ہفتہ 15 شعبان 1440 - 20 اپریل 2019
اردو

طواف کی شرائط اور واجبات

سوال

طواف کی کون کون سی شرائط اور واجبات ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اہل علم نے کعبہ کا طواف صحیح ہونے کیلیے متعدد شرائط ذکر کی ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:

1- اسلام

اس شرط پر تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے، لہذا کسی کافر کی جانب سے طواف کرنا صحیح نہیں ہوگا؛ کیونکہ طواف عبادت ہے اور کافر کی عبادت نہ تو صحیح ہوتی ہے اور نہ ہی قبول کی جاتی ہے۔

2- عقل

یہ حنفی اور حنبلی فقہائے کرام کے ہاں  شرط ہے، البتہ مالکی اور شافعی فقہائے کرام عقل کی شرط نہیں لگاتے؛ اس کیلیے وہ چھوٹے اور شعور نہ رکھنے والے بچے کی جانب سے  طواف کے صحیح ہونے پر قیاس کرتے ہیں کہ اگر بچے کا سرپرست اس کی جانب سے نیت کر لے [تو بچے کا طواف صحیح ہو گا]۔

3- نیت

اس شرط پر بھی تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (بیشک اعمال کا دار و مدار  نیت پر ہے اور ہر شخص کیلیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی) بخاری: (1) مسلم: (1907)

4- ستر ڈھانپنا

لہذا اگر کوئی برہنہ حالت میں طواف کرے تو اس کا طواف صحیح نہیں ہو گا؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر یہ اعلان عام کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا کہ:  ([ہجرت کے نویں]سال  کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور نہ ہی کوئی برہنہ حالت میں طواف کرے) بخاری: (369) مسلم: (1347)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر برہنہ حالت میں  کوئی طواف کرے تو اس کا طواف صحیح نہیں ہوگا ؛ کیونکہ برہنہ حالت میں طواف کرنا ممنوع ہے، لہذا اگر طواف کرنا ممنوع ہے  تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ : (جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے)[اس لیے برہنہ حالت کا طواف بھی مردود ہو گا]" انتہی
"الشرح الممتع" (7/257)

5- طہارت

اس شرط کے بارے میں تفصیلی گفتگو سوال نمبر : (34695) میں پہلے گزر چکی ہے۔

6- جمہور اہل علم کے مطابق لباس اور جسم دونوں نجاست سے پاک ہوں ۔

اس کے متعلق اختلافی آرا اور تفصیلات پہلے سوال نمبر: (136742) کے جواب میں گزر چکی ہیں۔

7- سات چکر مکمل کرے۔

چنانچہ اگر کسی چکر کا ایک قدم بھی کم رہ جاتا ہے تو اس کا طواف مکمل نہیں ہوگا۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"طواف کیلیے سات چکر مکمل ہونا شرط ہے، ہر چکر حجر اسود سے شروع ہو کر اسی پر مکمل ہو گا، لہذا اگر ایک قدم بھی کم ہوا تو اس کا چکر مکمل نہیں ہوگا۔ چاہے طواف کرنے والا مکہ میں موجود ہو یا اپنے ملک میں واپس لوٹ چکا ہو، نیز اس کمی کا تدارک دم دینے یا کسی اور چیز سے بھی ممکن نہیں ہے" انتہی
"المجموع" (8/21)

8- بیت اللہ کو اپنی بائیں جانب رکھے۔

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  بیت اللہ کو بائیں جانب رکھتے ہوئے طواف کیا اور فرمایا: (تم مجھ سے حج عمرے کے مسائل سیکھ لو) اسے حدیث کو مسلم : (1297) نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

9- مکمل کعبہ کا طواف کرے۔

لہذا طواف کے چکر کو مختصر کرنے کیلیے حطیم کے اندر سے نہ گزرے، چنانچہ اگر کسی نے ایسا کیا تو  اس کا طواف صحیح نہیں ہوگا۔
مزید تفصیلات کیلیے آپ سوال نمبر: (46597) کا مطالعہ کریں۔

10- پیدل چلنے کی استطاعت رکھنے والا پیدل چلے۔

یہ جمہور اہل علم کا موقف ہے، لیکن شافعی فقہائے کرام  کا موقف جمہور سے الگ ہے۔

اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مجھے یہ محسوس ہوتا ہے  کہ ضرورت کے بغیر  اونٹ، کندھوں یا ویل چیئر  پر سوار ہو کر طواف کرنا جائز نہیں ہے، ضرورت یہ ہے کہ: انسان بیمار ہو یا بھیڑ اتنی زیادہ ہو کہ بوڑھا شخص برداشت نہ کر سکے؛ کیونکہ کچھ لوگ بھیڑ برداشت کر سکتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے، چنانچہ اگر عذر کی بنا پر سوار ہو کر طواف کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن عذر نہیں ہے تو طواف سوار ہو کر نہیں کرنا چاہیے" انتہی
ماخوذ از: " شرح کتاب الحج از صحیح بخاری" (1/83) مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق

