یہودیت اور عیسائیت کو ’’آسمانی مذاہب‘‘ کہنا تفصیل کا متقاضی ہے:
اول:
جو شخص ان مذاہب کی اصل بنیاد اور ان کی وہ شریعتیں مراد لیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام پر نازل فرمائیں، اور ان میں جو کچھ اصل نازل شدہ تورات اور انجیل میں ہدایت اور روشنی کے طور پر موجود تھا، تو بلاشبہ اس لحاظ سے یہ مذاہب آسمانی ہیں۔ اسلام ان مذاہب کی تکمیل، ان پر نگران بن کر، اور ان کا ناسخ بن کر آیا ہے، اور قرآن کریم پہلے نازل شدہ الہامی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔
فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ترجمہ: بلاشبہ ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق اللہ کے فرمانبردار نبی ان لوگوں کے فیصلے کیا کرتے تھے۔ جو یہودی بن گئے تھے اور خدا پرست اور علماء بھی (اسی تورات کے مطابق فیصلے کرتے تھے) کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کی حفاظت کے ذمہ دار بنائے گئے تھے اور وہ اس کے (حق ہونے کی) شہادت بھی دیتے تھے ۔[المائدہ: 44]
پھر فرمایا:
وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ ترجمہ: اور ان پیغمبروں کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی نازل شدہ کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا تھا۔ ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی، یہ کتاب بھی اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی اور پرہیز گاروں کے لیے اس میں ہدایت بھی تھی اور نصیحت بھی ۔[المائدہ: 46]
پھر اللہ عزوجل نے فرمایا:
وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ترجمہ: اور ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اور اس کی جامع و نگران بھی ہے۔ [المائدہ: 48]
چنانچہ یہ کتابیں اپنی اصل میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ آسمانی کتابیں ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے ان امور میں جن میں وہ متفق ہیں، اور قرآن کی شریعت اپنے سے پہلے کی شریعتوں کو منسوخ کرنے والی ہے۔
دوم:
لیکن اگر کوئی شخص ’’آسمانی مذاہب‘‘ کا اطلاق اس دینی حالت پر کرتا ہے جس پر آج کے یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی ان کے بگڑے ہوئے عقائد، تبدیل شدہ کتابوں، اور منسوخ و بگڑی ہوئی شریعتوں کو ’’ آسمانی مذاہب‘‘ کہتا ہے تو یہ اطلاق باطل ہے اور درست نہیں؛ کیونکہ ان دونوں مذاہب میں ہونے والی تحریف نے ان کی موجودہ حالت اور آسمان سے نازل شدہ اصلی دین کے درمیان تعلق کو ختم کر دیا ہے، اس لیے اب موجودہ حالت میں یہ ادیان ہرگز آسمانی نہیں رہے، بلکہ اب یہ زمینی مذاہب بن چکے ہیں جنہیں ان کے علماء اور راہبوں نے گھڑا ہے، جن میں اللہ عزوجل کی -نعوذ باللہ – توہین، شرکیہ امور، تثلیث، انبیاء پر بہتان بازی، اور آخرت و حساب سے غفلت پائی جاتی ہے۔
اس تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ’’آسمانی مذاہب‘‘ کا اطلاق یہودیت اور عیسائیت پر بعثت محمدیہ کے بعد اگر اس پہلو سے کیا جائے کہ یہ مذاہب اپنی اصل میں نازل شدہ اور توحید پر مبنی تھے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، چنانچہ اس تعبیر کو بالکل رد کر دینا مناسب نہیں، اور نہ ہی اس تعبیر کو استعمال کرنے والے مسلمانوں پر اعتراض جائز ہے۔
اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ کئی علماء نے ان مذاہب پر گفتگو کرتے ہوئے اس اصطلاح کو استعمال کیا ہے ۔ ان کی گفتگو میں ’’آسمانی مذاہب‘‘ یا ’’آسمانی کتابیں‘‘ جیسی تعبیرات ہوتی ہیں، اور وہ ان سے ان مذاہب کی اصل نازل شدہ صورت مراد لیتے ہیں، خواہ بعد میں ان میں تحریف یا نسخ واقع ہو گیا ہو۔
جن علمائے کرام سے اس تعبیر کا استعمال ثابت ہے ان علمائے کرام میں سب سے نمایاں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م 728ھ) ہیں، جنہوں نے ایک اہم مقام پر اس اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے ’’سماوی‘‘ کا وصف ان آسمانی شریعتوں کے لیے ذکر کیا، اور پھر واضح کیا کہ اللہ کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
’’اور جہاں تک انبیاء علیہم السلام پر نازل شدہ آسمانی کتابوں کا تعلق ہے، تو وہ اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی سے ایسا دین قبول نہیں کرے گا جو دین حنیف نہ ہو، یعنی عام معنی میں اسلام: کہ وہ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرے، اور اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، اور آخرت پر ایمان رکھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
’’یقیناً جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی بنے، اور نصاریٰ اور صابئین میں سے جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ (البقرۃ: 62)
اسی طرح انبیائے سابقین اور ان کی امتوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی، جیسے کہ نوح علیہ السلام نے فرمایا:
فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
’’پھر اگر تم منہ موڑو، تو میں تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمہ ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمان بنوں۔‘‘ (یونس: 72)
اور ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ (130) إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (131) وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَابَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
’’اور ابراہیم کے دین سے وہی منہ موڑتا ہے جس نے اپنے آپ کو بے وقوف بنایا، اور یقیناً ہم نے انہیں دنیا میں چن لیا تھا، اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہو گا۔ [130] جب اس کے رب نے اس سے کہا: مسلمان ہو جا، تو اس نے کہا: میں رب العالمین کے لیے مسلمان ہو گیا۔ [131] اور ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو یہی وصیت کی: اے میرے بیٹو! یقیناً اللہ نے تمہارے لیے دین چن لیا ہے، لہٰذا تم صرف اسلام کی حالت میں ہی جان دینا۔‘‘ (البقرۃ: 130-132)
اور موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
يَاقَوْمِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ
’’اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو، تو اسی پر توکل کرو، اگر تم واقعی مسلمان ہو۔‘‘ (یونس: 84)‘‘ ختم شد
مجموع الفتاوى:( 35/188)
ان کے بعد ان کے شاگرد ابن قیم رحمہ اللہ (م 751ھ) نے بھی یہی اسلوب اپنایا اور فرمایا:
’’آسمانی کتابوں نے صراحت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت اور پیروی کو واجب قرار دیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سچے، سچ بولنے والے ہیں، آپ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے، بلکہ آپ کی زبان سے کہی ہوئی بات تو وحی ہوتی ہے جو آپ پر نازل کی جاتی ہے۔‘‘ ختم شد
إعلام الموقعين:( 1/5)
اسی طرح سعد الدین تفتازانی (م 743ھ) نے ’’شرح المقاصد‘‘ (4/50) میں کہا:
’’تو پھر آسمانی کتابیں اور احادیث نبویہ بے شمار مقامات پر اس کے ثبوت دہی کی طرف اشارہ کیوں کرتی ہیں؟‘‘
پھر بدر الدین عینی حنفی (م 855ھ) نے ’’نخب الأفکار‘‘ (7/41) میں کہا:
’’اور وہ کافر جو کسی باطل دین یا آسمانی کتاب پر اعتقاد رکھتا ہو۔۔۔ ‘‘
ایسے ہی ابو السعود (م 982ھ) نے ’’ارشاد العقل السلیم‘‘ (6/118) میں کہا:
’’{ لكل أمة } ترجمہ: ’’ ہر امت کے لیے ‘‘یہ کلام کا نیا آغاز ہے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہم عصر اہلِ ادیانِ سماویہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت سے باز رکھا جا سکے۔‘‘
پھر ان کے بعد علامہ آلوسی (م 1270ھ) نے ’’روح المعانی‘‘ میں (8/76) اور (9/185) پر، علامہ قاسمی (م 1332ھ) نے ’’اصلاح المساجد‘‘ (ص137) پر، علامہ محمد انور شاہ کشمیری (م 1353ھ) نے ’’العرف الشذی‘‘ (1/415) اور ’’فیض الباری‘‘ (1/246) میں، اور علامہ محمد رشید رضا (م 1354ھ) نے ’’الوحي المحمدي‘‘ (ص55) اور ’’تفسیر المنار‘‘ (1/278) میں اسی اصطلاح کا استعمال کیا۔
اسی طرح شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ (م 1420ھ) نے ’’مجموع فتاویٰ ابن باز‘‘ (1/309) میں اس اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے فرمایا:
’’حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ [یعنی بعض قوم پرست] اسلام کی سخت مخالفت کرتے ہیں، امت مسلمہ کے خلاف شدت سے برسرِ پیکار رہتے ہیں، جبکہ دوسرے مذاہب سے، خواہ وہ آسمانی ہوں یا زمینی، نرمی برتتے ہیں۔‘‘
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
’’قارئین کرام کو یہ جان لینا چاہیے کہ دین اسلام کے علاوہ تمام آسمانی مذاہب میں میں تحریف و تبدیلی ہو چکی ہے، اور اس تحریف و تبدیلی کی مقدار کا علم صرف اللہ تعالی کو ہی ہے۔‘‘ ختم شد
مجموع فتاوی ابن باز: ( 2/183)
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ (م 1421ھ) سے درج ذیل سوال کیا گیا:
’’ کیا ’’ادیانِ سماویہ‘‘ یعنی (آسمانی مذاہب) کی اصطلاح کا استعمال کرنا جائز ہے؟ واضح رہے کہ جب ہم یہ لفظ بولتے ہیں تو ہم گویا اس بات کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ کچھ مذاہب زمینی بھی ہیں۔ نیز کیا یہ تعبیر بدعت شمار ہوتی ہے، کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول نہیں؟
تو آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:
جی ہاں، ہم ’’ادیانِ سماویہ‘‘ یا ’’ آسمانی مذاہب‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں؛ کیونکہ کچھ مذاہب زمینی بھی ہیں، واضح رہے کہ دین وہ طریقہ ہوتا ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے، خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت سے ماخوذ ہو یا انسانوں کے گھڑے ہوئے طریقوں سے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ بعض لوگ غیر شرعی دین پر کار بند ہوتے ہیں، مثلاً وہ گائے کے پجاری ہوتے ہیں، یا بتوں کو سجدہ کرتے ہیں، اور دیگر ایسی بہت سی صورتیں ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ نہ تو کسی کتاب میں شریعت قرار دیا ہے، اور نہ ہی کسی نبی کی زبان پر بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ وہ دین، جس پر یہ لوگ کار بند ہیں، شریعتِ الٰہی سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس لیے وہ آسمانی دین بھی نہیں ہیں۔
چنانچہ ’’ادیانِ سماویہ‘‘ یا ’’ آسمانی مذاہب‘‘ سے مراد وہ دین ہیں جو اللہ عزوجل نے نازل فرمائے ہیں، اور انہیں سماویہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہہ یہ ادیان آسمان سے نازل ہوئے ہیں۔ البتہ سائل اور دیگر لوگوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ تمام آسمانی ادیان دینِ اسلام کے ذریعے منسوخ ہو چکے ہیں، اور اب ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں رہا جس پر بندہ اللہ عزوجل کے لیے عمل پیرا ہو سکے، کیونکہ جس ذات نے ان ادیان کو دین بنا کر اتارا تھا، اسی نے جناب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دین کے ذریعے ان سب کو منسوخ بھی کر دیا ہے۔
اور جیسے کہ نصاریٰ بھی اس بات کے معترف ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دین موسیٰ علیہ السلام کے دین میں سے بہت کچھ کو منسوخ کر چکا ہے، اور یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں پر واجب ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کریں، تو ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ: اسلام نصاریٰ پر لازم کرتا ہے کہ وہ اس دین کو اختیار کریں، بلکہ تمام اقوام پر واجب ہے کہ وہ اسلام کو اپنائیں، کیونکہ اللہ کی شریعت میں معتبر شریعت آخری ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقاً لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ
’’اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، مجھ سے پہلے تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہو گا۔‘‘ (الصف: 6)
یہ بشارت جو عیسیٰ علیہ السلام نے جناب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں دی، اس سے یہ لازم آتا ہے کہ بنی اسرائیل، خواہ وہ نصاریٰ ہوں یا یہود یا دیگر، ان سب پر لازم ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کریں، کیونکہ اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی رسالت ان کے لیے نہ ہوتی، تو اس بشارت کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ اگر انہیں اس رسالت سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا، تو اس کی بشارت دینا بالکل بے معنی ہے۔
خلاصہ یہ کہ میں کہتا ہوں: سائل اور دیگر لوگوں کو یہ بات بخوبی معلوم ہونی چاہیے کہ ہم اگرچہ ’’ادیانِ سماویہ‘‘ یا ’’ آسمانی مذاہب‘‘ کی تعبیر استعمال کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ادیان اب بھی باقی ہیں۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ سب ادیان صرف ایک دین، یعنی دینِ اسلام کے ذریعے منسوخ ہو چکے ہیں، اور اب وہ دین جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہے، اور جس پر بندوں کے لیے کار بند ہونا لازم ہے، صرف اور صرف اسلام ہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِيناً
’’اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔‘‘ (المائدہ: 3)
اور فرمایا:
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَامِ دِيناً فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ
’’اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو چاہے گا، تو وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔‘‘ (آل عمران: 85)
سوال: فضیلۃ الشیخ! تو کیا اس بنا پر ہمارے لیے ’’ادیانِ سماویہ‘‘ یا ’’ آسمانی مذاہب‘‘ کہنا جائز ہے؟
تو شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے جواب دیا:
ہمارے لیے ’’ادیانِ سماویہ‘‘ یا ’’ آسمانی مذاہب‘‘ کہنا جائز ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ یہ ادیان اب بھی صحیح سلامت اور قابل عمل ہیں۔ تو اس تعبیر کا اطلاق جائز ہے، لیکن اگر اس سے یہ مفہوم لیا جائے کہ یہ ادیان اب بھی صحیح سلامت باقی ہیں، اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں، تو اس صورت میں یہ تعبیر بغیر وضاحت کے جائز نہیں ہو گی۔ بلکہ اسے وضاحت کے ساتھ کہا جائے، کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ادیان جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں پر نازل کیے تھے، وہ آسمانی تھے، لیکن وہ — سوائے اسلام کے — اب منسوخ ہو چکے ہیں۔
سوال: فضیلۃ الشیخ! لیکن یہ زمینی ادیان تو حق پر نہیں !؟
تو شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے جواب دیا:
صرف زمینی ہی نہیں بلکہ وہ آسمانی ادیان بھی جو اپنے وقت میں حق تھے، وہ بھی اب دینِ اسلام کے بعد منسوخ ہو چکے ہیں۔ ‘‘ ختم شد
ماخذ: ’’فتاوى نور على الدرب‘‘ از ابن عثیمین (4/2، ترقیم شاملہ)
واللہ اعلم