مسافر موزوں پر مسح کرنے کے بعد اگر مقیم ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

سوال 229137

مسافر کے لیے اجازت ہے کہ وہ تین دن اور تین رات تک جرابوں یا موزوں پر مسح کرے۔ اگر کوئی شخص سفر میں ہو اور مسح کرتا رہے، لیکن اس مدت کے مکمل ہونے سے پہلے اپنے وطن یا قیام گاہ پر واپس آ جائے، تو کیا وہ مقیم ہونے کی وجہ سے فوراً مسح روک دے یا مسافر کے حساب سے پوری مدت مکمل کر سکتا ہے؟

جواب کا خلاصہ

اگر مسافر نے جرابوں پر مسح کیا اور پھر اپنے وطن واپس آگیا تو اب وہ صرف ایک دن اور ایک رات (یعنی 24 گھنٹے) تک ہی مسح کر سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ اگر اس نے سفر میں ایک دن اور ایک رات سے کم مسح کیا ہے تو اسے باقی وقت تک مسح کرنے کی اجازت ہے تاکہ دن اور رات مکمل ہو جائیں۔ لیکن اگر اس نے سفر میں ایک دن اور ایک رات سے زیادہ مسح کر لیا ہو تو پھر مقیم ہونے کے بعد مزید مسح کی اجازت نہیں۔ البتہ اگر معاملہ اس کے برعکس ہو، یعنی اس نے پہلے مقیم ہونے کی حالت میں مسح کیا اور پھر سفر اختیار کیا تو اب وہ مسافر کے حساب سے مسح مکمل کرے گا، یعنی تین دن اور تین رات تک، اور اس میں وہ وقت بھی شامل ہو گا جو اس نے مقیم کی حالت میں مسح کیا تھا۔

متعلقہ جوابات

جواب کا متن

اس شخص کا حکم س نے حالت سفر میں جرابوں پر مسح کیا اور پھر مقیم ہو گیا:

اگر کوئی شخص مسافر ہو اور جرابوں پر مسح کرے، پھر اپنے وطن یا قیام گاہ  پہنچ جائے تو اب وہ مسافر نہیں رہا بلکہ مقیم ہو گیا ہے۔ اس صورت میں اس کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے)تک مسح کرنا جائز ہے۔ اگر سفر کے دوران اس نے ایک دن اور ایک رات سے کم مسح کیا تھا تو وہ باقی وقت پورا کر سکتا ہے تاکہ دن اور رات مکمل ہو جائیں۔ لیکن اگر اس نے سفر میں ایک دن اور ایک رات یا اس سے زیادہ مسح کیا تھا تو اب مقیم ہونے کے بعد مزید مسح کی اجازت نہیں اور اسے وضو کے وقت موزے اتار کر پاؤں دھونا ہوں گے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ ’’المغنی‘‘ (1/181) میں لکھتے ہیں:
’’اگر مسافر نے ایک دن اور ایک رات سے کم مسح کیا اور پھر مقیم ہو گیا یا اپنے شہر واپس لوٹ آیا تو وہ مقیم کے حساب سے مسح کرے گا اور پھر موزے [یا جرابیں] اتار کر [وضو کر کے پاؤ دھوئے اس کے بعد پھر دوبارہ مسح کی رخصت لے سکتا ہے۔] ۔ اور اگر مسافر نے ایک دن اور ایک رات یا اس سے زیادہ مسح کر لیا اور پھر مقیم ہوا یا اپنے شہر واپس لوٹ آیا تو اسے موزے [یا جرابیں] اتارنی ہوں گی۔ یہی امام شافعی رحمہ اللہ اور اہل الرائے کا قول ہے، اور مجھے اس بارے میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں؛ کیونکہ یہ مسافر شخص اب مقیم ہو گیا ہے، اس لیے اس کے لیے مسافر کی مدت مسح کے لیے اپنانا جائز نہیں ہے۔‘‘ ختم شد

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جس نے سفر میں مسح کیا اور پھر مقیم ہو گیا تو اگر مدت باقی ہے تو وہ مقیم کے حساب سے مسح مکمل کرے گا، اور اگر مدت ختم ہو گئی ہے تو موزے اتار کر پاؤں دھوئے گا۔ مثال کے طور پر کوئی شخص مسافر ہے، اپنے وطن کے قریب پہنچا اور نماز کا وقت ہو گیا، اس نے وضو کرتے وقت موزوں پر مسح کر لیا اور پھر شہر میں داخل ہو گیا، تو اب وہ مقیم کے حساب سے مسح کرے گا۔ کیونکہ مسافر کے لیے مسح تین دن اور تین رات کا ہوتا ہے، لیکن سفر ختم ہونے کے بعد وہ مسافر نہیں رہا، اسی طرح جیسے وہ وطن لوٹنے کے بعد نماز قصر نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح مسافر والا مسح بھی نہیں کر سکتا۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: الشرح الممتع : (1/251)

آپ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
’’اگر کسی نے سفر کی حالت میں مسح کیا اور پھر مقیم ہو  گیا تو راجح قول یہ ہے کہ اگر کچھ مدت باقی ہے تو مقیم کے حساب سے مسح کی مدت مکمل کرے گا، اور اگر مقیم والی مدت پوری ہو گئی  ہے مسافر والی باقی ہے تو تب وضو کے وقت موزے اتار کر پاؤں دھوئے گا۔ [مسافر والی مدت نہیں اپنا سکتا۔] ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع فتاوی ابن عثیمین:  (11/176)

اس شخص کا حکم جس نے جرابوں پر مسح مقیم ہونے کی حالت میں کیا تھا پھر مسافر ہو گیا:

اگر معاملہ اس کے برعکس ہو، یعنی کسی نے پہلے مقیم کی حالت میں مسح کیا اور پھر سفر اختیار کیا تو وہ اب مسافر کے حساب سے مسح کرے گا، یعنی تین دن اور تین رات تک مسح کر سکتا ہے۔ اس مدت میں وہ وقت بھی شامل ہو گا جو اس نے مقیم ہوتے ہوئے مسح کی حالت میں گزارا تھا۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

موزوں اور جرابوں پر مسح

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android