پیشاب کی نجاست کو پاک کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ نجس جگہ پر پانی بہا دیا جائے، اور پانی نجاست سے زیادہ ہو تاکہ نجاست ختم ہو جائے اور اس کا اثر باقی نہ رہے۔ پانی بہانے کے بعد کپڑے کو نچوڑنا ضروری نہیں؛ کیونکہ جب نجاست زائل ہو گئی تو کپڑے میں باقی رہ جانے والا پانی پاک ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ شافعی فقہ کی کتاب ’’روضۃ الطالبین‘‘ (1 / 28)میں فرماتے ہیں:
’’صحیح قول کے مطابق طہارت حاصل ہونے کے لیے کپڑے کو نچوڑنا شرط نہیں۔‘‘ ختم شد
اور مالکی فقہ کی کتاب ’’مواهب الجلیل شرح مختصر خلیل‘‘ (1 / 250 - 251)میں ہے:
’’اسے نچوڑنا لازم نہیں۔‘‘ ختم شد
پھر اس کی شرح میں ہے:
’’یعنی جب نجس جگہ کو پاک پانی سے دھو لیا جائے اور پانی اس جگہ سے پاک حالت میں جدا ہو جائے تو نچوڑنا لازم نہیں؛ کیونکہ احادیث عام ہیں، اور جب یہ فرض کر لیا گیا کہ پانی پاک حالت میں جدا ہوا ہے تو کپڑے میں باقی رہ جانے والا پانی بھی اسی جدا ہونے والے پانی کے حکم میں ہے۔‘‘ ختم شد
اس بات کی دلیل کہ کپڑا وغیرہ پیشاب کی نجاست پر اتنا پانی بہانے سے پاک ہو جاتا ہے جو نجاست پر غالب آ جائے، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: ’’ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، تو لوگ اس کی طرف بڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسے مت روکو)۔ پھر آپ نے ایک ڈول پانی منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔‘‘ [صحیح بخاری: 6025، صحیح مسلم: 284]
قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام نجاستوں کو دھونے میں رگڑنا شرط نہیں، بلکہ جو نجاست مائع ہو اور چپکنے والی نہ ہو، اس میں صرف پانی بہا دینا کافی ہے؛ بخلاف اس نجاست کے جو خشک ہو چکی ہو یا چپکنے والی ہو۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’إکمال المعلم‘‘( 2 / 110 )
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ پانی کے مکمل خشک ہونے کو شرط قرار نہیں دیا جا سکتا؛ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو زمین کی طہارت خشک ہونے تک موقوف ہوتی۔ اسی طرح کپڑے کو نچوڑنا بھی شرط نہیں، کیونکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتح الباری: (1 / 325)
لہٰذا سوال میں ذکر کیے گئے دونوں طریقے طہارت کے لیے کافی ہیں؛ کیونکہ نجاست بہت معمولی ہے، یعنی ایک یا دو قطرے، اور آپ جس قدر پانی بہا رہے ہیں وہ عموماً اتنا کافی ہوتا ہے کہ نجاست کا اثر ختم ہو جائے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’راجح بات یہ ہے کہ نجاست جب بھی کسی بھی طریقے سے زائل ہو جائے تو اس کا حکم بھی ختم ہو جاتا ہے؛ کیونکہ حکم جب کسی علت کی وجہ سے ثابت ہو تو علت ختم ہونے سے حکم بھی ختم ہو جاتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (21 / 475)
واللہ اعلم