔
علامہ ابن علان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"چنانچہ جس نے تین دن سے زیادہ اپنے (مسلمان) بھائی سے قطع تعلقی رکھی اور اسی حالت پر قائم رہتے ہوئے مر گیا، یعنی اس نے ہجر اور قطع تعلق پر اصرار کیا، تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ اگر وہ اس گناہ پر اصرار کرنے والا عام مسلمان ہے تو اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے دیگر گناہگار موحدین کے ساتھ عذاب دے گا، اور چاہے تو معاف فرما دے گا۔
لیکن اگر اس نے اس قطع تعلقی کو حلال سمجھا، حالانکہ وہ اس کی حرمت کو جانتا ہے اور اس پر اجماع کو بھی جانتا ہے، تو پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا (یعنی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا)۔" ختم شد
ماخوذ از: دلیل الفالحین:(8/435)
علامہ ملا علی القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ (فَمَاتَ) یعنی اگر وہ شخص بغیر توبہ کیے اسی حالت (قطع تعلقی) میں مر گیا، (دَخَلَ النَّارَ) یعنی وہ جہنم میں داخل ہونے کا مستحق ہوا۔ توربشتی نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جہنم میں داخل ہونے کا حق دار بن گیا۔ پس جو شخص گناہ میں مبتلا ہو، وہ سزا کا بھی مستحق ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے: اگر اللہ چاہے تو اسے عذاب دے، اور اگر چاہے تو معاف فرما دے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: عون المعبود: (13/176)
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (21878) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم