کیا سنتیں اور نفل عبادات انسان کی چھوٹی ہوئی یا ناقص فرائض کی تلافی کر دیتی ہیں؟

6

سوال 286098

کیا سنتوں اور نوافل کے ادا کرنے سے وہ فرائض پورے ہو جاتے ہیں جو انسان سے رہ گئے ہوں یا جن میں اس نے کوتاہی کی ہو؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

فرائض میں جو کمی ہو یا ان کی ادائیگی میں کوتاہی رہ جائے، اس کی تلافی کے بارے میں صحیح حدیث وارد ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر وہ درست ہوئی تو وہ کامیاب اور نجات پانے والا ہے، اور اگر وہ خراب ہوئی تو وہ ناکام اور خسارے میں رہنے والا ہے۔ اگر اس کی فرض نمازوں میں کچھ کمی پائی جائے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل نماز ہے؟ اگر ہو تو اس کی فرض نمازوں کی کمی انہی نوافل سے پوری کر دی جائے۔ پھر باقی تمام اعمال کا حساب بھی اسی انداز سے ہو گا۔‘‘  اس حدیث کو ابو داؤد: 864 اور ترمذی: 413نے روایت کیا ہے اور البانی  نے اسے صحیح ابو داؤد: 810 میں صحیح قرار دیا ہے۔

اسی مفہوم کی ایک روایت حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر اس نے نماز پوری کی ہو گی تو وہ مکمل لکھی جائے گی، اور اگر کمی پائی گئی تو فرشتوں سے کہا جائے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل نماز ہے؟ اگر ہے تو اس کی فرض نماز کی کمی ان سے پوری کر دو۔ پھر زکاۃ کا حساب لیا جائے گا، اور اسی طرح دوسرے اعمال کا حساب ہو گا۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد: 16954نے روایت کیا ہے اور البانی  نے اسے صحیح ابو داؤد: 812 میں صحیح قرار دیا ہے۔

یہاں دو مسئلے قابلِ غور ہیں:

پہلا مسئلہ:
کیا نوافل اس فرض عبادت کی تلافی کر سکتے ہیں جسے انسان نے عمداً ترک کر دیا ہو یا فرض ادا تو کیا ہو لیکن اس میں عمداً کوتاہی کی ہو، یا نوافل صرف ایسی فرض متروک عبادت کا متبادل بنیں گے جو بھول کر رہ گئی ہو؟

اس حوالے سے علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (فتح الباری 5/144) میں فرماتے ہیں:
’’اس بارے میں علمائے کرام  کا اختلاف ہے کہ نوافل سے فرائض کی کمی کس طرح پوری کی جاتی ہے:
چنانچہ ایک گروہ نے کہا: اگر کسی نے نماز میں سہو یا بھول کی وجہ سے فرض یا سنت میں کمی کی ہو تو قیامت کے دن اس کی تلافی نوافل سے کر دی جائے گی، لیکن جس نے عمداً فرض یا سنت کو چھوڑا ہو، اس کے لیے نوافل سے کمی پوری نہیں کی جائے گی، کیونکہ نفل کی نیت فرض کی نیت کا بدل نہیں ہو سکتی۔ یہ قول امام عبد الملک بن حبیب المالکی وغیرہ کا ہے۔
جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول ہے، یعنی چاہے فرائض یا سنن کو عمداً ترک کیا ہو یا بھول سے، نوافل ان کی تلافی کریں گے۔ یہ قول حارث المحاسبی  سمیت دیگر اہل علم کا ہے ۔ یہی موقف ہمارے فقہائے کرام سمیت ابن عبد البر وغیرہ کا ہے، البتہ انہوں نے اسے غیرِ عمد کے ساتھ خاص کیا ہے۔
جبکہ بعض دیگر علمائے کرام  نے اسے عام رکھا ہے، اور -ان شاء اللہ-یہی قول اقرب الی الصواب (زیادہ ظاہر و راجح) ہے ۔‘‘ ختم شد

دوسرا مسئلہ:
کون سے نوافل فرائض کی تلافی کرتے ہیں؟

اس بارے میں تین احتمالات ہیں:

  1. پہلا احتمال: وہی نفل جو اسی فرض کے ساتھ مخصوص ہو، مثلاً ظہر کی سنتیں ظہر کے فرائض کی کمی پوری کریں، اسی طرح دیگر فرائض کا معاملہ ہے۔
  2. دوسرا احتمال: اسی نوع کی عبادت کے نوافل، مثلاً نفل نماز فرض نماز کی کمی پوری کرے، نفل صدقہ فرض زکاۃ کی کمی پوری کرے، اور اسی طرح دیگر عبادات میں۔
  3. تیسرا احتمال: ہر قسم کے نوافل فرائض کی تلافی کر سکتے ہیں، خواہ وہ اسی نوع سے نہ ہوں، مثلاً نفل روزے یا صدقات سے نماز کی کمی پوری ہو۔

حدیث  کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل عبادت، خواہ وہ اسی فرض کے لیے ہو یا اسی نوع سے، اس کے ذریعے اسی نوع کی فرض عبادت کی کمی پوری کی جاتی ہے۔

ملا علی القاری رحمہ اللہ (مرقاة المفاتيح 3/997) میں کہتے ہیں:
’’ هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ یعنی کیا میرے بندے کے اعمال میں کوئی نفل موجود ہے؟ اس سے مراد وہ نوافل ہیں جو فرض سے پہلے یا بعد میں ادا کیے گئے ہوں یا مطلق نفل ہوں۔‘‘  ختم شد

علامہ مظہری رحمہ اللہ (المفاتيح في شرح المصابيح 2/306) میں فرماتے ہیں:
’’حدیث کے الفاظ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ  کا مطلب یہ ہے کہ یہی اصول دوسری عبادات پر بھی لاگو ہو گا۔ اگر کسی نے فرض روزہ چھوڑا ہو تو اس کے بدلے نفل روزے لیے جائیں گے، اور اگر زکاۃ میں کمی ہو تو نفل صدقات سے اس کی تلافی ہو گی۔‘‘ ختم شد

تیسرا احتمال امام ابو القاسم العبادی الشافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ نفل خواہ کسی دوسری نوع کا ہو، وہ بھی فرائض کی تلافی کر سکتا ہے۔
چنانچہ آپ رحمہ اللہ (حاشیة تحفة المحتاج 2/219) میں فرماتے ہیں:

’’ مصنف: نوافل کو فرائض کی کمی پوری کرنے کے لیے بھی مشروع قرار دیا گیا ہے۔۔۔ الخ یعنی جب فرائض میں کمی ہو گئی تو پھر اس کی نفل عبادت سے یہ کمی پوری کی جائے گی، اسی طرح دیگر بقیہ عبادات کی کمی کو پور کیا جائے گا۔‘‘
’’مصنف کا  کہنا کہ ’’اس کی نفل عبادت ‘‘اس نفل پر بھی دلالت کر سکتا ہے جو اس فرض کے علاوہ نوعیت کا ہو۔ اس کی تائید حدیث کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے کہ (اگر اس کی فرض عبادت میں کمی پائی جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ اگر ہے تو اسی سے فرض کی کمی پوری کرو)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل خواہ غیرِ نوعی بھی ہو، وہ تلافی کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘ ختم شد

یعنی نفل عبادت، خواہ وہ اسی نوع سے نہ بھی ہو، ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے اس کے ذریعے فرائض کی کمی پوری کر دی جائے۔

البتہ ان تمام اقوال میں سے زیادہ قوی اور ظاہر قول یہی ہے کہ نفل عبادت اسی نوع کی فرض عبادت کی کمی پوری کرتی ہے، مثلاً نفل نماز فرض نماز کی، اور نفل صدقہ فرض زکاۃ کی۔

تاہم بندے کو چاہیے کہ وہ فرائض کے معاملے میں کوتاہی نہ کرے اور نوافل پر بھروسا نہ رکھے، کیونکہ بہت سے اہلِ علم کے نزدیک نوافل، عمداً ترک کی گئی فرض عبادت کی تلافی نہیں کر سکتیں، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔
پھر اصل معاملہ قبولیت پر موقوف ہے؛ کون جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرائض میں پائی جانے والی کوتاہی کے وقت نفل قبول کرے گا ؟

اللہ تعالیٰ نے حدیثِ قدسی میں فرمایا:
’’میرا بندہ میرا قرب پانے کے لیے جو بھی عمل کرتا ہے مجھے ان میں سے فرائض کی ادائیگی سب سے زیادہ محبوب عمل ہے، اور پھر میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔‘‘  صحیح بخاری: (6502)
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (49698) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android