11- طوف کے چکروں میں تسلسل قائم رکھے۔

اس شرط کی تفصیل پہلے سوال نمبر: (219227) کے جواب میں گزر چکی ہے۔

12- مسجد الحرام کے اندر طواف کرے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرنا واجب ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص مسجد کے باہر سے طواف کرے گا تو یہ مسجد کا طواف ہو گا بیت اللہ کا طواف نہیں ہو گا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"علمائے کرام کہتے ہیں کہ  طواف کے صحیح ہونے کیلیے یہ شرط ہے کہ مسجد الحرام کے اندر طواف ہو؛ اگر مسجد کے باہر سے طواف کرے تو یہ کفایت نہیں کرے گا؛ لہذا اگر کوئی شخص باہر سے مسجد الحرام کا طواف کرے تو یہ طواف صحیح نہیں ہو گا؛ کیونکہ اسے مسجد کے ارد گر د طواف کرنے والا تو کہا جائے گا بیت اللہ کے اردگرد طواف کرنے والا نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ جو لوگ مسجد کے اندر چاہے صحن میں کریں یا چھت پر  کہیں بھی طواف کرتے ہیں تو ان کا طواف صحیح ہے، اس لیے سعی کی جگہ پر طواف کرنے سے گریز کرنا چاہیے؛ کیونکہ سعی کی جگہ مسجد کا حصہ نہیں ہے" انتہی
ماخوذ از: " تفسیر سورة البقرۃ " (2/49)

13- طواف کی ابتدا حجر اسود سے کرے۔

لہذا اگر کوئی شخص بیت اللہ کے دروازے سے طواف شروع کرتا ہے تو اس کا طواف صحیح نہیں ہے ناقص ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کچھ لوگ طواف کی ابتدا کعبے کے دروازے سے کرتے ہیں، حجر اسود سے ابتدا نہیں کرتے، چنانچہ اگر کوئی شخص طواف کی ابتدا اور انتہا کعبے کے دروازے سے ہی کرتا ہے تو اس کا طواف مکمل نہیں ہو گا؛ کیونکہ اللہ تعالی کا حکم ہے:
وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ
ترجمہ: اور وہ [بیت عتیق یعنی ]پرانے گھر کا طواف کریں۔ [الحج: 29]
اور اس حکم پر عمل کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے طواف کی ابتدا فرمائی اور ساتھی ہی حکم دے دیا: (تم مجھ سے حج اور عمرے کا طریقہ سیکھ لو) اب جو شخص بیت اللہ کے دروازے سے طواف کی ابتدا کرے  یا حجر اسود کے سامنے آئے بغیر کسی اور سمت سے طواف کی ابتدا کرتا ہے تو اس کا یہ چکر مکمل نہیں ہو گا،  اگر اسے جلد ہی یاد آ جائے تو  ایک اور چکر لگا لے وگرنہ اسے پورا طواف شروع سے دوبارہ کرنا ہو گا" انتہی
ماخوذ از: " مجموع الفتاوى " (22/404)

یہ طواف کی شروط ہیں جن کے بغیر طواف صحیح نہ ہو گا ۔

جبکہ طواف کے واجبات کے متعلق اہل علم کا کہنا ہے کہ طواف کے بعد کی دو رکعات واجب ہیں، لیکن ان کے متعلق  صحیح موقف یہ ہے کہ یہ دو رکعتیں مستحب ہیں اور سنت ہیں یہی موقف شافعی اور حنبلی فقہائے کرام کا ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ طواف کے بعد والی دو رکعتوں کا حکم بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"یہ دو رکعتیں مقام ابراہیم کے پیچھے ہی ادا کرنا ضروری نہیں ہیں، بلکہ حرم میں کسی بھی جگہ پڑھی جا سکتی ہیں، اور اگر کوئی انہیں بھول جائے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ یہ سنت ہیں واجب نہیں ہیں" انتہی
"مجموع فتاوى شیخ ابن باز" (17/228)

اس کے علاوہ جتنے بھی واجبات ذکر کئے جاتے ہیں ان واجبات میں سے کچھ پہلے ہم شرائط میں بیان کر چکے ہیں تاہم کچھ علمائے کرام انہیں  شرط کی بجائے واجب قرار دیتے ہیں۔

مزید کیلیے آپ ایک تحقیقی مضمون بعنوان : "شروط الطواف" از ڈاکٹر عبداللہ زاحم حفظہ اللہ  کا مطالعہ کریں یہ  مضمون مجلة البحوث الإسلامية شمارہ نمبر: (53)  میں شائع ہوئی ہے، نیز ایک اور تحقیقی مضمون جو کہ بعنوان : "واجبات الطواف" سے اسی مجلے کے شمارہ نمبر (58) میں شائع ہوئی ہے اسے دیکھنا بھی مفید ہو گا۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں